Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, ستمبر 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں
    • وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت
    • پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت
    • وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا
    • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے
    • وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
    • بلوچ خواتین بلوچستان کے روشن مستقبل کی امید ہیں، صوبائی وزیر میر ضیاء لانگو
    • شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی کے مسائل کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟
    اہم خبریں جون 7, 2024

    پاکستان کے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی کے مسائل کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟

    Facebook Twitter Email
    relationship between Pakistan's political economic and security issues
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی کے مسائل کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ اس موضوع پر خیبر نیوز کے پروگرام ”مرکہ ود حسن خان“میں سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں قبائلی اضلاع کے نمائندگان پی ٹی آئی کے خیبر سے ایم این اے اقبال خان آفریدی، باجوڑ سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شہاب الدین خان اور باجوڑ سے اے این پی کے مقامی رہنما مولانا خان زیب نے شرکت کی۔

    اس حوالے سے شرکا نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں اس وقت حکومتی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے، ان علاقوں میں نہ تو بیوکرسی کام کرتی ہے نہ انتظامی سطح پر کو زمہ داری لینے کو تیار ہے، سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبائی اور مرکزی حکومتیں بھی قبائلی علاقوں کی زمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ شرکا نے فوج کے حوالے سے بات کرتے بتایا کہ فوج سیولین اداروں کو کام نہیں کرنے دیتی اور بہت سارے مسائل اس وجہ سے بھی ہے۔

    شرکا نے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ بظاہر تو فاٹا انضمام کے بعد پولیس کو قبائلی علاقوں میں اختیارات دئیے گئےہیں مگرپولیس نام کی کسی چیز کا وجود نہیں ہے، قبائلی علاقوں کی پولیس ملک اور صوبے کے دیگر بندوبستی علاقوں سے بہت الگ ہے۔  قبائلی علاقوں میں پولیس سٹیشنوں کا وجود ہی نہیں ہے، ان علاقوں میں پولیس جو خاصہ دار سے  بھرتی کیے گئے ہیں وہ ابھی تک ٹریننگ اور وسائل کے شدید مسائل ہیں۔ پولیس رات کو تھانے بند کر دیتی ہے۔

    انضمام کے بعد قبائلی علاقوں کی اونرشپ کا مسلہ بن گیا ہے، قبائلی علاقوں کو فنڈز کے شدید مسائل ہیں، دوسرا حکومت جب بھی بجٹ کٹ لگاتی ہے تو وہ قبائلی علاقوں کے فنڈز پر لگاتی ہے۔ سابقہ فاٹا کا انضمام ریفارمز ایجنڈا بھی نامکمل ہے اور اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

    دوسرا مسلہ نمائندگی کا ہے بظاہر تو قبائلی علاقوں سے ایم این ایز اور ایم پی ایز منتخب ہوکر اس پارلیمان جاتے ہیں مگر نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، کابینہ میں بھی قبائلی علاقوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے

    شرکا نے پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ کئی علاقوں میں دہشتگرد دھندناتے پھرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں، دہشتگرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگ قبائلی علاقوں میں آزاد نقل و حرکت کرتے ہیں اور کوئی انکو روکنے والا نہیں۔

    شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی مسائل کا سیکورٹی خدشات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پرتوجہ دئیے جانے کی ضرورت ہے۔ شرکا نے بیروزگاری سے لے کر قانون کے نفاذ تک، موجودہ حالات کا جائزہ لیا اور ان کثیر جہتی چیلنجوں پر بات کی جن کا ہماری قوم کو سامنا ہے۔

    حفاظتی اقدامات اور سرحدی مسائل

    شرکا کا کہنا تھا کہ ہماری بحث پورے ملک میں وسیع حفاظتی اقدامات پر نظر ڈالنے سے شروع ہوتی ہے۔ شاہراہوں سے لے کر قبائلی سرحدوں تک، چوکیاں ایک عام منظر بن گئی ہیں، جن کا مقصد حفاظت اور کنٹرول کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، قبائلی سرحد، جس نے اہم تبدیلیاں دیکھی ہیں، ایک مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے۔وہ علاقہ جو کبھی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ تھا، اب انتظامیہ، عدلیہ اور پولیس کے نظام کے پیچیدہ اور الجھے ہوئے نفاذ سے دوچار ہے۔

    سیاسی اور فوجی انضمام پرشرکا کا نقطہ نظر

    پاکستان مسلم لیگ کے رہنما شہاب الدین خان نے تاریخی تناظر پربات کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے براہ راست صوبائی نظام سے منسلک تھے جہاں پر اصلاحات مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئیں۔

    گورننس اور نمائندگی میں چیلنجز

    اقبال آفریدی نے حکمرانی کی پیچیدہ نوعیت کی نشاندہی کی، جہاں پانچ الگ الگ ادارے مرکزی حکومت، فوج، اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی، اور عسکریت پسند کام کرتے ہیں۔ یہ طرز حکمرانی قبائلی علاقوں اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان رابطہ منقطع کرتی ہے، جس سے ناکافی نمائندگی اور موثر اصلاحات کی کمی جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

    انسانی تحفظات اور سماجی استحکام

    شہاب الدین خان نے معاشرے کے اندر سماجی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی اشد ضرورت کی نشاندہی کی۔ان کا کہنا تھاکہ اجتماعی کوششوں اور ہمدردی کے بغیر، حکومتی کارروائیوں کے ثمرات مفقود رہتے ہیں۔ انتظامی مسائل، جیسے عدلیہ اور امن و امان کے قیام کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔

    سیاسی جدوجہد اور قانون سازی

    مہمان اس بات پر متفق تھے کہ سیاسی جدوجہد اور قانون سازی کی اصلاحات اہم ہیں۔ بات چیت میں قبائلی علاقوں کو صوبائی ڈھانچے میں ضم کرنے کی حالیہ کوششوں پر روشنی ڈالی گئی، چیلنجز اور پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔

    سیاسی قیادت کا کردار

    شرکا اس بات پر متفق تھے کہ قبائلی علاقوں کی ضروریات کو حقیقی طور پر پورا کرنے کے لیے قیادت کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ اس بحث میں تاریخی فیصلوں کے اثرات اور قبائلی انضمام اور ترقی پر ایک واضح، متحد موقف کی ضرورت پر بھی غور کیا گیا۔

    پروگرام کے اختتام پر، بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مہمانوں نے قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور معاشی استحکام جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی اہمیت پر زور ددیا۔انہوں نے موثر حکمرانی کی ضرورت پر بات کی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہوں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleقومی کِھلاڑی بھارت کیخلاف میچ کھیلنے کیلئے ڈیلس سے نیویارک پہنچ گئے
    Next Article انٹربینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر سستا ہوگیا
    Web Desk

    Related Posts

    مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت

    ستمبر 3, 2026

    پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت

    ستمبر 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت

    ستمبر 3, 2026

    پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا

    ستمبر 3, 2026

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے

    ستمبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.