Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جون 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور لبنانی فوج کے سربراہ کا دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا عزم
    • افغان طالبان رجیم، خواتین پر مظالم کی تمام حدیں پار، عالمی برادری سراپا احتجاج
    • ايوان صدر میں اہم اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق
    • مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب
    • گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب، غیر سرکاری نتائج
    • ریاستی اداروں کے خلاف سنگین الزامات کے کیس میں اہم پیشرفت،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو گرفتار کرنے کا حکم
    • سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار، فرانسیسی جریدہ
    • شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسزکی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں بڑی گرم جوشی سے آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی،سپریم کورٹ
    فیچرڈ

    پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں بڑی گرم جوشی سے آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی،سپریم کورٹ

    فروری 12, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The PTI in its government enthusiastically enacted legislation related to the Army Act, the Supreme Court
    کہیں ایسا تو نہیں اس وقت اپنی رجیم برقرار رکھنے کے لیے آرڈیننس لایا گیا ہو؟آئینی بنچ کا سوال
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ  کے آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں پارلیمنٹ نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی ۔

    سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے  استفسار کیا کہ اگر بنیادی حقوق دستیاب نہ ہوں اور کسی ایکٹ کے ساتھ ملا لیں تو کیا حقوق متاثر ہوں گے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ ایک بلیک ہول ہے، کوئی بھی ترمیم ہوئی تو بنیادی حقوق ختم ہو جائیں گے، قانون کے مطابق جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہونا ضروری ہے ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ آرمڈ فورسز کا کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پنجاب میں پتنگ اڑانا منع ہے، پنجاب میں کوئی پتنگ اڑائے تو وہ ملٹری کورٹ نہیں جائے گا، اس پر شہری قانون لگے گا، کیس میں 2 مسائل ہیں، ایک آرٹیکل 175 کا بھی مسئلہ ہے، جہاں تک بات بنیادی حقوق کی ہے تو دروازے بند نہیں ہوں گے ۔

    جسٹس نعیم اختر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا ہوں، بُرا نہ مانیے گا، آپ کی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ آج کل سیاسی وابستگی بھی ہے، آپ کی سیاسی جماعت کے دور میں آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی تھی، آپ کی سیاسی جماعت نے پارلیمنٹ نے بڑی گرمجوشی سے آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی ۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اس وقت تحریک انصاف کا حصہ نہیں تھا، میں ہمیشہ اپوزیشن سائیڈ پر رہا ہوں، 1975 میں ایف بی علی کیس میں پہلی دفعہ ٹو ون ڈی ون کا ذکر ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کسی فوجی جوان کا گھریلو مسئلہ ہے، اگر پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کر لی جائے تو کیا دوسری شادی والے کو ملٹری کورٹ بھیجا جائے گا؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ آرٹیکل ٹو ون ڈی ون کو ہر مرتبہ سپریم کورٹ کیوں دیکھے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لیگل فریم ورک تبدیل ہو جائے تو جوڈیشل ریویو کیا جاسکتا ہے، آرٹیکل آٹھ 3 کا استثنیٰ ٹو ون ڈی ون کے لیے دستیاب نہیں ۔

    جسٹس نعیم اختر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ٹو ون ڈی ون کے لیے 1967 میں آرڈیننس لایا گیا جس کی ایک معیاد ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں آرڈیننس معیاد ختم ہونے پر متروک ہو گیا ہو؟ 1967 میں آرڈیننس کے ذریعے آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی ٹو آیا، 1973 کے آئین میں تو آرڈیننس کی معیاد 120 دن ہے جسے 120 دن مزید توسیع ملتی ہے، چیک کریں اس وقت کے آئین میں آرڈیننس کی معیاد کیا تھی؟ اس وقت کے حالات بھی مدنظر رکھیں ۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک جنگ ہوئی جس کے بعد سیاستدانوں نے تحریک شروع کی، کہیں ایسا تو نہیں اس وقت اپنی رجیم برقرار رکھنے کے لیے آرڈیننس لایا گیا ہو؟ اگر میں غلط ہوں تو اس کی تصحیح کریں، آپ اس نکتے کی طرف کیوں نہیں آ رہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان کے شہر قندوز میں دھماکہ، 22 افراد جاں بحق
    Next Article کرم میں بنکرز گرانے کا عمل جاری، خوراک اور دیگر ضروری اشیا پر مشتمل سامان کی 853 گاڑیاں بھی کرم پہنچائی گئیں
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ايوان صدر میں اہم اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق

    جون 8, 2026

    مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب

    جون 8, 2026

    ریاستی اداروں کے خلاف سنگین الزامات کے کیس میں اہم پیشرفت،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو گرفتار کرنے کا حکم

    جون 8, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور لبنانی فوج کے سربراہ کا دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا عزم

    جون 9, 2026

    افغان طالبان رجیم، خواتین پر مظالم کی تمام حدیں پار، عالمی برادری سراپا احتجاج

    جون 9, 2026

    ايوان صدر میں اہم اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق

    جون 8, 2026

    مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب

    جون 8, 2026

    گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب، غیر سرکاری نتائج

    جون 8, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.