اصل مسئلہ ؟
عسکری موقف ۔ ۔ ۔ فوج کا گلہ رہا ہے کہ ہم جانیں دے کر علاقہ صاف کرتے ہیں، لیکن سول انتظامیہ (پولیس، کچہریاں، اسکول، ہسپتال) وہاں اپنا نظام مضبوط نہیں کرتی، جس سے عسکریت پسندی دوبارہ جڑ پکڑتی ہیں ۔
سویلین موقف۔۔۔۔۔۔صوبائی حکومت اور عوام کا موقف رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول کی وجہ سے سول اداروں کو کام کرنے کی آزادی نہیں ملتی اور لوگ "آئی ڈی پیز” بن کر رل جاتے ہیں ۔
فیصلے کے اہم نکات ۔ ۔ ۔
اختیار کی واپسی۔۔۔۔ملاکنڈ ڈویژن سے شروع کرتے ہوئے، اب سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے بجائے صوبائی پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس ہوگی۔ یہ ایک تجربہ ہے کہ کیا سول ادارے اب خود امن برقرار رکھ سکتے ہیں؟
وزیر اعلیٰ بطور کپتان۔۔۔۔۔پہلی بار وزیر اعلیٰ کو ایسی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے جس میں کور کمانڈر اور آئی جی ان کے ساتھ بیٹھیں گے، اس کا مقصد یہ ہے کہ عسکری اور ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے الگ الگ ہونے کے بجائے ایک ہی میز پر ہوں ۔
ترقی اور روزگار پر توجہ ۔ ۔ ۔صرف آپریشن نہیں بلکہ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ لوگوں کو متبادل روزگار ملے تاکہ وہ عسکریت پسندی کی طرف نہ جائیں ۔
مرحلہ وار توسیع ۔ ۔ ۔
اگر ملاکنڈ میں یہ ماڈل (جہاں پولیس لیڈ کرے اور فوج سپورٹ کرے) کامیاب رہا، تو اسے خیبر، کرم اور اورکزئی جیسے قبائلی اضلاع میں بھی نافذ کیا جائے گا ۔
اہمیت ۔ ۔ ۔
یہ سہیل آفریدی کے اس گلہ کا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ ان علاقوں کو "تجربہ گاہ” نہ بنایا جائے، اگر وہ پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے ان علاقوں کو سنبھال لیتے ہیں، تو فوج کا کردار یقیناً محدود ہو جائیگا، یہ کوشش کامیاب ہوئی تو شاید کہ بار بار کے آپریشنز اور آئی ڈی پیز بننے کا سلسلہ ختم ہو سکتا ہے ۔

