Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، نوٹی فکیشن جاری
    • نارووال میں اڈا سراج مندر گرائے جانے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا ہے: ترجمان دفترِ خارجہ
    • پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال
    • بلوچستان میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 2 سال میں 133 ارب روپے کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
    • پاکستان کا بندرگاہی نظام جدید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل
    • پشاور میں مبینہ پولیس مقابلہ، نورے گینگ کے 3 مطلوب ملزمان ہلاک
    • بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کے خفیہ اطلاع پر آپریشنز، 48 دہشت گرد ہلاک
    • مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پرخلوص جھوٹ اور ہماری صحافت!
    بلاگ اپریل 16, 2025

    پرخلوص جھوٹ اور ہماری صحافت!

    Facebook Twitter Email
    Sincere lies and our journalism
    غنی خان بابا کے بارے میں پوچھا تو سید حبیب ساجد صاحب نے کہا: “غنی خان بابا بھی تمہاری شاعری سے بہت متاثر ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    آفاقیات: تحریر:۔ رشید آفاق

    یہ 96-1995 کی بات ہے جب میں روزنامہ “ہيواد” میں باقاعدگی سے کالم لکھا کرتا تھا، اور ساتھ ہی کبھی کبھار اپنی کوئی ٹوٹی پھوٹی نظم یا غزل بھی چھپوا دیتا تھا۔ اُس وقت روزنامہ “ہيواد” کے نیوز ایڈیٹر میرے بہت ہی پرانے، پیارے دوست، نفیس انسان، شاعر اور منجھے ہوئے صحافی سید حبیب ساجد ہوا کرتے تھے،جن سے آج بھی دوستی برقرار ہے۔ پشاور پریس کلب میں کبھی کبھار اُن سے ملاقات ہو جاتی ہے۔

    وہ شروع ہی سے میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے، مجھے لکھنے کی دنیا سے آشنا کراتے رہے۔ میری شاعری اُس وقت ابتدائی مراحل میں تھی، اور مجھے شاعری اور شاعروں سے جنون کی حد تک محبت تھی۔ کبھی کبھار میں حبیب ساجد صاحب سے پوچھا کرتا: “یار، یہ نورالبشر نوید کیسا شاعر ہے؟” وہ فرماتے: “شاعر تو بہت عظیم ہے، لیکن وہ تمہاری شاعری سے بہت متاثر ہے۔”

    یہ سن کر میں پاگل سا ہو جاتا کہ اتنی بڑی شخصیت میری شاعری سے متاثر ہے! پھر کبھی کسی دن میں ان سے اجمل خٹک بابا کے بارے میں پوچھتا، وہ کہتے: “بابا بھی تمہیں مستقبل کا ایک عظیم شاعر مانتے ہیں۔” اور یہ سن کر تو میری پیروں تلے زمین ہی ہل جاتی کہ میں کتنا بڑا شاعر ہوں!

    اسی طرح ایک دن میں نے غنی خان بابا کے بارے میں پوچھا تو سید حبیب ساجد صاحب نے کہا: “غنی خان بابا بھی تمہاری شاعری سے بہت متاثر ہیں۔ کسی دن ملاقات بھی کراؤں گا۔ وہ تمہیں نوجوانوں کے لیے انقلابی شاعر مانتے اور اکثر سراہتے ہیں۔”

    یہ سب سن کر جب میں پشاور سے اپنے گاؤں وزیرستان جاتا، تو کسی سے سیدھے منہ بات کرنے کا دل نہیں کرتا تھا۔ خود کو دل ہی دل میں پشتو کا مرزا غالب سمجھنے لگا تھا۔ سوچتا: وزیرستان کو دیکھو اور میری جیسی عظیم ہستی کی پیدائش دیکھو! لوگوں کو دیکھ کر دل میں سوچتا کہ یار، یہ لوگ کیا جانیں کہ ہم کون ہیں اور ہمارے قدردانوں کی فہرست میں کون کون شامل ہے۔

