وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی دھمکی پر سخت ردعمل دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ گنڈاپور پہلے اپنی حکومت کے گزشتہ 13 سال کا حساب دیں، پھر وفاق کو دھمکیاں دیں۔
یہ بیان طلال چوہدری نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کو اس کے حصے سے زیادہ رقم دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے لوگ خود مانتے ہیں کہ ان کے اپنے افراد نے اربوں روپے ہڑپ کیے۔
ایک روز قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے وفاق کو وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر اس مہینے میں این ایف سی کے مطابق رقم نہ ملی تو وہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سرکاری افسران کو ساتھ لے کر احتجاج کریں گے۔
طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کی مذاکرات کی پیشکش پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہیں، حکومت ان سے کوئی بات نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ نافرمان اولاد اگر ایک بار عاق کر دی جائے تو تعلق بار بار بحال نہیں ہوتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات اسی پارلیمنٹ میں ہوں گے جہاں سے پی ٹی آئی نے خود واک آؤٹ کیا تھا۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی پی ٹی آئی کی مرضی سے نہیں چلے گی۔ بانی پی ٹی آئی جن لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں، اُن سے صبح سات بجے یا شام سات بجے بھی ملاقات کر لیتے ہیں، مگر جن سے نہیں ملنا چاہتے، اُن سے کوئی بات نہیں کرتے۔