Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس دھرنا،نامعلوم اور بٹیروں کی لڑائی؟
    بلاگ ستمبر 13, 2024

    پولیس دھرنا،نامعلوم اور بٹیروں کی لڑائی؟

    Facebook Twitter Email
    Police sit-in, unknown and quail fight?
    لوگوں کو بے سکون کرکے نجانے کونسی جنگ کے لئے تیار کیا جارہاہے
    Share
    Facebook Twitter Email

    وطن عزیز کے بہت سے علاقوں میں بٹیروں پر پیسے اور شرطیں لگاکر آپس میں لڑایا جاتاہے،بٹیروں کو لڑائی کے لئے تیار کرنے کے لئے دو چیزوں کا خیال رکھا جاتاہے،ایک اسے بھوکا پیاسا رکھاجاتاہے اور دوئم اسے بے خواب و بے سکون رکھاجاتاہے تب وہ سامنے والے بٹیر کو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے،اس لڑائی میں جیت ہمیشہ بھوکے اور بے سکون بٹیر کی مقدر ہوتی ہے۔

    ہمارے ساتھ بھی ہر لحاظ سے یہی کھیل کھیلا جارہاہے،ایک طرف بجلی کی لوڈشیڈنگ کا یہ حال ہے کہ صدر،گلبرگ جیسے پوش علاقوں میں چوبیس گھنٹے میں ایک گھنٹہ بجلی ہوتی ہے اور ایک گھنٹہ غائب رہتی ہے،اسی طرح لوگوں کو بے سکون کرکے نجانے کونسی جنگ کے لئے تیار کیا جارہاہے؟میں پچھلے ہفتے کوریج کے سلسلے میں لاہور اور مضافاتی علاقوں ناروال گیا تھا،پوچھنے پر بتایا کہ یہاں لوڈشیڈنگ زیرو ہے اور اسلام آباد میں تو لوڈشیڈنگ قصہ پارینہ بن چکا ہے،پتہ نہیں ساغر کے بقول کہ

    زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    دوسری طرف امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ خود پولیس لکی مروت،بنوں،باجوڑ ،خیبر میں سراپا احتجاج بنی ہے کہ ہمیں کس کی جنگ میں اور کیوں مارا جارہاہے؟پولیس کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقوں سے آرمی کو نکالا جائے،اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حالات کس کی ایماء پر یہاں تک پہنچائے گئے ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ جو نامعلوم ہیں وہ ہمیں معلوم ہے،اس بارے بھی اگر کھل کر بات کی جائے تو بہت برا نہیں ہوگا کیونکہ پچھلے پچیس سالوں سے ہم سنتے آرہے ہیں کہ فلاں بندے کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے نامعلوم طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،مسئلہ یہ ہے کہ آخر ہم اتنے سالوں میں ان نامعلوم کو معلوم کرنے میں اگر واقعی ناکام ہیں تو پھر دل کھل کر اس ناکامی کا اعتراف کیا جائے کہ ہاں ہم ناکام ہیں اس میں،پھر سوال اٹھے گا کہ پچھلے پچیس سالوں سے ہم نامعلوم کو معلوم کرنے میں ناکام کیوں رہے؟اور ان نامعلوم کو معلوم کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی ہے کہ نامعلوم کو معلوم کرنے والے اپنا کام ٹھیک طرح سے نہیں کررہے ہیں اس لئے تو نامعلوم ابھی تک معلوم نہ ہوسکے۔

    کیا اس بات کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں کیا جاسکتاہے کہ کئی سالوں سے لوگ سڑکوں پر،چوراہوں پر،گھروں میں،مساجد اور حجروں میں قتل ہورہے ہیں اور یوں بے دریغ ہورہے ہیں اور اس کے قاتل معلوم نہیں ہورہے ہیں۔

    جرنلزم میں ایک قاعدہ نافذ ہے کہ ایک نوجوان ایک نوجوان دوشیزہ کی کھیتوں میں ابروریزی کرکے فرار ہوگیا،اس سٹوری میں ہر ریپ کھیتوں میں ہی کیا جاتاہے اور ہر ریپ ہونے والی نوجوان اور دوشیزہ ہی ہوتی ہے مطلب آج تک کسی آنٹی کو کسی نے ریپ نہیں کیا،یا پھر ابروریزی کرنے والے نوجوان کی ٹیسٹ (taste)ہی کچھ ایسی ہے جو ہر دفعہ دوشیزہ پر ہی اہتمام پذیر ہوتاہے۔

    سیم ایسا ہی واقعہ نامعلوم بھی عوام اور پولیس کے ساتھ کرتے ہیں،ہر دفعہ ان کا غصہ بے چاری پولیس پر ہی ختم ہوتاہے اور پھر پولیس والوں کو قتل کرکے نامعلوم طرف فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

    لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگلے دن پھر وہی کھیت،وہی دوشیزہ اور وہی نوجوان۔

    سوال یہ بھی ہے کہ یہ  سلسلہ؟یہ جنگ کب تک چلتے رہیں گے؟

    میرے خیال میں نوجوان اب کافی بدنام ہوچکے ہیں ۔

    ویسے اپنا شغل مزید تبدیل کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں کہ نہ نوجوان رہیں گے اور نہ ان کی من پسند کھیت۔

    پولیس والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو سب کچھ معلوم ہے لیکن بس نوجوان کو مزید بدنامی سے بچانے کے لئے ہی سڑکوں پر نکلے ہیں تاکہ ہماری ابروریزی کا سلسلہ بھی تھم سکے اور نوجوان بھی اصل اہداف کی طرف توجہ مبزول کرکے شغل ماری کرنا شروع کریں۔

    ویسے بھی انڈیا کی دوشیزائیں بڑی نمکین اور لذیذ ہوتی ہیں۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپختونخوا پولیس اور دیگرسیکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتے رہیں گے، آرمی چیف
    Next Article اہم قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار

    ستمبر 22, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    وزیراطلاعات کا کوہاٹ کا دورہ، زخمیوں کی عیادت، سہیل آفریدی ڈیلیور نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں، عطا تارڑ

    ستمبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.