وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر وفاق کو سخت پیغام دے دیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر اس مہینے این ایف سی ایوارڈ کے تحت طے شدہ رقوم نہ ملیں تو خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سرکاری افسران کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دہشتگردی کے حالات کا حل ہمارے پاس ہے۔ ہماری حکومت میں دہشتگردی ختم ہوئی تھی لیکن پھر حکومت گرا دی گئی۔ ہمیں بانی پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے پر تحفظات ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے الزام لگایا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے پی ٹی آئی کی حکومت گرائی، جس کے بعد ریاستی اداروں نے تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سرحدی علاقوں کی صحیح معلومات نہ ہوں تو جنگ کیسے لڑی جائے؟ ہم اپنی ذمہ داری نبھائیں گے اور عوام کو تحفظ دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ عوام، فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، جیسے کرک میں واقعے کے بعد ہوا۔ ہم کپیسٹی بلڈنگ کر رہے ہیں اور اچھے نتائج آ رہے ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ جس بات چیت پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے، اس پر عمل کیا جائے۔ کہا کہ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا، پورے خطے میں امن ممکن نہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ لوگ ہتھیار کیوں اٹھاتے ہیں۔ دل جیتے بغیر جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
افغان مہاجرین کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا سے کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔ ہم اپنی روایات کے مطابق عزت کے ساتھ واپسی چاہتے ہیں۔ جو جانا چاہتے ہیں، انہیں سہولیات دیں گے۔
وزیراعلیٰ نے این ایف سی ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں اجلاس کا وعدہ ہوا تھا، لیکن صدرمملکت کورونا کا شکار ہو گئے۔ ہم ان کی صحت یابی کی دعا کرتے ہیں اور امید ہے وہ اجلاس بلائیں گے۔ بصورت دیگر ہم تمام اداروں کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے۔ ہمیں لاوارث نہ سمجھا جائے۔
آخر میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، صرف مذاکرات کی بات ہے۔ ملاقات انہوں نے کی، مگر تردید کوئی اور کر رہا ہے۔ وہ ہر فورم پر بانی پی ٹی آئی کی جنگ لڑتے رہیں گے۔