پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد لسانی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانا اور دنیا میں موجود زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر مختلف ممالک میں تقریبات، سیمینارز اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
یہ دن یونیسکو کی جانب سے منانے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ دنیا بھر میں زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے شعور بیدار کیا جا سکے۔
یونیسکو کے مطابق دنیا کی تقریباً چالیس فیصد آبادی کو اپنی مادری زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مادری زبانوں کا خاتمہ ثقافتی تنوع کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی تقریباً 6 ہزار 912 زبانوں میں سے 516 زبانیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ گلوبلائزیشن کے باعث 36 فیصد چھوٹی زبانوں کو مٹ جانے کا خطرہ لاحق ہے۔
مادری زبان انسان کی شناخت، ثقافت اور روایات کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ 21 فروری کو منایا جانے والا یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ اور تہذیب کی امین بھی ہے۔
پاکستان کی سرزمین ہزاروں برس پر محیط لسانی تاریخ رکھتی ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو ملک کے ہر حصے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ دیگر علاقائی زبانوں میں پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، بلوچی، بروہی اور ہندکو شامل ہیں، جو اپنے اندر منفرد اندازِ فکر اور ثقافتی حسن رکھتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 48 فیصد افراد کی مادری زبان پنجابی، 12 فیصد کی سندھی، 10 فیصد کی سرائیکی، 8 فیصد کی پشتو جبکہ 3 فیصد کی بلوچی، ہندکو اور تقریباً ایک فیصد کی بروہی زبان ہے۔

