Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر ٹیلی ویژن میرا دوسرا گھر ہے جہاں میری خدمات کو ہمیشہ سراہا گیا: نوشابہ
    • پشاور میں بارشوں اور زلزلے سے پرتھوی راج کپور اور دلیپ کمار کے آبائی مکانات منہدم
    • ایران کو صرف ایک رات میں ختم کرسکتے ہیں اور وہ منگل کی رات ہوسکتی ہے،امریکی صدر کی نئی دھمکی
    • پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز نے راولپنڈیز کو 7 وکٹوں سے شکست دیدی
    • پاکستان کی سفارتی کاوشیں، امریکہ-ایران تنازعے کے حل کی جانب بڑی پیش رفت: ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ کی تجویز پر غور
    • ایران اور امریکہ کو جنگ بندی کیلئے جامع منصوبہ ’اسلام آباد اکارڈ‘ موصول ہو گیا: برطانوی میڈیا
    • طورخم بارڈر بندش: افغانستان میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کو واپسی میں مشکلات
    • بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے روابط کے ثبوت پیش کر دیے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر
    بلاگ

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر

    جولائی 6, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism Returns to Khyber Pakhtunkhwa Amid Rising Militant Activity
    Security Challenges Deepen in Khyber Pakhtunkhwa with New Wave of Violence
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبرپختونخوا خصوصاً قبائلی اضلاع، ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پرتشدد واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے، جو اپنے خود ساختہ "آپریشن الخندق” کے تحت مختلف دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ اس تنظیم نے یہ آپریشن چند ماہ قبل شروع کیا تھا اور اس کے تحت سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت متعدد پرتشدد کارروائیاں انجام دی جا چکی ہیں۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ بھی میدان میں سرگرم ہے۔ اس گروپ سے وابستہ کئی چھوٹے گروہ، جن میں "اسود الحرب” نامی ذیلی تنظیم بھی شامل ہے، مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان تنظیموں کی سرگرمیوں میں تیزی سے نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق خیبر اور جنوبی اضلاع میں تین شدت پسند گروپوں  لشکر اسلام، تحریک انقلاب اسلامی اور اتحاد المجاہدین پاکستان  نے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا ہے۔ یہ اتحاد مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہے اور حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔ ان گروہوں کا مقصد مقامی آبادی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرنا ہے، اور بظاہر وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں حکومت پر اعتماد کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، جس کا فائدہ شدت پسند عناصر اٹھا رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کی موجودہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی محض ردعمل پر مبنی ہے۔ کسی واقعے کے بعد جوابی کارروائی تو کی جاتی ہے، مگر پیشگی روک تھام پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک فعال حکمت عملی اختیار کی جائے جس کے تحت ان تنظیموں کو منظم ہونے سے پہلے ہی غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت ایک نئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ماضی میں "آپریشن ضرب عضب” اور "راہ نجات” جیسے اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کا بڑی حد تک صفایا کیا گیا تھا، لیکن اب وہی شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کا مستقل حل اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔

    حال ہی میں بعض علاقوں میں ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ان حملوں میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز جدید فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کیمرے والے کواڈ کاپٹرز ہوتے ہیں جن کے ساتھ دیسی ساختہ بم باندھ دیے جاتے ہیں۔ ان ڈرونز کا نشانہ اکثر درست نہیں ہوتا جس کے باعث جانی نقصان کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس بھی بڑھ رہا ہے۔

    اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے، تاہم شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ صرف فزیکل سکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ انٹیلیجنس، مقامی شراکت داری اور سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہیں۔

    مجموعی طور پر خیبرپختونخوا ایک سنگین سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسند گروہوں کی منظم واپسی، عوام کا حکومتی اداروں سے بڑھتا ہوا عدم اعتماد، اور سکیورٹی پالیسیوں کی خامیاں، سب مل کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران پورے ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحضرت امام حسین علیہ السلام نے باطل کے خلاف ابدی جدوجہد کی علامت قائم کی،صدر مملکت اور وزیراعظم کا یومِ عاشور پر خصوصی پیغام
    Next Article سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے نیا پروسیجر 2025 جاری کردیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پاکستان کی سفارتی کاوشیں، امریکہ-ایران تنازعے کے حل کی جانب بڑی پیش رفت: ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ کی تجویز پر غور

    اپریل 6, 2026

    بلوچستان پولیس میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار: خاموش مگر طاقتور انقلاب

    اپریل 4, 2026

    پشاور امن جرگہ اور قومی سلامتی۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر ٹیلی ویژن میرا دوسرا گھر ہے جہاں میری خدمات کو ہمیشہ سراہا گیا: نوشابہ

    اپریل 7, 2026

    پشاور میں بارشوں اور زلزلے سے پرتھوی راج کپور اور دلیپ کمار کے آبائی مکانات منہدم

    اپریل 7, 2026

    ایران کو صرف ایک رات میں ختم کرسکتے ہیں اور وہ منگل کی رات ہوسکتی ہے،امریکی صدر کی نئی دھمکی

    اپریل 6, 2026

    پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز نے راولپنڈیز کو 7 وکٹوں سے شکست دیدی

    اپریل 6, 2026

    پاکستان کی سفارتی کاوشیں، امریکہ-ایران تنازعے کے حل کی جانب بڑی پیش رفت: ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ کی تجویز پر غور

    اپریل 6, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.