پشاور( حسن علی شاہ سے ) آج سے 20 روز قبل پی ٹی آئ کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ تیراہ کے مختلف علاقوں سے عوام برفباری کی وجہ سے دوسرے علاقوں کو جارھے ہیں اور کوئ آپریشن کلین اپ نہیں ھے اور نہ کسی فوجی آپریشن کی اجازت دینگے اسی طرح کے بیانات مشیر اطلاعات شفیع جان اور دیگر اراکین صوبائ اسمبلی بھی مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں بھی دیتے رھے جبکہ دوسری جانب ائ ایس پی آر کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا جسکے مطابق تیراہ سے منتقل ھونیوالے ھر خاندان کو 250000 روپے ٹرانسپورٹ چارجز ماہانہ خرچہ 50000 اگر دھٹست گردوں کیخلاف آپریشن کے دوران کسی کا گھر جزوی طورپہ تباہ ھوا ھو تو مبلغ 10000 دس لاکھ اور اگر مکمل تباہ ھوا ھے تو اس خاندان کو 30 لاکھ روپے ادا کئے جاہیں گے اور علاقہ مشران کو اعتماد میں لیکر فیصلہ بھی کیا گیا کہ تیراہ سے عوام کی منتقلی جنوری کے پہلے ھفتے اور واپسی 30 اپریل تک ممکنہ بناء جائے گی تازہ تریں صورتحال کے مطابق تیراہ سے سینکڑوں خاندان ٹرکوں بسوں کوچز کے علاوہ ڈاڈسنوں میں ھنگو کوھاٹ اور باڑہ آرھے ہیں جنکو راستے میں شدید مشکلات کا سامنا ھے سخت سردی کے باعث بچے بوڑھے مرد خواتین بنیادی سہھولیات سے محروم ہیں یہ اطلاعات بھی موصول ھوئ ہیں کہ برفباری اور دشوار گزار سفر کی وجہ سے چند بزرگ خواتین اور بچوں کی اموات بھی ھوئ ہیں ۔۔۔۔۔۔
وزیراعلٰی سمیت ضم اضلاع کے اراکین پارلیمنٹ اور مشیر اطلاعات نے تیراہ کے عوام کو اندھیرے میں رکھا۔۔۔۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read

