Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔
    • امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔
    • امجدخان کو فلم ۔۔شعلے۔میں گبرسنگھ کا کردار کیسے اور کیوں افر کیا گیا۔۔۔۔۔؟
    • خیبرٹیلی ویژن کی ترقی کی داستان قمرزمان ( سکواش چمپئن ) کی زبان)
    • بختاور قیوم اور احمد شیر کا سوشل جنکشن دیکھئے ڈیجیٹل کی دنیا میں کےٹو اسلام آباد سے براہ راست۔۔۔۔
    • سیاسی سماجی اور خیبرپختونخواہ کے اصل حالات حاضرہ کی مستند اور حقیقی صورتحال کا مرکز خیبر نیوز پشاورکا( Cross Talk )
    • شینومینوشو۔۔میں زکی الرحمان اور جمشید کا زبردست ٹاکرا۔۔
    • پشتو ڈراموں میں ناقابل فراموش کردار ادا کرنیوالی یاسمین جعفر ی آج کسی کو یاد بھی نہیں ۔۔۔۔۔
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » حیات تحریر الشام کی تیزی سے پیش قدمی، حلب ور حماہ پر قبضہ، حمص نشانہ
    بلاگ

    حیات تحریر الشام کی تیزی سے پیش قدمی، حلب ور حماہ پر قبضہ، حمص نشانہ

    دسمبر 7, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    HTS Captures Aleppo Hama Next Target Is Homs
    حیات تحریر الشام کی پیش قدمی حلب کے بعد حماہ پر قبضہ
    Share
    Facebook Twitter Email

    شام میں جاری خانہ جنگی کی پیچیدہ صورتحال میں ایک نئی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق شدت پسند گروہ حیات تحریر الشام  کی قیادت میں باغیوں نے ایک ہی ہفتے میں دو بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ باغیوں نے حلب اور حماہ میں شامی فوج کو پسپائی پر مجبور کیا اور ان شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اب ان کا اگلا نشانہ حمص ہے، جو کہ شامی دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ تیز رفتار پیش قدمی شام میں جنگ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور بشارالاسد کی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئی ہے۔

    حلب اور حماہ پر قبضہ، باغیوں کی کامیابیاں

    گزشتہ ہفتے حیات تحریر الشام نے حلب پر اچانک اور حیرت انگیز حملہ کیا، جس کے بعد صرف چند گھنٹوں میں بڑے علاقے ان کے زیر قبضہ آگئے۔ باغیوں کی اس تیز کارروائی کے دوران شامی فوج کی دفاعی لائنیں ٹوٹ گئیں اور وہ اپنے اہم ٹھکانوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ اس حملے کے بعد، ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں اور ان کے اتحادیوں نے حماہ شہر میں شدید جھڑپوں کے بعد مرکزی جیل پر قبضہ کر لیا اور متعدد قیدیوں کو رہا کروا دیا۔ حماہ میں شامی فوج کی پسپائی کے بعد اس شہر کا کنٹرول باغیوں نے سنبھال لیا ہے۔

    اب حیات تحریر الشام کا اگلا ہدف حمص ہے، جو شام کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اس شہر کی اہمیت شامی حکومت کے لیے بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ دمشق کے قریب واقع ہے اور اس پر قبضہ کرنے سے باغی قوتیں بشارالاسد کی حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

    ایچ ٹی ایس کا مقصد، بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ

    حیات تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے حماہ میں "فتح” کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس جنگ کا مقصد صرف بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ ہے اور ملک میں ایک نئی حکومت قائم کرنا ہے جو ان کے نظریات کے مطابق ہو۔

    ایچ ٹی ایس کی بنیاد 2011 میں "جبھتہ النصریٰ” کے نام سے رکھی گئی تھی، جو کہ ایک شدت پسند تنظیم تھی اور براہ راست القاعدہ سے منسلک تھی۔ لیکن بعد میں اس نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور حیات تحریر الشام کے طور پر شامی حکومت کے خلاف جنگ جاری رکھی۔ یہ تنظیم شامی خانہ جنگی میں سب سے طاقتور اور مہلک گروپ سمجھی جاتی ہے اور اسے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

