Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت
    • خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » لب بند، زبان بند، قلم بند ، نظر بند
    اہم خبریں اگست 15, 2024

    لب بند، زبان بند، قلم بند ، نظر بند

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) ایک ایسے وقت میں جب ہر چیز انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور موبائل فون میں سمٹ چکا ہے، دنیا فورجی سے فائیو جی کی طرف بڑھ چکی ہیں، ہم وآپس ٹوجی کے زمانے میں جا رہے ہیں، پاکستان میں انٹرنیٹ پر نئی پابندیاں یقینناً قابل تشویش ہیں کیونکہ اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،جنکے ہاتھ ہر وقت موبائل کرسر پر گھوم رہے ہوتے ہیں ایسے میں اگر نیٹ سلو ہوگا تو انکی انٹرنیٹ سرفنگ متاثر ہوگی، اور نتیجہ فریاد، دہائی اور تنقید کی شکل میں سب کے سامنے ہے۔

    محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں گیارہ کروڑ لوگ انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان ہیں، مطلب تقریباً 45 فیصد آبادی انٹرنیٹ پر موجود ہے، اگر سوشل میڈیا صارفین کی تعداد کو گنا جائیں تو یہ تقریباً سات کروڑ بنتی ہیں، پہلے فیس بک، ایکس اور اب ٹک ٹاک یہاں کے نوجوانوں کے مقبول سوشل میڈیا سائٹس ہیں، جہاں آپکو سیاست پر گفتگو سے لیکر  قابل سینسر انٹرٹینمنٹ تک ہر چیز ملتی ہیں، لیکن حالیہ کچھ عرصے سے سیاسی ماحول کو جواز بنا کر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے غیر اعلانیہ طور پر انٹرنیٹ کو سلو کردیا ہے، جسکی وجہ سے نہ صرف سیاسی ماحول میں گھٹن بڑھ رہی ہے بلکہ  ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، کل ہی ایک بائیک رائیڈر نے تاسف کیساتھ بتایا، کہ پہلے دن میں پندرہ بیس رائیڈز لیتا تھا، اب وہ تعداد آٹھ تک گر گئی ہیں، وجہ انٹرنیٹ سلو ہونے کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں دقت ہے۔ بات صرف رائیڈرز کی نہیں، بلکہ بہت سے فری لانسرز بھی اس صورتحال سے نہایت پریشان ہیں، یہ وہ لوگ ہے جو باہر سے کام پکڑ کر پاکستان میں ڈالرز لانے کا کام کرتے ہیں، اب انکا دھندہ بھی چوپٹ ہوچکا ہیں،  سنا ہے کہ کچھ فری لانسنگ ویب سائٹس نے پاکستانی فری لانسرز کو انٹرنیٹ سلو ہونے کی وجہ سے اپنی لسٹ سے عارضی طور پر ہٹایا ہے، بہت مشکل سے پاکستانی نوجواںوں نے عالمی مارکیٹ میں جو تھوڑی بہت جگہ بنائی تھی، وہ جگہ بھی اب بھارت، بنگلہ دیشن، کینیا اور ان جیسے دوسرے ممالک قبضہ کر لیں گے، اس سے ملک کو معاشی، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بے انتہا نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

    انٹرنیٹ سلو ہونے کی بظاہر بڑی وجہ ، بقول آئی ایس پی آر ڈیجٹل دہشتگردی ہے، یہ اصطلاح ان نوجوانوں اور سیاسی رہنماوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جو نو مئی پر ریاستی بیانیے کو ماننے سے منکر ہیں،یہ سیاسی منکرین اداروں اور انکی پالیسیوں پر تنقید سے لیکر اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر رکیک حملوں تک ہر دیوار کو پار کرنے پر یقن رکھتے ہیں،  ادارے نے ہر ممکن کوشش کی قیدی ۸۰۴ کی گرفتاری کے بعد سے بگڑتی صورتحال کو قابو کریں، لیکن آزاد انٹرنیٹ کے ہوتے ہوئے یہ مشکل تھا، تبھی تو فائر وال لگا کر انٹرنیٹ کو ٹو جی سپیڈ پر لایا گیا،سوال یہ بنتا ہے کہ   کیا اس سے حالات کنٹرول ہوجائینگے، ؟ جواب صاف ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ یہ جنرل ضیا کا زمانہ تھوڑی ہے، جو آپ سوچ وفکر پر قدغنیں لگا کر، کوڑے مار کر، اخبارات کے ڈکلیریشن منسوخ کر کے بدترین سینسر شپ لاگو کریں گے، یہ اکیسوی صدی ہے، جس میں کی بورڈ وارئیرز کے سامنے اپکی روایتی بند کرو والی پالیسی ٹکنے والی نہیں۔

    ایسا نہیں کہ یہ صرف پاکستان میں ہورہا ہے، چین میں یہاں سے بھی سخت فائر وال ہے، ویبو کے علاوہ وہاں باقی سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی مسدود ہیں، روس میں ٹیلی گرام کو چھوڑ کر باقی سوشل میڈیا کنٹرولڈ ہیں، ایران، ترکیے، سعودیہ، بلکہ خود امریکہ میں انٹرنیٹ کی ازادی کو روک لگائی جارہی ہیں تبھی تو ایکس پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاونٹ بند کیا گیا تھا، فیس بک، واٹس ایپ کی مدر کمپنی میٹا، اسرائیل سے متعلق خبروں کو دبانے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں۔

    ایک مادر پدر آزاد انٹرنیٹ یقینا ریاستی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی، اور جمہوری اقدار کے لیے خطرناک ہے، لیکن اسکا حل انٹرنیٹ بند یا سلو کرنا بھی نہیں، چونکہ اب ہر چیز انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی ہے، ہسپتال میں اپائمنٹ سے لیکر ان لائن ایجوکیشن تک ، انٹرنیٹ پر انحصار ناقابل واپسی ہے، بہتر ہوتا اگر ارباب اختیار ان سوشل میڈیاساٹس پر پہرے لگاتے جہاں سے انکو فساد کی بو  آتی ہے، باقی انٹرنیٹ کو آزاد رہنے دیتے، لیکن کیا کریں یہ تجویز بھی گریڈ اٹھارہ کے سرکاری بابو کی طرف سے آئی ہوگی، جس کو پرکھے بغیر اس کے اوپر اوکے کا جواب آیا ہوگا، اگر کاروبار نہیں ہوگا، تو بے روزگاری بڑھے گی، اور پھر جو فساد بڑھے گا کیا کسی نے اس بارے میں بھی کچھ سوچا ہے ؟؟؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleضم اضلاع کے 30 ہزار غریب گھرانوں کیلئے الگ سولر سکیم دینے کا فیصلہ
    Next Article سیکیورٹی فورسز کا کرم میں آپریشن،7 دہشتگردہلاک،5 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.