پنجاب کے تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتحال اب بھی برقرار ہے، دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے، چیئرمین پی ڈی ایم اے پنجابکے مطابق صوبے میں سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 20 تک پہنچ گئی، بیشتر اموات ڈوبنے سے ہوئیں، سیالکوٹ میں ڈوبنے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ۔
پنجاب کے تین بپھرے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں اور فصلیں زیر آب آ گئیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی بدستور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، لاہورکے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے ۔
پنجاب میں دریاؤں کے آس پاس آباد دیہات، شہر اور گلی محلے دریا کا منظر پیش کرنے لگے، لوگوں کے آشیانے اجڑ گئے اور راستے برباد ہوگئے ۔
کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری بچی کُچی جمع پونجی اٹھائے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں ۔
وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد،کمالیہ ،منڈی بہاؤالدین،بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آگئے اور زمینی رابطہ کٹ گیا جب کہ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے ۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، موسمیاتی تغیر کی وجہ سے غیر متوقع بارشیں ہوئیں، سیلاب کی وجہ سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا، موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر نہ رکھ کر کوئی بھی کام کریں گے تو اس کا نقصان ہوگا ۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے پنجاب میں اب تک 20 اموات ہوچکی ہیں، سب سے زیادہ جانی نقصان گجرانوالہ میں ہوا، حکومت پنجاب کی جانب سے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت ہے کہ لوگوں کی لائیو اسٹاک کو بچایا جائے، اب تک 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ کیا ہے ۔
فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کےپیش نظرضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ ادارے الرٹ ہیں ۔
دریائےچناب میں چنیوٹ برج پرپانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور چنیوٹ برج پر پانی کی آمد 8 لاکھ 30ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے ۔
ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے،نشیبی علاقوں سےلوگوں کی محفوظ مقامات پرمنتقلی جاری ہے، دریائے سندھ کے قریب فلڈ ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ہیں ۔
شفقت اللہ نے کہا کہ محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں متحرک ہیں، حفاظتی بندوں کی مضبوطی کے لیے کام جاری ہے،پولیس کا کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