    شام کی تقسیم، بشار الاسد کا چیلنج

    شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک بشارالاسد کی حکومت نے مختلف قوتوں کے ساتھ معرکے کیے ہیں۔ یہ جنگ 2011 میں ایک پرامن بغاوت کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن بعد میں یہ ایک مکمل خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔ اس تنازعے میں اب تک پانچ لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

    شام اب چار مختلف حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے،ایک حصہ بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہے، دوسرا حصہ باغیوں کے قبضے میں ہے، تیسرا حصہ کردوں کے زیر انتظام ہے، اور چوتھا حصہ داعش کے زیر کنٹرول ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں کئی خود ساختہ مسلح گروہ بھی سرگرم ہیں جن کے مختلف نظریات اور وفاداریاں ہیں۔

    روس اور ایران کا کردار

    شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں سب سے بڑی قوتیں روس اور ایران ہیں۔ روس نے شامی فوج کو فضائی مدد فراہم کی، جبکہ ایران نے شام میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رکھی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں روس کی توجہ یوکرین کی جنگ کی طرف موڑ گئی ہے، جس کے باعث شامی حکومت کو زمین پر مزید مدد کی کمی کا سامنا ہے۔ اسی دوران، ایران کی حمایت میں بھی کچھ کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ حزب اللہ کی فوجی قوت میں کمی آچکی ہے۔

    اسرائیل کا کردار اور خطرات

    اسرائیل شام کی صورتحال میں ایک متحرک کھلاڑی ہے۔ اسرائیل نے شامی حکومت کے خلاف کئی فوجی کارروائیاں کی ہیں اور اس نے سنہ 2015 سے ایران اور حزب اللہ سے منسلک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے شروع کیے تھے۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت اس کے لیے براہ راست خطرہ نہیں ہے، کیونکہ اس نے اسرائیل کے ساتھ اپنی سرحدوں پر خاموشی یا امن برقرار رکھا ہے۔

    تاہم، اسرائیل کے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کا تسلسل اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ یہ وہ "شیطان ہے جسے ہم جانتے ہیں”۔ لیکن اسرائیل کے کچھ مبصرین کے مطابق، ایران اور حزب اللہ کے اثرورسوخ میں کمی کے پیش نظر باغی گروپوں کی حمایت کرنا اسرائیل کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    شامی عوام کی بدترین حالت

    شام کی صورتحال میں شہریوں کی حالت بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام کی آبادی 22 ملین تھی، جن میں سے آدھے بے گھر ہو چکے ہیں۔ تقریباً 20 لاکھ افراد کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 60 لاکھ سے زیادہ افراد نے ملک چھوڑ کر لبنان، اردن اور ترکی میں پناہ لی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ پناہ گزین ترکی میں ہیں، جہاں 50 لاکھ سے زائد شامی شہری موجود ہیں۔

    حیات تحریر الشام کی تیزی سے پیش قدمی نے شام میں جنگ کی صورت حال کو ایک نئی سمت دی ہے۔ حلب اور حماہ جیسے بڑے شہروں کا قبضہ باغیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، اور ان کا اگلا ہدف حمص ہے۔ اس کے ساتھ ہی، شام کی تقسیم اور مختلف قوتوں کی حمایت میں کمی نے علاقے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ جنگ کے اس نئے مرحلے میں شامی عوام کی حالت بدتر ہو چکی ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے مختلف کوششیں کر رہے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleڈی ایچ اے پشاور، خیبر نیٹ ورک اور خیبر ڈیجیٹل کے اشتراک سے ونٹر فیسٹ 2024 کا انعقاد
    Next Article سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 22 دہشت گرد ہلاک، 6 جوان شہید
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    جنوری 21, 2026

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    جنوری 21, 2026

    پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی

    جنوری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔

    جنوری 22, 2026

    امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔

    جنوری 22, 2026

    امجدخان کو فلم ۔۔شعلے۔میں گبرسنگھ کا کردار کیسے اور کیوں افر کیا گیا۔۔۔۔۔؟

    جنوری 22, 2026

    خیبرٹیلی ویژن کی ترقی کی داستان قمرزمان ( سکواش چمپئن ) کی زبان)

    جنوری 22, 2026

    بختاور قیوم اور احمد شیر کا سوشل جنکشن دیکھئے ڈیجیٹل کی دنیا میں کےٹو اسلام آباد سے براہ راست۔۔۔۔

    جنوری 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.