Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر پھٹ پڑے
    • کراچی میں شدید گرمی کے باعث 8 افراد جاں بحق ،شانگلہ میں بارش اور ژالہ باری ، موسم سرد ہو گیا
    • سوات:سیلاب متاثرین کو معاوضہ نہ مل سکا، تاجروں کا حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت، احتجاج کی دھمکی
    • بحیرۂ عرب: پاک بحریہ کا ریسکیو آپریشن، بھارتی عملے کو ہنگامی امداد کی فراہمی جاری
    • راولپنڈی: پولیس کی بڑی کارروائی، بھارتی شہری گرفتار
    • دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی، پاکستان کی بھارت سے وضاحت طلب
    • ایران کا امریکی جنگ بندی تجویز پر غور جاری، پاکستان کے ذریعے پیغام موصول ہونے کی تصدیق
    • نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف کیس کو فُل کورٹ کے سامنے رکھا جائے ،سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز کا چیف جسٹس کو خط
    اہم خبریں

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف کیس کو فُل کورٹ کے سامنے رکھا جائے ،سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز کا چیف جسٹس کو خط

    نومبر 5, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Letter of the two senior judges of the Supreme Court to the Chief Justice.
    کمیٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے کاز لسٹ جاری کی جانی چاہیے،خط کا متن
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز  جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں شامل سینئر موسٹ ججز جسٹس منصور شاہ اور جسٹس منیب نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر ججز کمیٹی کے فیصلے کے مطابق 26 ویں ترمیم کا کیس فل کورٹ میں لگانے کا کہا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان کے نام لکھے گئے ججز کے خط کے مطابق  31 اکتوبر کی کمیٹی میٹنگ میں 26 ویں ترمیم کا کیس فل کورٹ میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا مگر کمیٹی فیصلے کے باوجود کوئی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ 2  ججز نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ 26 ویں ترمیم کے خلاف کیس 4 نومبر کو فل کورٹ میں سنا جائے گا  اور 2 رکنی ججز کمیٹی کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔

    ججز کےخط  کے مطابق کمیٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے کاز لسٹ جاری کی جانی چاہیے اور  اسی ہفتے 26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستیں فل کورٹ کے سامنے رکھی جائیں۔

    جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں 31 اکتوبر کے میٹنگ منٹس رجسٹرار کو ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا میں تدریسی عمل معطل
    Next Article سرکاری حج کے اخراجات کتنے ہوں گے ؟وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2025 کی منظوری دیدی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر پھٹ پڑے

    مئی 4, 2026

    سوات:سیلاب متاثرین کو معاوضہ نہ مل سکا، تاجروں کا حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت، احتجاج کی دھمکی

    مئی 4, 2026

    بحیرۂ عرب: پاک بحریہ کا ریسکیو آپریشن، بھارتی عملے کو ہنگامی امداد کی فراہمی جاری

    مئی 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر پھٹ پڑے

    مئی 4, 2026

    کراچی میں شدید گرمی کے باعث 8 افراد جاں بحق ،شانگلہ میں بارش اور ژالہ باری ، موسم سرد ہو گیا

    مئی 4, 2026

    سوات:سیلاب متاثرین کو معاوضہ نہ مل سکا، تاجروں کا حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت، احتجاج کی دھمکی

    مئی 4, 2026

    بحیرۂ عرب: پاک بحریہ کا ریسکیو آپریشن، بھارتی عملے کو ہنگامی امداد کی فراہمی جاری

    مئی 4, 2026

    راولپنڈی: پولیس کی بڑی کارروائی، بھارتی شہری گرفتار

    مئی 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.