پی ٹی آئی والوں کے پاس اپنا کوئی تگڑا اپوزیشن لیڈر نہیں ، یا بانی پی ٹی آئی اپنے رہنماوں پرقومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ؟اس سوال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی یخ فضاوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے ! اور اگر یہ کہا جائے کہ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، تو بالکل غلط نہ ہوگا ۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی خود کو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دے رہی ہے لیکن قومی اسمبلی میں عمر ایوب کی نااہلی کے بعد اپوزیشن لیڈر جیسے اہم ترین عہدے کیلئے ان کے پاس ایک بھی ایسا رہنما نہیں جو اس عہدے کیلئے مناسب ہو؟ سوال تو مگر یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی علی امین گنڈاپور کے ذریعے ممکن نہ ہوئی تو ان کو مکھن سے بال کی مانند نکالنے کے بعد سخت گیر سیاسی کارکن سہیل آفریدی کو آج کے ایک کمزور ترین صوبے کا وزیراعلیٰ بنایا گیا اور اس کے کمزور کندھوں پر بانی نے اپنی رہائی کا اتنا برا بوجھ ڈال دیا کہ اب وہ کریں تو کیا کریں، جائیں تو کہاں جائیں ؟
خیبر پختونخوا میرا بھی صوبہ ہے لیکن اس کو کمزور ترین اس لئے لکھا کہ گزشتہ 14 سال سے زائد عرصے سے میرے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن پی ٹی آئی کارکنوں کے علاوہ کسی کو اس بدقسمت صوبے میں بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے ۔ اس صوبے سے تعلق ہونے کے ناطے سب کچھ دیکھ کر اور جان کر بھی ہم جیسے صحافت کے طالب علم صرف تنقید ہی کر سکتے ہیں اور پھر اس پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا جو ردعمل آتا ہے ،اس سے گالیاں بھی شرمندہ ہو جاتی ہیں ۔لیکن ہم نے نہ تو کسی سیاسی جماعت کے کہنے پر صحافت کے شعبے کا انتخاب کیا ہے اور نہ ہی کسی کے کہنے پر چھوڑ سکتے ہیں۔ صحافت خون کے آخرے قطرے تک جاری رہے گی،غلط کو غلط کہتے رہیں گے اور درست کام کی ستائش بھی جاری رہے گی ۔ ان شا اللہ
بات پی ٹی آئی کے بانی کے فیصلوں کی ہو رہی تھی اور کہاں سے کہاں نکل گئی ،اپنے اصل موضوع کی جانب آتے ہیں ، بانی پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں علی امین گنداپور کو وزیراعلیٰ بنایا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے خلاف شراب اور اسلحے سمیت دیگر کئی کیسز درج ہیں لیکن پھر قرعہ ان کے نام کا ہی نکالا گیا، مقصود اور کچھ نہیں بلکہ صوبے کو تباہ کرکے صرف اپنی رہائی تھا ، گنڈاپور صاحب تو اس میں ناکام رہے اس لئے صوبہ اب ایک ایسے شخص کے حوالے کرنا تھا جس کا کسی قسم کا کوئی تجربہ نہیں تھا ،اس بار بھی مقصد ایک ہی تھا کہ صوبے کو تباہ کرکے اپنی رہائی یقینی بنائی جائے ۔ لیکن اب تک تو سہیل آفریدی بھی اس میں ناکام نظر آرہے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ وہ پنجاب اور سندھ کے دوروں میں بھیڑ جمع کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن دونوں صوبوں میں اب ان کا دوبارہ جانا ممکن بھی نہیں ہوگا ۔
اب آتے ہیں پی ٹی آئی کے بانی کی جانب سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے پختونخوا میپ کے سربراہ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمودخان اچکزئی کی تعیناتی کے معاملے پر ، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا کہ گنڈاپور صاحب اور سہیل آفریدی صاحب بانی کو جیل سے رہا کروانے میں اب تک ناکام رہے ہیں ، اس لئے بانی پی ٹی آئی کو محسوس ہوا کہ ان کی رہائی صرف ایک صوبے کو استعمال کرکے ممکن نہیں ہو رہی تو انہوں نے نیا طریقہ اپناتے ہوئے اپنی پارٹی کے اس بیانئے کو مسترد کردیا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ، میرےمنہ میں خاک ، لیکن اگر واقعی پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے تو وہ اپنے بانی کو رہا کرنے میں ناکامی سے کیوں دوچار ہے ؟
ایک سوال تو یہ بھی ہے کہ بانی اپنے ہی پارٹی کے سینئر رہنماوں پر اعتماد کیلئے کیوں تیار نہیں ؟ اور اس کیلئے وہ دیگر جماعتوں کے قائدین پر کیوں اعتماد کر رہے ہیں ؟
بانی پی ٹی آئی جب سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ کی کرسی سے علیحدہ ہوئے ہیں وہ خو کو آج بھی ملک کا وزیراعظم ہی تصور کرتے ہیں، دوسری جانب ان کے کارکن بضد ہیں کہ وہ ملک و قوم کیلئے قربانی دے رہے ہیں اور کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے ، سوال تو مگر یہ بھی کہ اگر وہ سمجھوتہ نہیں کرینگے تو پھر وہ باہر آنے کیلئے نت طریقے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟بانی نے صوبہ خیبرپختونخوا کے مستقبل کو کیوں داو پر لگا دیا ہے ؟
سوال بہت ہو گئے اب اصل مقصد کی طرف آتے ہیں ، بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ ان کی حیثیت خیبر پختونخوا سے ہی کیا پورے ملک سے بہت بڑی ہے ، بس کسی طرح ان کے تمام کیسز ختم ہو جائیں ، وہ بری ہو جائیں اور باہر آکر کیسے بھی ہو وزیراعظم بنے اور وہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے انتقام لیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتقام لینے کی سوچ کسی کو لیڈر نہیں بنا سکتی ، چاہے پی ٹی آئی والے مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ عالمی سیاست کے رہنما اصول ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ چلیں تسلیم کرلیں کہ یہ باہرآ جائیں گے اور یہ اسٹیبلشمنٹ اور مخالف سیاسی جماعتوں سے انتقام بھی لے لیں گے لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ جب یہ دوبارہ وزیراعظم بنیں گے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا ، ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں شروع ہو جائیں گی ،ملک کے مسائل کا حل ان کے پاس ہوتا تو صوبہ خیبر پختونخوا پر توجہ دیتے ، صوبے کے لوگوں نے بانی پر اعتماد کا اظہار تین بار کیا لیکن انہوں نے صوبے کے باسیوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ سب کے سامنے ہے ، رہی بات اسٹیبلشمنٹ کی اور صوبے میں موجود دہشتگردوں کے خاتمے کی ، تو اس کا حل تو پاک فوج کی کارروائیوں کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ۔ اگر کوئی اور حل ہوتا تو پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبے کے رہنما بتا دیتے؟
دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ کیا بانی پی ٹی آئی جب خود وزیراعظم تھے تو کیا وہ ملک بھر میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن رکوا گئے تھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بالکل نہیں ۔ کیونکہ دہشتگردوں کا خاتمہ کرنا پاک فوج کا کام ہے کسی سیاسی جماعت کا کام بالکل نہیں ، دہشتگردوں کے ساتھ کئی معاہدے ہوئے لیکن پھر بھی ملک بھر میں بالعموم اور خیبر پختونخوا میں بالخصوص سب سے زیادہ دہشتگردی ہے اور اس کا حل صرف فوج آپریشنز ہیں ۔

