Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • اسلام آباد:سی این جی سٹیشن میں دھماکے سے ایک شخص جاں بحق، 3 افراد زخمی
    • اقتصادی اور مالیاتی استحکام کے بعد بنیادی اقتصادی اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
    • گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک
    • سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار
    • مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کا دورہ مکمل کر کے وطن واپس روانہ
    • کور ہیڈ کوارٹرز پشاور: عوامی حمایت سے دہشت گردوں اور ان کے گمراہ کن نظریے کو مکمل شکست دیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
    • معدنیات پر پہلا حق عوام اور دوسرا صوبےکا ہوگا،سہیل آفریدی محفوظ ہاتھوں میں ہیں،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی یقین دہانی کرائی ہے،گورنر فیصل کنڈی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نقل کے خلاف جہاد، لیکن انداز اور اثرات کا ادراک بھی ضروری ہے, آصف علی یوسفزئی
    بلاگ اپریل 15, 2025

    نقل کے خلاف جہاد، لیکن انداز اور اثرات کا ادراک بھی ضروری ہے, آصف علی یوسفزئی

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبرپختونخوا میں تعلیمی امتحانات کا موسم ہے۔ ان دنوں چیئرمین پروفیسر جہانزیب مردان بورڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف بیانات اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں وہ نقل کو "تعلیم کا ناسور” قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی یہ کوششیں قابلِ تحسین ضرور ہیں، لیکن ان کا انداز، الفاظ کا چناؤ اور پیشکش کا طریقہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    (ارسلان) کا واقعہ — ایک طالبعلم کی دیانتداری

    امتحانات سے قبل ایک قابل طالبعلم، ارسلان، چیئرمین صاحب سے ملاقات کے لیے دفتر پہنچا۔ وہ کارٹلنگ کالج کا فرسٹ ایئر سٹوڈنٹ تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے چیئرمین کی وہ تمام ویڈیوز دیکھی ہیں جس میں نقل کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا۔ چیئرمین صاحب کی باتوں سے متاثر ہو کر وہ خود سے وعدہ کر چکا تھا کہ وہ نہ صرف نقل سے دور رہے گا بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بنے گا۔ ملاقات کے دوران جذباتی منظر بھی دیکھنے کو ملا جب وہ چیئرمین سے بغلگیر ہو کر رو رہا تھا، گویا وہ امید لے کر آیا ہو کہ دیانتداری کی قدردانی کی جائے گی۔ چیئرمین صاحب نے بھی دلاسہ دیا، اسے سراہا اور عزم دہرایا کہ "اب کوئی نقل نہیں کرے گا، ہر طالبعلم اپنی محنت سے آگے جائے گا۔”
    یہ لمحہ بظاہر ایک مثبت پیغام تھا، لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک اس کا انداز، ماحول اور اسے میڈیا پر پیش کرنے کا طریقہ ناقدین کے لیے قابلِ اعتراض تھا۔

    چیئرمین صاحب کی مہم — ارادہ مضبوط، انداز کمزور؟

    چیئرمین مردان بورڈ نے جس سختی سے نقل کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اپنے مشن میں سنجیدہ ہیں۔ کئی مراکز پر کارروائیاں ہوئیں، جی ایچ ایس نوشہرہ خیشکی میں پیپر آؤٹ کے بعد فوری ایکشن لیا گیا، متعلقہ عملہ معطل ہوا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے کمر کس لی ہے۔

    لیکن سوشل میڈیا پر مسلسل سخت بیانات، اسکولوں کو لائسنس منسوخی کی دھمکیاں، اور بار بار کی گئی تنبیہات کا انداز ایسے وقت میں جب طلبہ ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں، کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق امتحان سے پہلے خوف اور دباؤ کی کیفیت تعلیمی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ طلبہ کو حوصلہ، اعتماد اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ دھمکیوں سے لبریز پیغامات۔

