سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد دنیا کی وہ واحد بین الاقوامی سرحد ہے جس کی عملی نگرانی زیادہ تر پاکستان کی جانب سے کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کو پناہ اور مختلف نوعیت کی سہولت کاری میسر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باوجود پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور کسی بھی کارروائی میں سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان کی تمام کارروائیاں صرف عسکری نوعیت کے اہداف اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان پاکستان کے تحفظات اور مطالبات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اگر افغان طالبان بات چیت اور سیز فائر چاہتے ہیں تو انہیں قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان کو کسی ملک پر حملہ کرنے کا شوق نہیں بلکہ اس کی اولین ترجیح اپنی قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جہاں جہاں سے دہشت گردوں کو اسلحہ، وسائل اور تکنیکی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، پاکستان ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو کمزور کیا جا سکے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2025 سے اب تک تین مختلف ممالک نے اس معاملے میں ثالثی یا مذاکراتی کردار ادا کیا۔ ان ممالک نے پاکستان کی جانب سے فراہم کیے گئے شواہد کو تسلیم کیا اور افغان طالبان کو بھی باور کرایا کہ پاکستان کے تحفظات درست ہیں، تاہم اس کے باوجود افغان طالبان کے رویے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی اور جرائم کا ایک واضح گٹھ جوڑ موجود ہے جہاں مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہیں اور انہیں پراکسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں پاکستان نے کارروائیاں صرف تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف کیں لیکن اس کے ردعمل میں افغان طالبان نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے جو دراصل دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔
پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کے خلاف مختلف آپریشنز جاری ہیں اور ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ اختیار نہیں کرے گی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان اسی مقصد کے تحت بنایا گیا تھا تاکہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پھیلنے والی شدت پسندی اور جرائم کا بھی سدباب کیا جا سکے۔ بنوں میں بچی پر تشدد جیسے واقعات کو بھی اسی انتہا پسندانہ ماحول اور کمزور گورننس کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان کے اندر حکومتی اور سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا افغان عوام کا اپنا معاملہ ہے اور پاکستان کا اس میں کوئی مداخلتی ایجنڈا نہیں۔ تاہم پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ اسلام آباد کورٹ، ترلائی، بنوں اور دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں میں افغانستان میں موجود دہشت گرد ملوث تھے۔ پاکستان نے 20 اور 21 فروری کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو تحریک طالبان پاکستان کے مراکز تھے اور جہاں زیادہ تر وہ عناصر موجود تھے جو پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد افغان طالبان حکومت نے پاکستان کی چار درجن سے زائد سرحدی چوکیوں پر حملے کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب خطے کی مجموعی صورتحال پہلے ہی کشیدہ تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام واقعات اتفاقی نہیں بلکہ افغان طالبان کو اس لیے ماسٹر پراکسی کہا جاتا ہے کہ ان کے اقدامات کے پیچھے بیرونی ڈیزائن کارفرما ہیں۔

