میر یار بلوچ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے بلوچستان میں مساجد کوشہید کیا، مقدس کتابوں کو نذرِ آتش کیا اور علمائے کرام کو اغوا کیا۔ یہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ وطن عزیز کے خلاف ایک منظم غیر ملکی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے نام پر بنے ملک میں مساجد اور مقدس کتابوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا ؟
حقیقت بالکل واضح ہے کہ میر یار بلوچ بلوچ عوام کا نمائندہ نہیں ہے۔ وہ بغیر کسی عوامی مینڈیٹ کے بھارت سے کام کر رہا ہے اور اس کے بیانات کو بھارتی میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔کیونکہ وہہدوتوا کی خواہشات کو پورا کرنے کا کام کر رہا ہے ، اس لئے یہ معلوماتی جنگ (Information Warfare) کی ایک واضح مثال ہے، جس کا مقصد مصنوعی غم و غصہ پیدا کرنا اور پاکستان کو ظالم کے طور پر پیش کرنا ہے۔مزید یہ کہ اس کا بیانیہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے دہشت گرد بارہا عام شہریوں، سکولوں اور حتیٰ کہ مساجد کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان حقائق کو نظر انداز کر کے میر یار بلوچ ایک جانبدار اور گمراہ کن تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کا ایجنڈا بلوچ عوام کی فلاح یا حقوق کے بجائے بھارتی سٹریٹجک مفادات سے ہم آہنگ اور بھارتی حکومت پر پلنے والے ایک ایجنٹ سے زیادہ کچھ نہیں ۔
پاکستان نے ہمیشہ بلوچستان میں امن و امان کو یقینی بنایا ہے اور مذہبی مقامات کی وسیع پیمانے پر تباہی کے الزامات کی کسی بھی معتبر مقامی یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہوتی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ میر یار بلوچ کے بیانات کا مقصد تفرقہ ڈالنا، شکایات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور پاکستان کی خودمختاری کو کمزور کرنا ہے۔
میریار بلوچ کی سوچ کو جھوٹا، گمراہ کن اور غیر ملکی سازش کا نتیجہ قرار نہ دیا جائے تو اسے اور کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟ میر یار بلوچ ایک غیر ملکی پروپیگنڈا نیٹ ورک کا مہرہ ہے، بلوچستان کی حقیقی آوازنہ وہ تھی اور نہ ہو سکتی ہے ۔
پاکستانیوں کو ہوشیار رہنا چاہیے، معتبر ذرائع سے حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے، اور ایسے بیانیوں کو مسترد کرنا چاہیے جو سچ کے بجائے بیرونی عناصر کے ایجنڈے کو فروغ دیتے ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیر کو پہلے روز سے ہی کمزور کرنا بھارت ہی کی سازش ہے اور ہندوتوا و مودی سرکار کی اس سازش میں حصہ لینے والے پاکستان نہیں ہو سکتے ۔اس لئے وطن عزیز کے نوجوانوں کو بالعموم اور بلوچستان کے باسیوں کو بالخصوص میریار بلوچ کی سازشوں پر نہ صرف نظر رکھنا ہوگی بلکہ اس کو ناکام بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

