Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا
    • سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » لب بند، زبان بند، قلم بند ، نظر بند
    بلاگ اگست 15, 2024

    لب بند، زبان بند، قلم بند ، نظر بند

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) ایک ایسے وقت میں جب ہر چیز انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور موبائل فون میں سمٹ چکا ہے، دنیا فورجی سے فائیو جی کی طرف بڑھ چکی ہیں، ہم وآپس ٹوجی کے زمانے میں جا رہے ہیں، پاکستان میں انٹرنیٹ پر نئی پابندیاں یقینناً قابل تشویش ہیں کیونکہ اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،جنکے ہاتھ ہر وقت موبائل کرسر پر گھوم رہے ہوتے ہیں ایسے میں اگر نیٹ سلو ہوگا تو انکی انٹرنیٹ سرفنگ متاثر ہوگی، اور نتیجہ فریاد، دہائی اور تنقید کی شکل میں سب کے سامنے ہے۔

    محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں گیارہ کروڑ لوگ انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان ہیں، مطلب تقریباً 45 فیصد آبادی انٹرنیٹ پر موجود ہے، اگر سوشل میڈیا صارفین کی تعداد کو گنا جائیں تو یہ تقریباً سات کروڑ بنتی ہیں، پہلے فیس بک، ایکس اور اب ٹک ٹاک یہاں کے نوجوانوں کے مقبول سوشل میڈیا سائٹس ہیں، جہاں آپکو سیاست پر گفتگو سے لیکر  قابل سینسر انٹرٹینمنٹ تک ہر چیز ملتی ہیں، لیکن حالیہ کچھ عرصے سے سیاسی ماحول کو جواز بنا کر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے غیر اعلانیہ طور پر انٹرنیٹ کو سلو کردیا ہے، جسکی وجہ سے نہ صرف سیاسی ماحول میں گھٹن بڑھ رہی ہے بلکہ  ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، کل ہی ایک بائیک رائیڈر نے تاسف کیساتھ بتایا، کہ پہلے دن میں پندرہ بیس رائیڈز لیتا تھا، اب وہ تعداد آٹھ تک گر گئی ہیں، وجہ انٹرنیٹ سلو ہونے کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں دقت ہے۔ بات صرف رائیڈرز کی نہیں، بلکہ بہت سے فری لانسرز بھی اس صورتحال سے نہایت پریشان ہیں، یہ وہ لوگ ہے جو باہر سے کام پکڑ کر پاکستان میں ڈالرز لانے کا کام کرتے ہیں، اب انکا دھندہ بھی چوپٹ ہوچکا ہیں،  سنا ہے کہ کچھ فری لانسنگ ویب سائٹس نے پاکستانی فری لانسرز کو انٹرنیٹ سلو ہونے کی وجہ سے اپنی لسٹ سے عارضی طور پر ہٹایا ہے، بہت مشکل سے پاکستانی نوجواںوں نے عالمی مارکیٹ میں جو تھوڑی بہت جگہ بنائی تھی، وہ جگہ بھی اب بھارت، بنگلہ دیشن، کینیا اور ان جیسے دوسرے ممالک قبضہ کر لیں گے، اس سے ملک کو معاشی، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بے انتہا نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

    انٹرنیٹ سلو ہونے کی بظاہر بڑی وجہ ، بقول آئی ایس پی آر ڈیجٹل دہشتگردی ہے، یہ اصطلاح ان نوجوانوں اور سیاسی رہنماوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جو نو مئی پر ریاستی بیانیے کو ماننے سے منکر ہیں،یہ سیاسی منکرین اداروں اور انکی پالیسیوں پر تنقید سے لیکر اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر رکیک حملوں تک ہر دیوار کو پار کرنے پر یقن رکھتے ہیں،  ادارے نے ہر ممکن کوشش کی قیدی ۸۰۴ کی گرفتاری کے بعد سے بگڑتی صورتحال کو قابو کریں، لیکن آزاد انٹرنیٹ کے ہوتے ہوئے یہ مشکل تھا، تبھی تو فائر وال لگا کر انٹرنیٹ کو ٹو جی سپیڈ پر لایا گیا،سوال یہ بنتا ہے کہ   کیا اس سے حالات کنٹرول ہوجائینگے، ؟ جواب صاف ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ یہ جنرل ضیا کا زمانہ تھوڑی ہے، جو آپ سوچ وفکر پر قدغنیں لگا کر، کوڑے مار کر، اخبارات کے ڈکلیریشن منسوخ کر کے بدترین سینسر شپ لاگو کریں گے، یہ اکیسوی صدی ہے، جس میں کی بورڈ وارئیرز کے سامنے اپکی روایتی بند کرو والی پالیسی ٹکنے والی نہیں۔

    ایسا نہیں کہ یہ صرف پاکستان میں ہورہا ہے، چین میں یہاں سے بھی سخت فائر وال ہے، ویبو کے علاوہ وہاں باقی سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی مسدود ہیں، روس میں ٹیلی گرام کو چھوڑ کر باقی سوشل میڈیا کنٹرولڈ ہیں، ایران، ترکیے، سعودیہ، بلکہ خود امریکہ میں انٹرنیٹ کی ازادی کو روک لگائی جارہی ہیں تبھی تو ایکس پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاونٹ بند کیا گیا تھا، فیس بک، واٹس ایپ کی مدر کمپنی میٹا، اسرائیل سے متعلق خبروں کو دبانے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں۔

    ایک مادر پدر آزاد انٹرنیٹ یقینا ریاستی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی، اور جمہوری اقدار کے لیے خطرناک ہے، لیکن اسکا حل انٹرنیٹ بند یا سلو کرنا بھی نہیں، چونکہ اب ہر چیز انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی ہے، ہسپتال میں اپائمنٹ سے لیکر ان لائن ایجوکیشن تک ، انٹرنیٹ پر انحصار ناقابل واپسی ہے، بہتر ہوتا اگر ارباب اختیار ان سوشل میڈیاساٹس پر پہرے لگاتے جہاں سے انکو فساد کی بو  آتی ہے، باقی انٹرنیٹ کو آزاد رہنے دیتے، لیکن کیا کریں یہ تجویز بھی گریڈ اٹھارہ کے سرکاری بابو کی طرف سے آئی ہوگی، جس کو پرکھے بغیر اس کے اوپر اوکے کا جواب آیا ہوگا، اگر کاروبار نہیں ہوگا، تو بے روزگاری بڑھے گی، اور پھر جو فساد بڑھے گا کیا کسی نے اس بارے میں بھی کچھ سوچا ہے ؟؟؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleضم اضلاع کے 30 ہزار غریب گھرانوں کیلئے الگ سولر سکیم دینے کا فیصلہ
    Next Article سیکیورٹی فورسز کا کرم میں آپریشن،7 دہشتگردہلاک،5 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.