پروفیسر محمد جلیل عالیؔ اردو کے معیاری شعر و ادب کے ایک بزرگ، بالغ النظر اور فکری گہرائی س ے مالا مال شاعر ہیں جنہیں ادبی حلقوں میں نقّاد، محقق، ماہر تعلیم اور اقبال شناس کے حُسنِ کردار سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری احساس کا آبشار، فکری بلندیاں، اور جمالیاتی حسن کے حسین امتزاج پر مشتمل ہے۔ ان کی نظمیہ مجموعہ ’’قلبیہ‘‘ (نام ہی اپنا معنی بیان کرتا ہے: دل کی آواز، دل کا اعتراف) ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جس میں نظمیں دل کے اندر کے راز، روح کے دکھ، زمانے کے تضادات، انسانی جذبات اور سماجی مشاہدات کو ایک ہم آہنگ اور سنگِ میل انداز میں پیش کرتی ہیں۔
سلسلہِ قلبیہ کی پہلی نظم ملاحظہ ہو:
خرابی دور کرنے کے لئے
لازم تھا
چھاتی چیر دی جائے
نگاہوں میں
قصائی کے کٹے بکروں کے
لٹکے عکس لہرائے
یہ گھاٹی پار کر کے
اک نئے جیون کی صورت
سانس جو پائے
قلبیہ میں جلیل عالیؔ کی زبان نہ صرف سادہ و شستہ ہے بلکہ معنویت میں گہرائی لیے ہوئے ہے۔ الفاظ کا انتخاب ایسا ہے کہ وہ سیدھی دل کی دھڑکن سے قاری کے سینے تک پہنچتے ہیں۔ محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال یہاں سلسلۂ کلام کی روانی کو مزید معنوی چاشنی بخشتا ہے۔
نظم ’’تمھیں کای ہو گیا ہے!‘‘ ملاحظہ ہو:
تمھارے ساتھ
باہم گفتگو
ابلاغِ دوطرفہ نہیں ہوتی
چلومانا
پرانے ہوگئے ہیں ہم
سو’ فصل نسل‘ ہی کہہ لو
یہاں ناصحانہ مسجع اور ضربِ الامثال کی طرز کی ترکیب ایک مفہوم کی تصویری کیفیت بناتی ہے۔
ہر نظم میں ایک دل ، دلائل ، داخلی مکالمہ شامل نظر آتا ہے۔ نظمیں خود کو محبت کی محرومی، انسانیت کی جستجو، تنہائی کا رازدان، وقت کے سوالات کے گرد گھموتی پھرتی ہیں۔
قبلیہ کے تسلسل سے جڑی ایہ نظم ملاحظہ کیجیے:
مجھے آئینے سے کون تکتا ہے
مرے جیسی شباہت ہے
مگر یہ میں نہیں ہوں
اور ہے کوئی
یہاں نظمیں محض احساسات کا اظہار نہیں بلکہ وجود کے راز، شعور کی کھوج، درد کی علامت اور امید کی روشنی بھی پیش کرتی ہیں۔قلبیہ کے کچھ نمایاں موضوعات میں ’’دل کے تضادات،محبت و نفرت، امید و یاس
سماجی آلام: جدائی اور انسانیت کی تنہائی،فکری کشمکش: دینی و دنیاوی سوالات، روحانی طلب ، زندگی کا معنوی سفر وغیرہ شامل ہیں۔
’’قلبیہ‘‘ صرف نظموں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری کائنات ہے جہاں ہر نظم ایک دل کی واردات (Heart’s Incident) ہے، جو اپنے اندر اثر و عکس، سوال و جواب، درد و ملال کو بیک وقت سموئے ہوئے ہے۔
مثلاً:
کہیں اندر ہی اندر
ایک اک کر کے
دریچے کھلتے جاتے ہیں
گلِ احساس پر
شبنم کے قطروں کی طرح
حکمت کے
کیا کیا قیمتی ہیرےاُترتتے ہیں
یہاں دل اور وقت کے مابین وہ اندرونی مکالمہ اُبھر کر آتا ہے جو انسان کے اندرونی تضادات کا منمنا، نقیب و نگہبان ہے۔
’’قلبیہ‘‘ ایک ایسی نظمیہ کتاب ہے جوقاری کے دل کی دھڑکن کو الفاظ میں ڈھالتی ہے۔سماج کے دکھوں کو انصاف کی روشنی میں پیش کرتی ہےاور ہر صفحے پر جمالیاتی حسن سے قاری کو گہرا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ بقول شخصےیہ مجموعہ صرف نظموں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل و دماغ کی ایک فکری نگاہ ہے۔
پروفیسر جلیل عالیؔ نے اردو ادب میں اپنی قلمی حیثیت نہایت وقار، دانش و دل کی گہرائی کے ساتھ مستحکم کی ہے۔ ان کی شاعری میں اقبالیت کا جذبہ، روایت و تنقید کا حسین ملاپ، اور جدیدیت کی خوشبو نمایاں ہے۔قلبیہ میں ان کی نظم اقبال ان کے اقبال کے پیرو ہونے کی زندہ دلیل ہے:
رہتی تھی کوئی برقِ تپاں قلب و جگر میں
اک ہجر کہ رکھتا تھا اُسے شوقِ سفر میں
کیوں حشر اٹھاتا نہ جنوں اُس کا فلک پر
لاتا تو ستاروں کی خبر ثانیہ بھر میں
اگر ہم کہیں تو ’’قلبیہ‘‘ ایک فکری خزانہ، جذباتی آئینہ، اور جمالیاتی آتشیں سطروں کا مجموعہ ہے۔ اس کی ہر نظم اپنے اندر سحر و سرور، سوال و جواب، درد و ضیاء کی لکیریں سمائے ہوئے ہے۔ جیسےقلب کے لامتناہی کینوس پر جلیل عالیؔ نے اپنی نظموں کے رنگ و روغن سے وہ نقش چھوڑ دیا ہے جو قاری کی روح تک رسائی رکھتے ہیں۔


