پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اسے افغانستان یا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، البتہ افغان طالبان ریجیم خطے میں دہشت گردی کی مرکزی ” ماسٹرپراکسی” کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ ریجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کر کے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
راولپنڈی میں خیبرپختونخواہ کے صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھدری نے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان یا دہشت گرد گروہوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
آپریشن غضب للحق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا تسلسل ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان ریجیم دہشت گردی کی سرپرستی مکمل طور پر ختم کرنے کی ضمانت اور عملی اقدامات نہ کر لے۔ پاکستان کو کوئی جلدی نہیں ہے۔
دہشت گردوں کو "خوارج” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اسلام کی مسخ شدہ اور خود ساختہ تصویر پیش کر رہے ہیں۔ اسلام کا دہشت گردی، خودکش حملوں، معصوموں کے قتل، خواتین پر مظالم، مساجد کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام مکاتب فکر کے علماء نے ان خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔
پاکستان مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں، سہولت کاری مراکز اور بارڈر سے متصل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کی رپورٹس حقائق کے منافی ہیں اور دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستانی جانوں کے ضیاع سے روگردانی کے مترادف ہیں۔ وزارت اطلاعات اور سیکورٹی ادارے باقاعدگی سے آپریشن کی پیش رفت، مستند ویڈیو رپورٹس کے ساتھ میڈیا اور عوام کو آگاہ کر رہے ہیں۔
افغانستان میں کارروائیاں مقاصد کے حصول تک جاری رہیں گی۔ افغان طالبان کو معلوم ہے کہ جنگ روکنے کے لیے پاکستان کے کیا مطالبات ہیں۔ وہ ٹی ٹی پی سمیت دہشت گردوں کو بچا رہے ہیں اور انسانی ڈھال کے پیچھے رکھ رہے ہیں۔ 36 پوسٹیں تباہ کی جا چکی ہیں جہاں سے پاکستان میں لانچنگ ہوتی تھی۔ باگرام ایئر بیس پر حملے کا مقصد پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والا اسلحہ اور لاجسٹکس تباہ کرنا تھا۔
پاکستان اندرون ملک بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) جاری رکھے ہوئے ہے، روزانہ 200 سے زائد کامیاب IBOs ہو رہے ہیں۔ باہمی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔
افغان مہاجرین کی واپسی تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے۔ آپریشن قانونی، مذہبی اور اخلاقی طور پر درست ہے۔ دنیا اور خطے کے ممالک کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ دہشت گرد کہاں ہیں۔ پاکستان تمام طاقتوں سے تعمیری روابط پر یقین رکھتا ہے مگر اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

