اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں استحکام، معاشی و اسٹریٹجک تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔
پاکستان سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے عالمی سطح پر فعال روابط کو فروغ دے رہا ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور برطانوی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن پاول کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
برطانیہ نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاشی تعلقات مضبوط ہیں اور برطانیہ یورپ میں پاکستان کا اہم ترین اقتصادی شراکت دار ہے۔
برطانیہ کی 200 سے زائد کمپنیاں پاکستان میں فعال ہیں جبکہ مجموعی سرمایہ کاری 910 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
جین میریٹ کا مزید کہنا ہے کہ برطانیہ پاکستان کی تیسری بڑی برآمدی منڈی ہے.
برطانوی کمپنیوں کی موجودگی پاکستانی معیشت پر اعتماد کی عکاس ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ سال 6 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
برطانوی کمپنیاں پاکستان میں روزگار، ٹیکنالوجی منتقلی، ٹیکس ریونیو اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