    انہی خیالات کے ساتھ ایک دن میں سید حبیب ساجد صاحب کی دعوت پر ان کے شہر مردان گیا۔ گاڑی سے اُتر کر جب ہم ان کے گھر کی طرف چل پڑے تو راستے میں انہوں نے مجھے روکا اور کہا: “یار، یہ سامنے سبزی فروش ریڑھی والے کا نام گل محمد خان خاموش ہے، بے چارہ ٹوٹی پھوٹی شاعری کرتا ہے۔ بس تم اسے جا کر کہو کہ میں رشید آفاق ہوں، کالم نگار، صحافی اور شاعر، آپ کا بڑا فین ہوں۔ آپ کی شاعری مجھے بہت پسند ہے۔ بے چارے کی حوصلہ افزائی ہو جائے گی، تمہارا کچھ نہیں جائے گا۔”

    میں نے دو تین بار ان کا نام دوبارہ پوچھا، اور پھر اچانک میرے ذہن میں بجلی سی کوندی، اور میرے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ سانسیں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔ میں نے حبیب ساجد صاحب سے کہا: “اچھا، تو آج تک تم مجھے بھی ایسے ہی بے وقوف بناتے رہے ہو؟”

    پہلے تو انہوں نے انکار کیا، مگر میرے تیور دیکھ کر آخرکار اعتراف کر ہی لیا کہ: “ہاں، یہ سب جھوٹ میں نے صرف تمہاری حوصلہ افزائی کے لیے کہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن عظیم ہستیوں میں سے اُس وقت کوئی بھی تمہیں جانتا تک نہیں تھا۔”

    لیکن سچ یہ ہے کہ سید حبیب ساجد صاحب کی انہی پرخلوص حوصلہ افزائیوں نے مجھے شاعر نہ سہی، مگر ایک ادنیٰ سا صحافی “رشید آفاق” ضرور بنا دیا۔

    مجھے ایسے دوستوں پر فخر ہے۔ آج بھی مجھے سید حبیب ساجد صاحب سے اتنی ہی محبت ہے۔ بس وقت اور مصروفیات نے مجھے اس قدر نکما بنا دیا ہے کہ انہیں وہ وقت نہیں دے پا رہا جو ان کا حق ہے۔

    میری پہلی کتاب “آفاقیات” کی اشاعت بھی انہی کی مرہونِ منت ہے۔ اُس وقت میں بیرونِ ملک تھا، لیکن اُن کے خلوص اور محبت نے میری تحریروں کو کتاب کی صورت دی اور مجھ پر ایک عظیم احسان کیا۔ بعد میں اُن کے ماہنامے “جوش” میں بطور ایڈیٹر مجھے ذمہ داری بھی سونپی گئی۔

    بہرحال، مجھے فخر ہے کہ میرے حلقہ احباب میں ایسے نایاب ہیرے بھی شامل ہیں۔

    لو یو سید حبیب ساجد صاحب!
    میں نے زندگی میں آپ جیسا پرخلوص دوست نہیں دیکھا، جس نے ہم جیسوں کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی۔
    اللہ آپ کو لمبی عمر اور اچھی صحت عطا فرمائے۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکویت نے پاکستان کے لیے تیل کریڈٹ کی سہولت میں 2 سال کی توسیع کر دی
    Next Article خیبرپختونخوا میں صورتحال تشویشناک،آرمی چیف قیام امن کیلئے کردار ادا کریں،گورنر فیصل کریم کنڈی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    ستمبر 4, 2026

    نارووال میں اڈا سراج مندر گرائے جانے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا ہے: ترجمان دفترِ خارجہ

    ستمبر 4, 2026

    پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال

    ستمبر 4, 2026

    بلوچستان میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 2 سال میں 133 ارب روپے کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

    ستمبر 4, 2026

    پاکستان کا بندرگاہی نظام جدید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل

    ستمبر 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.