گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے طلب کیے گئے 160 ارب روپے فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی ۔
پشاور میں مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں گزشتہ روز انتہائی اہم تھا، جب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سطح پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزرا نے شرکت کی، جبکہ چیف سیکرٹری نے پورے صوبے کے حوالے سے بریفنگ دی ۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کو درپیش مسائل، گندم کے معاملے اور دیگر اہم امور پر بھی بات چیت ہوئی، صوبے میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے معاملات میں شفافیت یقینی بنائی جائے گی اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی ۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں شہدا کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے اور حکومت کا ہدف ایک مضبوط، بدلتا اور نکھرتا خیبرپختونخوا بنانا ہے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
انہوں نے سرکاری ملازمین کی ذمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو ملازم گھر بیٹھ کر تنخواہ لے گا، اسے سرکاری امور انجام دینا ہوں گے، سرکار جن افراد کو بھرتی کرتی ہے، انہیں تنخواہ دینے کے ساتھ ان سے کام لینا بھی ضروری ہے ۔
گورنر نے بدعنوانی، سرکاری ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں اور سیاسی بنیادوں پر تبادلوں و تعیناتیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا، انہوں نے ازاخیل گودام میں گندم کی ہینڈلنگ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا عزم بھی ظاہر کیا ۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صوبے کے سیکیورٹی اور ترقیاتی مسائل کے حل کیلئے مل کر کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے ساتھ مطالبات تصادم کے بجائے مذاکرات اور دلائل کے ذریعے آگے بڑھائے جائیں گے ۔
فیصل کریم کنڈی نے ٹریفک اور رجسٹریشن کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں تقریباً ایک لاکھ رکشے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ رکشوں کی تعداد صرف 30 ہزار ہے، انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی ۔
ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل ہماری بقا کی جنگ ہے، اس لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اور مضبوط بنانا ضروری ہے ۔