    سرکاری منصب کا وقار اور سوشل میڈیا پروٹوکول

    چیئرمین صاحب کی حالیہ ویڈیوز میں ایک بات بار بار نوٹ کی گئی —وہ اپنے دفتر میں ایک نیم رسمی لباس (آدھی آستین کی ٹی شرٹ)، غیررسمی اندازِ نشست
    میز پر جھک کر، ہاتھ باندھ کر بیٹھے ہیں، جو کہ ایک رسمی، باوقار طرزِ گفتگو کے برعکس انداز ہے۔

    پس منظر میں قومی پرچم اور دفتر کی تختی موجود ہے۔ یہ تمام علامات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ ایک سرکاری منصب پر براجمان ہیں۔

    ایسے میں جب وہ قوم سے مخاطب ہوں، خصوصاً تعلیم جیسے حساس شعبے میں، تو ضروری ہے کہ وہ اپنے لباس، انداز، زبان اور ماحول کا خیال رکھیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر دیا گیا ہر پیغام صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ مکمل تاثر چھوڑتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں موجود ایک ذمہ دار فرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ وقار، تمیز اور تہذیب کا پیکر ہو تاکہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کو عملی رہنمائی حاصل ہو۔

    اصلاحات کی اصل بنیاد — نقل سے پہلے نصاب، تدریس، اور تیاری

    نقل صرف امتحان کے دن کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک مجموعی نظامی کمزوری کی علامت ہے۔ اگر تعلیمی ادارے، اساتذہ، اور طلبہ سال بھر تدریس، تربیت اور تیاری کے مراحل میں سنجیدہ ہوں تو نقل کی نوبت ہی نہ آئے۔ چیئرمین صاحب کی اصلاحی مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے انہیں چاہیے کہ وہ سسٹم میں جڑ سے اصلاح کی کوشش کریں —

    نقل کی وجوہات – کہاں ہے خرابی؟

    سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار کمزور ہے

    اساتذہ کی تربیت ناکافی ہے

    والدین کی عدم دلچسپی

    سلیبس غیر معیاری اور ناقابلِ فہم

    تعلیمی لیڈرشپ میں وژن کی کمی

    حل کیا ہے؟

    اساتذہ کی جدید تربیت

    سلیبس کی سادہ اور مفید تشکیل

    بچوں میں اعتماد پیدا کرنے والے پیغامات

    سوشل میڈیا پر اصلاحی اور ہمدردانہ رویہ

    والدین، اساتذہ اور طلباء کے درمیان بہتر ہم آہنگی

    اگر ایجوکیشن کے اداروں کے سربراہان مسلسل میڈیا پر آ کر اپنی کارروائیوں، فیصلوں یا سزاؤں کے بارے میں بیانات دیتے ہیں، تو اس سے تعلیمی اداروں کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ ان کی ذاتی تشہیر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا اثر طلبہ، اساتذہ، اور تعلیمی نظام پر منفی پڑ سکتا ہے۔ اس لیے، ایجوکیشن کے شعبے کے رہنماؤں کو میڈیا کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ ان کی توجہ صرف تعلیمی اصلاحات اور معیار کی بہتری پر مرکوز ہو، نہ کہ عوامی نمائش پر.

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleانسانیت کے دشمن دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملائیں گے، صدر مملکت،وزیراعظم
    Next Article کرک میں مسافر وین اور ٹرالر میں تصادم، خاتون اور بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق
    Web Desk

    Related Posts

    اسلام آباد:سی این جی سٹیشن میں دھماکے سے ایک شخص جاں بحق، 3 افراد زخمی

    اکتوبر 23, 2026

    اقتصادی اور مالیاتی استحکام کے بعد بنیادی اقتصادی اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

    اکتوبر 23, 2026

    گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک

    اکتوبر 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    اسلام آباد:سی این جی سٹیشن میں دھماکے سے ایک شخص جاں بحق، 3 افراد زخمی

    اکتوبر 23, 2026

    اقتصادی اور مالیاتی استحکام کے بعد بنیادی اقتصادی اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

    اکتوبر 23, 2026

    گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک

    اکتوبر 23, 2026

    سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار

    اکتوبر 23, 2026

    مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کا دورہ مکمل کر کے وطن واپس روانہ

    اکتوبر 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.