تیمرگرہ: ڈسٹرکٹ پریس کلب تیمرگرہ کے صحافیوں نے سینئر صحافی اور خیبر نیوز کے نمائندے محمد اسرار خان پر حملے اور دیگر صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا، اس موقع پر صحافیوں نے پریس کلب سے ریلی نکالی اور مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کے حق میں نعرے درج تھے ۔
تیمرہ گرہ: مظاہرین نے واقعے کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پریس کلب تیمرگرہ کے ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین روح اللہ شاکر نے اپنے کطاب میں کہا کہ صحافی محمد اسرار خان پر حملہ دراصل آزادی صحافت پر حملہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے کر ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں ۔
مقررین نے مزید کہا کہ اگر صحافیوں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا اور ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔
مظاہرے میں ڈسٹرکٹ پریس کلب تیمرگرہ کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی اور آزادیٔ صحافت کے حق میں بھرپور آواز بلند کی ۔

