اسلام آباد سے مبارک علی کی تحریر: ۔
اس سال 23 مارچ 2026 کو یومِ پاکستان کی مناسبت سے رومانیہ کے سفارت خانے نے اسلام آباد میں یادگار ثقافتی اقدام اٹھایا، رومانیہ کے سفارت خانے نے پاکستان کے قومی ترانے ’’قومی ترانہ‘‘ کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام اور مکمل اسکور دنیا کے سامنے پیش کیا ۔
رومانیہ کی عالمی شہرت یافتہ نیشنل چیمبر کور ’’میڈریگال مارین کانسٹنٹین‘‘ نے اسے شاندار انداز میں پرفارم کیا، یہ پیشکش نہ صرف پاکستان کے عوام کے لیے خلوصِ دل سے خراجِ عقیدت ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان قائم دیرینہ دوستی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے ۔
1949 میں احمد غلام علی چاغلا کی کمپوز کی گئی یہ دھن اصل میں آرکسٹرا کے لیے تھی جس میں 38 مختلف ٹونز اور 21 آلاتِ موسیقی شامل ہیں ۔
تاریخ میں پہلی بار ان پیچیدہ آرکسٹرا عناصر کو انسانی آوازوں میں ڈھال کر پیش کیا گیا، میڈریگال کور نے اسے پولی فونک کورل کام میں تبدیل کیا، سوپرانو، آلٹو، ٹینر اور بیس سیکشنز میں اصل میلوڈی کو نہایت فنکارانہ اور نازک انداز سے تقسیم کیا گیا جبکہ حفیظ جالندھری کی فارسی طرز کی اردو نظم کی عظمت، وقار اور معنوی گہرائی کو مکمل طور پر برقرار رکھا گیا ۔
یہ محض ایک موسیقی پرفارمنس نہیں تھا بلکہ ایک تکنیکی اور فنکارانہ شاہکار تھا، کورل انتظام نے قومی ترانے کے مشرقی میلوڈک روایت اور مغربی ہم آہنگی کے منفرد امتزاج کو خوبصورت طریقے سے اجاگر کیا، رومانیائی فنکاروں نے درست تلفظ، غیر دہرائے جانے والے موسیقی کے جملوں اور مسلسل ارتقائی تبدیلیوں پر مکمل عبور حاصل کرتے ہوئے ’’قومی ترانہ‘‘ کو عالمی ثقافتی ورثے کا ایک زندہ شاہکار ثابت کر دیا ۔
رومانیہ کے سفیر نے اس موقع پر کہا: ’’یہ پروجیکٹ دونوں ممالک کی ثقافتی قربت کو مزید مضبوط کرے گا، پاکستانی قومی ترانے کی اس نئی شکل نے ہمیں اس کی فنکارانہ گہرائی کا نیا احساس دلایا ہے ۔
پاکستان کے ثقافتی حلقوں نے اسے زبردست سراہا، وفاقی وزیرِ ثقافت نے اسے ’’دوستی کا سنہری لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیشکش نہ صرف موسیقی کی دنیا میں ایک نئی فصل کا آغاز ہے بلکہ پاکستان اور رومانیہ کے باہمی تعلقات کو ایک نئی جہت بھی عطا کرتی ہے ۔
یہ اقدام رومانیہ کے ’’ڈپلومیسی دی اینتھمز آف دی ورلڈ‘‘ پروگرام کا حصہ ہے جو عالمی سطح پر ثقافتی سفارتکاری کو فروغ دے رہا ہے ۔

