Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری
    • پاکستان کا افغان حکومت سے نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    • حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار
    • سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان
    • پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک
    • افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home »  حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بحران کا امکان
    بلاگ

     حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بحران کا امکان

    جنوری 6, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    PTI Demands Inclusion of Real Decision Makers in Talks
    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکراتی عمل میں تعطل
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں سیاسی تناؤ ایک نیا رخ اختیار کرتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات ایک سنجیدہ بحران سے دوچار ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل میں اصل فیصلہ سازوں کو شامل کرے، تاکہ معاہدے میں کسی قسم کی ابہام سے بچا جا سکے۔

    تقریباً دو ہفتوں کی بات چیت کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس وقت تک مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں جب تک اسٹیبلشمنٹ کے نمائندگان اس میں شریک نہ ہوں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرے جن کے پاس حقیقت میں فیصلہ سازی کی طاقت ہے۔

    اسد قیصر نے اپنے بیان میں اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں "اسٹیک ہولڈرز” کو شامل کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول، "جن کے پاس فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات ہیں ان کی سوچ ابھی تک نظر نہیں آئی۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت تک حکومت سے بات چیت نہیں کرے گی جب تک ان فیصلوں کے پیچھے موجود طاقتور افراد مذاکرات میں شریک نہ ہوں۔

    پی ٹی آئی نے اس حوالے سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے حکومت کو اس بات کے لیے وقت دیا ہے کہ وہ اپنے اصل فیصلے سازوں کو مذاکرات کی میز پر لائے۔ اس کے علاوہ، اسد قیصر نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے عمران خان تک پی ٹی آئی کمیٹی کی بلا تعطل رسائی فراہم نہ کی، تو وہ مذاکرات سے دستبردار ہو جائیں گے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان عرفان صدیقی نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومتی کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور اس سے دونوں جماعتوں کے درمیان مزید تصادم کا خدشہ ہے۔

    دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے پی ٹی آئی کے اس مطالبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے بار بار موقف تبدیل کرنے سے مذاکراتی عمل میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ابھی تک اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ وہ اپنے مطالبات کو تحریری طور پر پیش کرنے کے وعدے کے مطابق کب یہ قدم اٹھائے گی۔

    حکومتی کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے اس بات کا جواب دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات میں کچھ ایسے نکات ہیں جو فوج کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، جیسے 9 مئی کے واقعات، اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان مطالبات پر بات کرنے کے لیے فوج کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    سیاسی مبصرین کا تجزیہ

    سیاسی مبصرین نے اسد قیصر کے بیان کو ‘نئی شرائط’ سے تعبیر کر دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی نے دونوں پہلے مذاکراتی اجلاسوں میں کرائی گئی اپنی یقین دہانیوں پر یوٹرن لے لیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں مشترکہ اعلامیوں میں پی ٹی آئی لیڈروں نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔

    اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے علاوہ جیل میں قید دیگر پی ٹی آئی لیڈروں سے بھی ان کی ملاقاتیں کرائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمیٹی صرف سہولت کاری اور رابطے کا کام کر رہی ہے، اصل فیصلے عمران خان نے ہی کرنے ہیں۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان اور دوسرے لیڈروں سے مسلسل ملاقاتوں کا موقع فراہم کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پی ٹی آئی کی کمیٹی مذاکرات کے اس عمل میں شریک نہیں رہے گی۔

    اسد قیصر کے اس بیان سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور آئندہ اجلاس کا انعقاد غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے۔ سیاسی مبصرین نے اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی اپنے وعدے کے مطابق اپنے مطالبات تحریری شکل میں پیش نہیں کرتی تو مذاکرات مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    اس پیچیدہ صورتحال میں، یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کس طرح اس تعطل کو حل کرتے ہیں اور آیا مذاکرات کے عمل میں کسی نئی پیشرفت ہو پاتی ہے یا نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleیواے ای کے صدر کی پاکستان کی معیشت مستحکم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف
    Next Article بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنائے جانے کا امکان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری

    مارچ 4, 2026

    پاکستان کا افغان حکومت سے نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ

    مارچ 4, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان

    مارچ 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری

    مارچ 4, 2026

    پاکستان کا افغان حکومت سے نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ

    مارچ 4, 2026

    جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام

    مارچ 3, 2026

    حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    مارچ 3, 2026

    ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار

    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.