ایران کے نئے شمسی سال کے آغاز اور بہار کی آمد کے موقع پر پاکستان، افغانستان اور ایران سمیت دنیا بھر میں فارسی زبان بولنے والے افراد جشنِ نوروز جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔ یہ تہوار خوشی، امید اور نئی شروعات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہبازشریف نے نوروز منانے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ یہ تہوار امن، خوشحالی اور بہار کی روشنیوں کے پھیلاؤ کی علامت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ملک اور دنیا بھر کے فارسی بولنے والوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
نوروز ایک قدیم ایرانی تہوار ہے جو نئے شمسی سال کے آغاز کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر گھروں میں خصوصی اور روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں، لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر مبارکباد دیتے ہیں اور خوشیاں بانٹتے ہیں۔ نوروز کی ایک اہم روایت "ہفت سین” ہے، جس میں ایسے کھانے اور اشیاء سجائی جاتی ہیں جن کے نام فارسی حرف "س” سے شروع ہوتے ہیں۔
رہنماؤں نے اپنے بیانات میں نوروز کو قدرتی خوبصورتی، امن، ترقی اور خوشحالی کی علامت قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ بعض علاقوں میں عوام کو اس تہوار کی خوشیاں منانے کے مواقع محدود ہیں، جس سے اس کی اصل روح متاثر ہوتی ہے۔

