Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • انڈر 19 ورلڈ کے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست، انگلینڈ نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
    • قانون کی تعلیم کی بہتری کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد، جدید اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق
    • قازقستان کے صدر قاسم جومارت دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 1835 پوائنٹس کا اضافہ
    • خیبر کے علاقے باڑہ شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد
    • ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر مسلح افراد کا حملہ، 4 پولیس اہلکار زخمی
    • کیا ایک شخص کی رہائی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے ؟
    • شہید پولیس اہلکار توصیف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن خیبر شاکس میں ادا، سرکاری اعزاز کیساتھ سپردِ خاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردی اور سیکیورٹی پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے نامعقول بیانات، حقیقت یا سازش ؟
    بلاگ

    دہشت گردی اور سیکیورٹی پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے نامعقول بیانات، حقیقت یا سازش ؟

    اپریل 7, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister's unreasonable statements on terrorism and security, truth or conspiracy?
    سرحد پار دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ مقامی انتظامیہ کی ناکامی ہے، جو دہشت گردی اور غیرقانونی سرگرمیوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان:۔

    ایک نجی ٹيلیوژن کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے دہشت گردی اور سیکیورٹی کی صورتحال پر متنازعہ موقف اختیار کرتے ہوئے فوجی آپریشنز کو غیر مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے بغیر کسی دلیل کے پاک- افغان سرحد پر لگائے ہوئے باڑ پر بھی سوالات اٹھا دیئے ۔ ان کے مطابق، فوج کے ماضی میں کئے گئے کے آپریشنز ناکام رہے کیونکہ دہشت گرد دوبارہ ان علاقوں میں متحرک ہو گئے، جبکہ بارڈر فینسنگ پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سرحدی سیکیورٹی کمزور ہے۔

    تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے گئے تمام فوجی آپریشنز "clear, hold, build, transfer” کی حکمت عملی کے تحت انجام دیے گئے۔ فوج نے "clear” اور "hold” کے مراحل میں کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجے میں 46,978 مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا گیا اور ان کے تمام مراکز تباہ کر دیے گئے۔ لیکن "build” اور "transfer” کے مراحل، جو مقامی و صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھے، ناکافی ثابت ہوئے، جس سے گورننس کی خلا پیدا ہوئی اور دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی ہی کے دور حکومت میں کئی دہشت گردوں کو مصالحتی پالیسی کے تحت ڈیٹینشن سینٹرز سے رہا کیا گیا، جو رہائی کے بعد دوبارہ دہشت گرد گروہوں میں شامل ہو گئے۔ اسی دوران، خیبر پختونخوا کی انسداد دہشت گردی فورس (CTD) موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ اس وقت صوبے میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی تعداد محض 537 ہے، جو کہ مطلوبہ تعداد سے کہیں کم ہے۔

    صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ (WoT) کی مد میں 2010-11 سے لے کر اب تک 561.4 ارب روپے مل چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2024-25 میں 108 ارب روپے وصول ہوئے۔ اسی طرح، NFC ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو 2010-11 سے اب تک 4,786 ارب روپے ملے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں 903 ارب روپے دیے گئے۔ اس کے علاوہ، سالانہ ترقیاتی منصوبے (ADP) کے تحت 115.5 ارب روپے اور Accelerated Implementation Plan کے تحت 147.6 ارب روپے بھی دیے گئے، لیکن صوبائی حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث یہ فنڈز سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں مؤثر طور پر استعمال نہ ہو سکے۔

    سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے دعوے بھی زمینی حقائق سے متصادم ہیں۔ اب تک پاک-افغان بارڈر پر %98 (خیبر پختونخوا میں %98.95 اور بلوچستان میں %96.65) اور پاک-ایران بارڈر پر %91 فینسنگ مکمل ہو چکی ہے۔ مغربی سرحد پر %78 بارڈر فورٹس کی تعمیر بھی مکمل کر لی گئی ہے، جن میں پاک-افغان بارڈر پر %92 اور پاک-ایران بارڈر پر %40 شامل ہیں۔ یہ سب کچھ سیکیورٹی اہلکاروں کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا، جنہوں نے سرحدی باڑ اور فورٹس کی تنصیب کے دوران اپنی جانیں نچھاور کیں۔

    سرحد پار دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ مقامی انتظامیہ کی ناکامی ہے، جو دہشت گردی اور غیرقانونی سرگرمیوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ، افغان حکومت کا عدم تعاون بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاک-افغان بارڈر پر پاکستان کی جانب سے 1,452 چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں، جبکہ افغانستان کی جانب سے صرف 267 چیک پوسٹس قائم کیئے گئے ہیں۔ شواہد موجود ہیں کہ افغان حکام غیرقانونی نقل و حرکت اور دہشت گرد عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ 2024 میں 59,775 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جبکہ 2025 میں اب تک 11,654 آپریشنز ہو چکے ہیں۔ قبائلی علاقوں کا %72 حصہ بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد سے پاک کیا جا چکا ہے۔ 2024-25 کے دوران دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں 536 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 1,250 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر 180 سے زائد IBOs کیے جا رہے ہیں، تاکہ ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات محض بیانیہ ہیں یا حقیقت، اس کا فیصلہ عوام خود کریں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں سیکیورٹی فورسز اور عوام ہی دے رہے ہیں، جبکہ حکومتی نااہلی کے باعث گورننس ویکیوم کو پر کرنے کے لیے سیکیورٹی ادارے ہر روز اپنے لہو سے سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار
    Next Article کاٹلنگ میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ماضی کے آپریشنز کی روداد!
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    کیا ایک شخص کی رہائی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے ؟

    فروری 2, 2026

    ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں

    جنوری 27, 2026

    بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے

    جنوری 27, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    انڈر 19 ورلڈ کے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست، انگلینڈ نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    فروری 3, 2026

    قانون کی تعلیم کی بہتری کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد، جدید اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق

    فروری 3, 2026

    قازقستان کے صدر قاسم جومارت دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    فروری 3, 2026

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 1835 پوائنٹس کا اضافہ

    فروری 3, 2026

    خیبر کے علاقے باڑہ شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    فروری 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.