Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مئی 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے
    • عیدالاضحیٰ پر آلائشوں کی درست تلفی سے فضائی حادثات سے بچاؤ ممکن ہے: پاک فضائیہ کی آگاہی ویڈیو
    • پاکستان اور چین کا دہشتگردوں کیخلاف دوٹوک مؤقف، وزیراعظم کے دورہ چین پر مشترکہ اعلامیہ جاری
    • پی ٹی آئی میں بڑا سیاسی بحران، 50 سے زائد ایم پی ایز کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف گروپ بنانے کا دعویٰ
    • امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا، تُرک میڈیا
    • اب خطے میں امریکا کو فوجی اڈوں کے قیام کیلئے محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں ہوگی، ایرانی سپریم لیڈر
    • پاکستان نے ابراہم معاہدے سے متعلق امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا، ایران اور اسرائیل معاملہ الگ قرار
    • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ، امریکا کے ایران پر فضائی حملے، اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاک افغان سرحد پر کشیدگی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں صرف عسکری اہداف تک محدود رہیں: سیکیورٹی ذرائع
    اہم خبریں

    پاک افغان سرحد پر کشیدگی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں صرف عسکری اہداف تک محدود رہیں: سیکیورٹی ذرائع

    مارچ 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد دنیا کی وہ واحد بین الاقوامی سرحد ہے جس کی عملی نگرانی زیادہ تر پاکستان کی جانب سے کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کو پناہ اور مختلف نوعیت کی سہولت کاری میسر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باوجود پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور کسی بھی کارروائی میں سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان کی تمام کارروائیاں صرف عسکری نوعیت کے اہداف اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رہی ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان پاکستان کے تحفظات اور مطالبات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اگر افغان طالبان بات چیت اور سیز فائر چاہتے ہیں تو انہیں قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان کو کسی ملک پر حملہ کرنے کا شوق نہیں بلکہ اس کی اولین ترجیح اپنی قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جہاں جہاں سے دہشت گردوں کو اسلحہ، وسائل اور تکنیکی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، پاکستان ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو کمزور کیا جا سکے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2025 سے اب تک تین مختلف ممالک نے اس معاملے میں ثالثی یا مذاکراتی کردار ادا کیا۔ ان ممالک نے پاکستان کی جانب سے فراہم کیے گئے شواہد کو تسلیم کیا اور افغان طالبان کو بھی باور کرایا کہ پاکستان کے تحفظات درست ہیں، تاہم اس کے باوجود افغان طالبان کے رویے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی اور جرائم کا ایک واضح گٹھ جوڑ موجود ہے جہاں مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہیں اور انہیں پراکسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں پاکستان نے کارروائیاں صرف تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف کیں لیکن اس کے ردعمل میں افغان طالبان نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے جو دراصل دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔

    پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کے خلاف مختلف آپریشنز جاری ہیں اور ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ اختیار نہیں کرے گی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان اسی مقصد کے تحت بنایا گیا تھا تاکہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پھیلنے والی شدت پسندی اور جرائم کا بھی سدباب کیا جا سکے۔ بنوں میں بچی پر تشدد جیسے واقعات کو بھی اسی انتہا پسندانہ ماحول اور کمزور گورننس کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان کے اندر حکومتی اور سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا افغان عوام کا اپنا معاملہ ہے اور پاکستان کا اس میں کوئی مداخلتی ایجنڈا نہیں۔ تاہم پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ اسلام آباد کورٹ، ترلائی، بنوں اور دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں میں افغانستان میں موجود دہشت گرد ملوث تھے۔ پاکستان نے 20 اور 21 فروری کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو تحریک طالبان پاکستان کے مراکز تھے اور جہاں زیادہ تر وہ عناصر موجود تھے جو پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد افغان طالبان حکومت نے پاکستان کی چار درجن سے زائد سرحدی چوکیوں پر حملے کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب خطے کی مجموعی صورتحال پہلے ہی کشیدہ تھی۔

    ذرائع کے مطابق یہ تمام واقعات اتفاقی نہیں بلکہ افغان طالبان کو اس لیے ماسٹر پراکسی کہا جاتا ہے کہ ان کے اقدامات کے پیچھے بیرونی ڈیزائن کارفرما ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleنائب وزیراعظم اور ترکیہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال
    Next Article افغان طالبان کو دہشت گردی کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی، پاکستان کا دوٹوک مؤقف: ڈی جی آئی ایس پی آر
    Web Desk

    Related Posts

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے

    مئی 26, 2026

    عیدالاضحیٰ پر آلائشوں کی درست تلفی سے فضائی حادثات سے بچاؤ ممکن ہے: پاک فضائیہ کی آگاہی ویڈیو

    مئی 26, 2026

    پاکستان اور چین کا دہشتگردوں کیخلاف دوٹوک مؤقف، وزیراعظم کے دورہ چین پر مشترکہ اعلامیہ جاری

    مئی 26, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے

    مئی 26, 2026

    عیدالاضحیٰ پر آلائشوں کی درست تلفی سے فضائی حادثات سے بچاؤ ممکن ہے: پاک فضائیہ کی آگاہی ویڈیو

    مئی 26, 2026

    پاکستان اور چین کا دہشتگردوں کیخلاف دوٹوک مؤقف، وزیراعظم کے دورہ چین پر مشترکہ اعلامیہ جاری

    مئی 26, 2026

    پی ٹی آئی میں بڑا سیاسی بحران، 50 سے زائد ایم پی ایز کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف گروپ بنانے کا دعویٰ

    مئی 26, 2026

    امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا، تُرک میڈیا

    مئی 26, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.