Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, جون 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر
    • وزیر اعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا
    • پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکر نے طالبان رجیم کے بے بنیاد دعویٰ کی قلعی کھول دی
    • قومی اسمبلی اجلاس: عالمی امن کےلیے عظیم مصالحانہ کردار پر اظہار تشکر کی متفقہ قرارداد منظور
    • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج فلاپ، باشعور کشمیری عوام نے انتشاری کمیٹی کو مسترد کر دیا
    • فتنہ الہندوستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا ناکام، 3 نوجوانوں کا شدت پسند گروہ سے لاتعلقی کا اعلان
    • 2023 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس لوٹے، یو این ایچ سی آر
    • حکومت کا پاسپورٹ نظام مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر

    جون 19, 2026Updated:جون 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور: خیبر پختونخوا کا مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے لئے دو ہزار ایک سو ستر ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔

    بجٹ میں اڑتالیس ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ دو ہزار ایک سو ستر ارب جبکہ مجموعی محاصل کا تخمینہ دو ہزار ایک سو بائیس ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    اس طرح بجٹ میں اڑتالیس ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے ۔

    ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کہا کہ خسارہ پورا کرنے کے لئے نیا قرضہ نہیں لیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

    صوبے کو وفاقی محصولات کی مد میں پندرہ سو چوراسی ارب ترانوے کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جن میں پن بجلی کے مد میں موجودہ سال کا منافع اور بقایاجات بھی شامل ہیں۔

    صوبے کے اپنے محاصل ایک سو بیاسی ارب اکتالیس کروڑ روپے ظاہر کئے گئے ہیں۔

    صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے دو سو پینتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    اخراجات جاریہ کا تخمیہ سولہ سو پینتالیس ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کا تخمیہ پانچ سو چوبیس ارب لگایا گیا ہے ۔

    صوبے میں امان و امان کی بہتری کے لئے پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب انتالیس کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں پولیس کے لئے جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیوں، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز کی خریداری کے لئے ساڑھے چودہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں نئے سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے جب کہ پشاور میں فرانزک لیبارٹری قائم کی جائے گی۔

    تعلیم کا مجموعی بجٹ 468 ارب سینتیس کروڑ روپے کر دیا گیا۔

    ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 10.34 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    صوبے میں 72 چیف منسٹر ماڈل سکول قائم کیے جائیں گے جس کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    پشاور کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے چھتیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلی نے کہا کہ پشاور میں نیا رنگ روڈ تعمیر کیا جائے گا ۔ سرکاری جامعات کے لئے گرانٹ ان ایڈ بڑھا کر 11 ارب اسی کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

    ٹرائیبل میڈیکل کالج کا قیام کے لئے اس سال بجٹ میں اڑتیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    صوبے میں 14 نئے گورنمنٹ کالجز کی تعمیر کے لیے چھتیس کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

    نوجوانوں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جا ئے گا ۔

    صحت کے شعبے کے لئے 334 ارب اسی کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    صحت کارڈ پلس کا بجٹ بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے فنڈز بڑھا کر 14.2 ارب روپے کر دیئے گئے ہیں، ایم ٹی آئیز اسپتالوں کا بجٹ بڑھا کر 80 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    پشاور میں نئے جنرل ہسپتال کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے مختص ہیں کئے گئے ہیں ۔

    مقامی حکومتوں کا بجٹ 90 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    احساس مستحقین پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    بی آر ٹی آپریشنل سبسڈی اور بسوں کی خریداری کے لیے ساڑھے سات ارب روپے مختص کیے ہیں۔

    ہزارہ ڈویژن کے لیے 200 ارب روپے مالیت کا ترقیاتی پیکج شامل کیا گیا ہے۔

    ”احساس کسان” پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

    KP assembly KP Budget 2026-27 احساس کسان پروگرام بی آر ٹی پشاور پاکستان معیشت پشاور پنشن میں اضافہ پولیس بجٹ ترقیاتی پروگرام تعلیم بجٹ تنخواہوں میں اضافہ خیبر پختونخوا بجٹ خیبر پختونخوا حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام سرکاری ملازمین صحت کارڈ پلس صوبائی بجٹ کم از کم اجرت ہزارہ ترقیاتی پیکج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیر اعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا
    Saqib Butt

    Related Posts

    وزیر اعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا

    جون 19, 2026

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکر نے طالبان رجیم کے بے بنیاد دعویٰ کی قلعی کھول دی

    جون 19, 2026

    قومی اسمبلی اجلاس: عالمی امن کےلیے عظیم مصالحانہ کردار پر اظہار تشکر کی متفقہ قرارداد منظور

    جون 19, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر

    جون 19, 2026

    وزیر اعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا

    جون 19, 2026

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکر نے طالبان رجیم کے بے بنیاد دعویٰ کی قلعی کھول دی

    جون 19, 2026

    قومی اسمبلی اجلاس: عالمی امن کےلیے عظیم مصالحانہ کردار پر اظہار تشکر کی متفقہ قرارداد منظور

    جون 19, 2026

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج فلاپ، باشعور کشمیری عوام نے انتشاری کمیٹی کو مسترد کر دیا

    جون 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.