Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, فروری 24, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا
    • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات
    • کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی
    • سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے پر نئے سوالات
    • خیبر پختونخوا کا رمضان ریلیف پیکج سیاسی تنازع کا شکار
    • پاکستان کی عالمی کرپٹو و مالیاتی فورم میں نمایاں شرکت
    • مسلم لیگ ن کی حکومت ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » موسمیاتی پیشگوئی کا نظام، 188 ملین ڈالر کی عالمی امداد بیوروکریسی کی نذر
    اہم خبریں

    موسمیاتی پیشگوئی کا نظام، 188 ملین ڈالر کی عالمی امداد بیوروکریسی کی نذر

    اگست 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Wasted Millions, Missed Warnings
    Forecasting Failure: $188M Lost to Red Tape
    Share
    Facebook Twitter Email

    ہم شاید دنیا کی اُن چند اقوام میں شامل ہیں جو ہر سال ایک ہی آزمائش سے گزرتی ہیں، ایک ہی حادثے کو سہتی ہیں اور پھر بھی سبق نہیں سیکھتیں سیلاب ہمارے لیے بلکل بھی اجنبی نہیں۔ ہر سال بارشیں آتی ہیں، ندیاں اور دریا بےقابو ہوتے ہیں، بستیاں ڈوب جاتی ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں اور اربوں کھربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ چند دن میڈیا کی شہ سرخیوں میں یہ کہانی زندہ رہتی ہے، پھر رفتہ رفتہ غائب ہو جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس شور شرابے کے بعد ہم نے کبھی یہ سوچا کہ اگلی بار یہ تباہی کیسے روکی جا سکتی ہے؟
    جون 2020 کی ایک صبح پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو 188 ملین ڈالر کی گرانٹ دی گئی۔ خواب یہ تھا کہ ایک ایسا جدید نظام بنایا جائے جو نہ صرف موسم کی درست پیشگوئی کرے بلکہ ہمیں آنے والے سیلابوں اور طوفانوں سے پہلے خبردار کر سکے۔ اُس وقت کے وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، ملک امین اسلم نے اس منصوبے پر دستخط کیے۔ یہ منصوبہ پاکستان ہائیڈرومیٹ اینڈ ایکو سسٹم ریسٹوریشن سروسز پراجیکٹ کہلاتا تھا منصوبے کے دو بڑے حصے تھے
    پہلا حصہ محکمہ موسمیات کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔ نئے رڈار نصب کرنا، خودکار موسمی اسٹیشن لگانا، ڈیٹا کے تجزیے کے لیے جدید نظام لانا، اور محکمہ موسمیات کے عملے کو تربیت دینا تاکہ وہ عوام کو بروقت اور درست اطلاعات فراہم کر سکیں
    دوسرا حصہ قدرتی طریقوں پر مبنی اقدامات اس میں جنگلات کی بحالی، نئے درخت لگانے، آبی ذخائر کو محفوظ کرنے اور زمین کو اس طرح بہتر بنانے کے منصوبے شامل تھے کہ وہ بارش اور سیلاب کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر سکیں۔
    یہ منصوبہ بظاہر ایک خواب تھا، لیکن خواب کا انجام کچھ اور ہی نکلا
    منصوبے کو بار بار دوبارہ تشکیل دیا گیا ابتدا میں ہی اس کے کئی اہم حصے نکال دیے گئے، جن میں موسم رڈار اور خودکار اسٹیشن شامل تھے یوں جس منصوبے کو ہماری حفاظت کے لیے بنیاد بننا تھا، اس کی بنیاد ہی کمزور کر دی گئی
    جب 2022 میں تباہ کن سیلاب آیا، تو یہ منصوبہ کسی کام نہ آ سکا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں زندگیاں ختم ہوئیں، اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اس وقت حکومت نے فوری ریلیف کے لیے اس منصوبے کے 150 ملین ڈالر ہنگامی امداد اور نقد رقوم (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے) پر خرچ کر دیے۔ بے شک اس وقت یہ قدم ناگزیر تھا، لیکن اس کے نتیجے میں صوبے کا اصل مقصد — یعنی ایک جدید اور دیرپا نظام — مزید پیچھے چلا گیا۔
    پھر فنڈز میں کمی کر دی گئی 188 ملین ڈالر کم ہو کر 168 ملین ڈالر رہ گئے ظاہر ہے جب بجٹ کٹ جائے تو خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں
    اس پر بیوروکریسی کی روایتی سست روی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ایک ادارہ دوسرے ادارے کا انتظار کرتا رہا، فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک گردش کرتی رہیں، اور وقت ہاتھ سے نکلتا گیا
    عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ یہ منصوبہ باضابطہ طور پر دسمبر 2024 میں مکمل ہو چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے کئی اہم اجزاء غائب ہیں۔ سب سے بڑھ کر عالمی بینک نے اس منصوبے کو “غیر تسلی بخش” قرار دیا۔ گویا پانچ سال کی محنت اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔
    سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ ہم کب اپنے مستقبل کو بچانے کے لیے پالیسی سطح پر سنجیدہ فیصلے کریں گے؟ اگر ہمارے پاس جدید موسمیاتی نظام موجود ہوتا تو 2022 کا سیلاب اتنی بڑی تباہی نہ لاتا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم حادثوں کو صرف خبروں اور سرخیوں تک محدود رکھتے ہیں، اُن سے سبق نہیں سیکھتے
    قدرت ہمیں بار بار خبردار کر رہی ہے، اور ہم بار بار اس کی آواز ان سنی کر دیتے ہیں
    دنیا آگے بڑھ رہی ہے، جدید نظام اپنا رہی ہے، اور ہم وہ کام بھی نہیں کر سکے جو زمانے نے کب کا کر لیا
    قدرت بار بار ہمیں متنبہ کر رہی ہے۔ سیلاب اور طوفان ہمیں جھنجھوڑ کر کہہ رہے ہیں
    اگر تم نے خود کو نہ بدلا تو میں بار بار آؤں گا
    یوں لگتا ہے جیسے ہماری اجتماعی سوچ پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے
    ہم کو خبر نہیں تھی زمانہ کیا کہے گا
    ہم نے وہ کام کر دیا جو زمانہ نہ کر سکا

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسیلاب متاثرین کے لیے پاک فوج کا امدادی مشن جاری
    Next Article بلوچستان میں یوم آزادی پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، یونیورسٹی پروفیسر گرفتار
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال

    فروری 24, 2026

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا

    فروری 24, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات

    فروری 24, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال

    فروری 24, 2026

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا

    فروری 24, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات

    فروری 24, 2026

    کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی

    فروری 24, 2026

    سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے پر نئے سوالات

    فروری 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.