Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر
    اہم خبریں جون 19, 2026

    خیبر پختونخوا کا 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور: خیبر پختونخوا کا مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے لئے دو ہزار ایک سو ستر ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔

    بجٹ میں اڑتالیس ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ دو ہزار ایک سو ستر ارب جبکہ مجموعی محاصل کا تخمینہ دو ہزار ایک سو بائیس ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    اس طرح بجٹ میں اڑتالیس ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے ۔

    ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کہا کہ خسارہ پورا کرنے کے لئے نیا قرضہ نہیں لیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

    صوبے کو وفاقی محصولات کی مد میں پندرہ سو چوراسی ارب ترانوے کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جن میں پن بجلی کے مد میں موجودہ سال کا منافع اور بقایاجات بھی شامل ہیں۔

    صوبے کے اپنے محاصل ایک سو بیاسی ارب اکتالیس کروڑ روپے ظاہر کئے گئے ہیں۔

    صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے دو سو پینتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    اخراجات جاریہ کا تخمیہ سولہ سو پینتالیس ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کا تخمیہ پانچ سو چوبیس ارب لگایا گیا ہے ۔

    صوبے میں امان و امان کی بہتری کے لئے پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب انتالیس کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں پولیس کے لئے جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیوں، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز کی خریداری کے لئے ساڑھے چودہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں نئے سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے جب کہ پشاور میں فرانزک لیبارٹری قائم کی جائے گی۔

    تعلیم کا مجموعی بجٹ 468 ارب سینتیس کروڑ روپے کر دیا گیا۔

    ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 10.34 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    صوبے میں 72 چیف منسٹر ماڈل سکول قائم کیے جائیں گے جس کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    پشاور کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے چھتیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلی نے کہا کہ پشاور میں نیا رنگ روڈ تعمیر کیا جائے گا ۔ سرکاری جامعات کے لئے گرانٹ ان ایڈ بڑھا کر 11 ارب اسی کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

    ٹرائیبل میڈیکل کالج کا قیام کے لئے اس سال بجٹ میں اڑتیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    صوبے میں 14 نئے گورنمنٹ کالجز کی تعمیر کے لیے چھتیس کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

    نوجوانوں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جا ئے گا ۔

    صحت کے شعبے کے لئے 334 ارب اسی کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    صحت کارڈ پلس کا بجٹ بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے فنڈز بڑھا کر 14.2 ارب روپے کر دیئے گئے ہیں، ایم ٹی آئیز اسپتالوں کا بجٹ بڑھا کر 80 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    پشاور میں نئے جنرل ہسپتال کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے مختص ہیں کئے گئے ہیں ۔

    مقامی حکومتوں کا بجٹ 90 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    احساس مستحقین پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    بی آر ٹی آپریشنل سبسڈی اور بسوں کی خریداری کے لیے ساڑھے سات ارب روپے مختص کیے ہیں۔

    ہزارہ ڈویژن کے لیے 200 ارب روپے مالیت کا ترقیاتی پیکج شامل کیا گیا ہے۔

    ”احساس کسان” پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

    KP assembly KP Budget 2026-27 احساس کسان پروگرام بی آر ٹی پشاور پاکستان معیشت پشاور پنشن میں اضافہ پولیس بجٹ ترقیاتی پروگرام تعلیم بجٹ تنخواہوں میں اضافہ خیبر پختونخوا بجٹ خیبر پختونخوا حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام سرکاری ملازمین صحت کارڈ پلس صوبائی بجٹ کم از کم اجرت ہزارہ ترقیاتی پیکج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیر اعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا
    Next Article بنوں میں سڑک کنارے دو بم دھماکے،7 افراد جاں بحق، 3 زخمی
    Saqib Butt

    Related Posts

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.