پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری دفاتر کی ریفریشمنٹ کے لیے 37 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق یہ رقم سرکاری اجلاسوں اور دفتری سرگرمیوں کے دوران چائے، کافی، بسکٹ، کیک، سینڈوچ، سموسے، پکوڑوں اور کولڈ ڈرنکس سمیت دیگر ریفریشمنٹ کے اخراجات کے لیے رکھی گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں اسی مد میں 22 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال اس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کے بعض ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر، صنعتی سرگرمیوں میں کمی، کاروباری مشکلات، گندم اسکینڈل، مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بے روزگاری، تعلیمی مسائل، جنوبی اضلاع کی امن و امان کی صورتحال اور ضلع اورکزئی کے بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی واپسی جیسے مسائل بدستور توجہ طلب ہیں۔
مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں عوامی وسائل کے استعمال اور اخراجات کی ترجیحات پر شفافیت اور مؤثر نگرانی ضروری ہے تاکہ سرکاری فنڈز عوامی فلاح اور بنیادی ضروریات پر زیادہ سے زیادہ خرچ کیے جا سکیں۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اس خبر کو اس کے ساتھ بھی اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے تاکہ معاملے کے تمام پہلو قارئین کے سامنے رکھے جا سکیں۔

