Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, فروری 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خودمختار ساوی کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیر ون نمبر پلیٹ کے مالک ہلال وزیر کا خیبر نیٹ ورک پشاور سینٹر کا دورہ
    • لیبین افواج کے کمانڈر کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سيد عاصم منير سے ملاقات
    • بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
    • وزیراعظم پاکستان سے عالمی بینک کے صدر کی ملاقات، مختلف پروجیکٹس میں تعاون پر سراہا
    • وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری
    • وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات
    • بلوچستان مزید 22 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہوگئی
    • ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بنوں کی جامعہ میں بہتری کی نوید: بحران کے اندھیروں میں روشنی کی کرن
    بلاگ

    بنوں کی جامعہ میں بہتری کی نوید: بحران کے اندھیروں میں روشنی کی کرن

    جولائی 6, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Hopes of improvement at Bannu University: A ray of light in the darkness of crisis
    وی سی پروفیسر ڈاکٹر جہانزیب نے نہایت خاموشی مگر عزم کے ساتھ، جامعہ کے بگڑے ہوئے تعلیمی، مالی اور اخلاقی معاملات کا سنجیدہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، جو ایک عرصے سے بدانتظامی، اخلاقی زوال اور مالی بے ضابطگیوں کی دلدل میں دھنسی ہوئی تھی، اب شاید بہتری کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے ۔ نو تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہانزیب نے نہایت خاموشی مگر عزم کے ساتھ جامعہ کے بگڑے ہوئے تعلیمی، مالی اور اخلاقی معاملات کا سنجیدہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔

    ان کے ابتدائی اقدامات میں سب سے اہم قدم اقبال زمان کی فوری برطرفی تھا ۔ اقبال زمان وہ شخصیت ہے جو ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس کے متعدد کیسز میں نامزد رہا، جن کی تحقیقات وفاقی محتسب، سیٹیزن پورٹل اور دیگر اداروں کے ذریعے ہو چکی تھیں ۔ انہی رپورٹس کی روشنی میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے انہیں ڈائریکٹر اکیڈمکس کے عہدے سے ہٹا دیا تھا ۔ تاہم جامعہ کے بعض بااثر ملازمین، عزیزاللہ، ظفیراللہ اور صفدر غازی کی مبینہ ملی بھگت سے انہیں اسی عہدے پر غیر قانونی طور پر برقرار رکھا گیا ۔ اقبال زمان کے ہاتھوں دورانِ ملازمت متعدد داخلے اور تعلیمی امور سرانجام دیے گئے، جن کی حیثیت اب مشکوک ہے ۔ وائس چانسلر نے اس غیر قانونی تسلط کا فوری خاتمہ کر کے شفافیت کی بنیاد رکھ دی ہے، اور بعض سینئر افسران اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی برطرفی کا باضابطہ نوٹیفکیشن ہراسمنٹ کے الزام پر جاری کیا جائے ۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ وہی عناصر عزیزاللہ، صفدر غازی اور ظفیراللہ، جو ماضی میں اقبال زمان کے پشت پناہ رہے، وائس چانسلر کے خلاف صف آرا ہوتے جا رہے ہیں ۔

    مالی بدحالی کا عالم بھی کچھ کم نہیں رہا ۔ اس سال تک یونیورسٹی کی معیشت نازک ترین موڑ پر تھی، اور مختلف اجلاسوں میں شعبہ جاتی بقایاجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ صرف انگلش ڈیپارٹمنٹ سے تقریباً دو کروڑ روپے کے واجبات وصول طلب ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق عزیزاللہ نے فیس ریکارڈ میں سنگین بد عنوانی کی اور پچاس لاکھ روپے وصولی کے باوجود حسابات میں خردبرد کی کوشش کی ۔ طلبا سے آئندہ سمسٹر کی ایڈوانس فیس بھی لے لی گئی، جس کی باقاعدہ ترسیل یونیورسٹی کے خزانے تک نہیں کی گئی ۔ مگر خوش قسمتی سے وقت پر نشاندہی ہو گئی، جس پر عزیزاللہ سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے ۔

    اسی دوران جامعہ کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک قدم اور اٹھایا گیا ہے ۔ باہر سے ماہرین کو مدعو کیا گیا ہے جو CMS (کیمپس مینجمنٹ سسٹم) کے تحت ریکارڈ کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کریں گے ۔ اس عمل سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی، بلکہ گزشتہ برسوں کی ممکنہ مالی و انتظامی بدعنوانیاں بھی بے نقاب ہو سکیں گی ۔

    مزید براں، وائس چانسلر نے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ظفیراللہ کے بھائی احسان اللہ کی تنخواہیں منسوخ کر دی ہیں، جنہیں غیر قانونی طور پر ڈیلی ویجز پر ساٹھ ہزار ماہوار کے عوض بھرتی کیا گیا تھا ۔ ساتھ ہی ظفیراللہ سے اس ناجائز تقرری پر وضاحت بھی طلب کی گئی ہے ۔

    یہ تمام اصلاحاتی اقدامات دراصل ہماری گزشتہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں، جو سچ کی طاقت اور صحافت کی اثر انگیزی کا ثبوت ہیں ۔ اس رپورٹ پر نہ صرف جامعہ کی انتظامیہ نے ایکشن لیا بلکہ خفیہ اداروں نے بھی معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔ کئی طلباء، اساتذہ اور ملازمین کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں ۔

    جامعہ میں اصلاحات کا یہ عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن وائس چانسلر ڈاکٹر جہانزیب کے عزم اور جرات مندانہ فیصلوں نے امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے ۔ طلبہ، اساتذہ اور متعلقہ افراد کو اب ایک متحد آواز کے ساتھ شفافیت، انصاف اور احتساب کے اس عمل کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ یہ ادارہ واقعی علم، اخلاق اور ترقی کا مرکز بن سکے ۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ صحافت نے ایک بار پھر اپنا فرض ادا کیا ہے ۔ روشنی کی کرن دکھائی دی ہے، اور اب اس راہ کو چھوڑا نہیں جانا چاہیے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleملک بھر میں یوم عاشور کے تمام جلوس سخت سیکیورٹی میں پُرامن طور پر اختتام پذیر
    Next Article وزیراعظم شہبازشریف کی یوم عاشور پر زبردست انتظامات پر صوبائی حکومتوں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی تعریف
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں

    جنوری 27, 2026

    بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے

    جنوری 27, 2026

    جنوری 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خودمختار ساوی کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیر ون نمبر پلیٹ کے مالک ہلال وزیر کا خیبر نیٹ ورک پشاور سینٹر کا دورہ

    فروری 2, 2026

    لیبین افواج کے کمانڈر کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سيد عاصم منير سے ملاقات

    فروری 2, 2026

    بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

    فروری 2, 2026

    وزیراعظم پاکستان سے عالمی بینک کے صدر کی ملاقات، مختلف پروجیکٹس میں تعاون پر سراہا

    فروری 2, 2026

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری

    فروری 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.