Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    • باجوڑ، سرحدی علاقہ چارمنگ میں بم دھماکہ، 2 خواتین شدید زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس کے اچھے افسران اور ہم صحافی!
    بلاگ اپریل 9, 2025

    پولیس کے اچھے افسران اور ہم صحافی!

    Facebook Twitter Email
    Police officers and journalists
    عبدالرّحیم صاحب سے ملاقات کے بعد احساس ہوا کہ اس محکمہ میں آج بھی قابل تقلید اور قدر کے لائق افسران موجود ہیں۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    آفاقیات:۔ (رشید آفاق)

    ہر گاؤں میں “پھوپھی ٹائپ” کی ایک خالہ ضرور ہوتی ہے، جسے مقامی زبان میں “گیلا منہ ترور” (یعنی ہر وقت شکوے شکایت کرنے والی خالہ) کہا جاتا ہے۔ پختون معاشرے میں صحافت کرتے کرتے ہم بھی اب وہی “گیلا منہ ترور” بن گئے ہیں۔ ہر وقت ہر کسی سے شکوے کرنا اور پھر انہی شکوؤں کو خبروں کا رنگ دینا، ہماری ایسی عادت بن چکی ہے کہ اب اگر کسی کی تعریف کرنا بھی چاہیں تو اندر سے آواز آتی ہے کہ “یہ سہولت آپ کے سسٹم میں دستیاب نہیں” یا “یہ سافٹ ویئر آپ میں اپڈیٹ نہیں۔”

    اس کی ایک زندہ مثال یوں ہے کہ ایک دن میں نے ہمارے محترم مشر اور سینئر صحافی شمیم شاہد صاحب سے کہا کہ ہمارے صدر ایم ریاض صاحب کی کارکردگی بہت مثالی جا رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولے: “آپ مطمئن ہیں ان سے؟” میں نے کہا، “جی بالکل۔” تو بولے، “آپ تو کبھی مطمئن نہیں ہوتے، لیکن جب آپ ایم ریاض صاحب کی کارکردگی سے مطمئن ہیں تو اس کا مطلب ہے بندہ واقعی درست سمت جا رہا ہے۔”

    اگرچہ ایم ریاض صاحب سے ہماری 25 سالہ ذاتی شناسائی بھی ہے، لیکن جب بھی ہم نے انہیں آواز دی، وہ جاگتے ہوئے اور “جی حکم کریں” کہتے ہوئے پائے گئے۔ اگرچہ ہم کم بخت انہیں آواز بھی رات کے آخری پہر ہی میں دیتے ہیں۔
    مطلب ہماری قسمت ہی کچھ ایسی ہے۔
    پتہ نہیں ہماری روح بے قرار ہے یا معاشرے کی برائیوں نے ہمیں اس قدر منفی بنا دیا ہے کہ ہمیں کسی کی اچھائی دکھائی ہی نہیں دیتی۔

    کہنے کا لبِ لباب یہ ہے کہ ہمارے پشاور میں موٹروے پولیس سے ایک ٹریفک آفیسر بطور ایس پی کینٹ تعینات ہوئے ہیں۔ موصوف سے فون پر بات ہوئی، ملنے کے وعدے وعید بھی ہوئے، لیکن شومئی قسمت کہ ملاقات نہ ہو سکی۔ کل ایک مشترکہ دوست کے ہاں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

    موصوف کی شخصیت دیکھ کر بندہ آدھا تو ویسے ہی ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے، اور باقی آدھا ان سے بات کرنے کے بعد۔
    ایس پی عبدالرّحیم اس وقت پشاور کینٹ میں بطور ایس پی ٹریفک تعینات ہیں اور جب سے آئے ہیں ہر جگہ ان کے چرچے ہیں۔ ان کی شاندار خدمات نے کمیونٹی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے سڑکوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو مؤثر طریقے سے منظم کیا، معمول کی ٹریفک جام کی صورتحال کو بہتر کیا، خاص طور پر صدر روڈ پر، اور طویل عرصے سے موجود مسائل، مثلاً تختو مسجد کے یو ٹرن کا مسئلہ کنٹونمنٹ بورڈ کے تعاون سے حل کیا۔

    انہوں نے صدر روڈ، فوارہ چوک، شافی مارکیٹ اور سنہری مسجد روڈ پر باقاعدگی سے انسدادِ تجاوزات مہمات چلائیں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ قانون کی یکساں عملداری پر یقین رکھتے ہیں اور کسی کے عہدے یا حیثیت کی پرواہ کیے بغیر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرواتے ہیں، جس کی بدولت وہ ایک ایماندار اور منصف آفیسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    صدر بازار یونین اور کاروباری برادری ان کی مخلصانہ پولیسنگ اور روئیے کو دل سے سراہتی ہے۔ عوام کی خدمت کے لیے ان کی وابستگی نے مسافروں اور مقامی کاروباری افراد کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ ایسے افسران کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے جو واقعی معاشرے میں تبدیلی لا رہے ہیں، اور ایس پی عبدالرّحیم کی شاندار خدمات یقینی طور پر قابلِ تحسین و ستائش ہیں۔

    ہم نے تو ٹریفک پولیس کو فقط چالان کاٹنے والی مشین ہی سمجھا تھا، لیکن عبدالرّحیم صاحب سے ملاقات کے بعد احساس ہوا کہ اس محکمہ میں آج بھی قابل تقلید اور قدر کے لائق افسران موجود ہیں۔

    موصوف کا تعلق ضلع بنوں سے ہے، اسی لیے ان کے لہجے میں بنوں کے مشہور حلوے جیسی مٹھاس اور شخصیت میں ایک معتبر، روایتی پختون افسر کی شان جھلکتی ہے۔
    ان سے بات شروع کرتے ہی وقت کا احساس ہی نہیں رہتا، جیسے کوئی شاعر بول رہا ہو اور ایک باذوق سامع اسے سن رہا ہو۔

    محترم آئی جی صاحب سے درخواست ہے کہ ایسے عوام دوست اور ماحول دوست افسران کو ٹریفک پولیس میں مزید مواقع دیے جائیں، کیونکہ اس مثالی پولیس کی حالیہ کارکردگی نے اسے غیر فعال سے فعال ادارہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف ہلمٹ کی قیمت چار سو روپے ہے، دوسری طرف یہ حضرات ہلمٹ نہ پہننے پر ایک ہزار بیس روپے کا چالان دے رہے ہیں۔

    اس تعفن زدہ ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے مزید ایسے عوام دوست اور پرخلوص افسران کی تعیناتی ضروری ہے۔
    ورنہ وہ دن دور نہیں جب شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا مسئلہ یوں مستقل طور پر حل ہو جائے گا کہ لوگ احتجاجاً اپنی گاڑیاں گھروں میں بند کر کے سڑکوں پر پیدل چلنے لگیں گے، کیونکہ موجودہ حالات میں ٹریفک کا مسئلہ اگر کسی طرح حل ہو سکتا ہے، تو وہ یہ کہ شہر سے تمام گاڑیوں کو ہی نکال دیا جائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور ہائی کورٹ کا مہاجر کارڈ کی بنیاد پر شہریت کی درخواستیں وزارت داخلہ کو نمٹانے کا حکم
    Next Article پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.