Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
    اہم خبریں اپریل 17, 2025

    سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

    Facebook Twitter Email
    The question is whether military courts can be called courts or not? Justice Jamal Mandokhel
    فوجی عدالتیں، عدالتیں ہی ہیں جو خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے فوجداری ٹرائل کرتی ہیں،وکیل وزارت دفاع
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم  7 رکنی آئینی بنچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

    سماعت کے دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل جاری رکھتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مجھ سے جو سوالات ہوئے میں نے تحریری معروضات کی شکل میں عدالت کے سامنے رکھے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فوجی عدالتوں میں منصفانہ ٹرائل ہوتا ہے، فوجی عدالتیں قانون کے تحت وجود میں آئی ہیں ۔

    انہوں نے استدلال کیا کہ لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں مروجہ طریقہ کار اور فئیر ٹرائل دونوں میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں مکمل انصاف کیلئے آفیسر باقاعدہ حلف لیتے ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ آرٹیکل 175 پڑھیں، واحد آرٹیکل ہے جو عدالتوں کو جواز فراہم کرتا ہے ۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ محرم علی اور لیاقت حسین کیس میں کہا گیا کہ کورٹ مارشل 175 میں نہیں آتا، یہاں تک کہ جس فیصلے کیخلاف اپیل دائر ہوئی اس میں بھی کہا گیا کہ فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 میں نہیں آتیں، آرٹیکل 142 کے تحت وفاقی حکومت کو فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت قانون بنانے کا اختیار ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں سے متعلق قانون بھی اسی اختیار کے تحت بنایا، یہ اختیار اور قانون تو 1956 اور 1962 کے آئین میں بھی تھا، تب آرٹیکل 175 اور 1973 کا آئین موجود نہیں تھا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں، اگر عدالت کہا جا سکتا ہے تو دوبارہ آرٹیکل 175 پڑھیں، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فوجی عدالتیں عدالتیں ہی ہیں جو خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے فوجداری ٹرائل کرتی ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا اٹارنی جنرل کی کیا پوزیشن ہے وہ کہاں ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو دو سے تین دن کا وقت درکار ہے ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیا مذاق ہے بلاوجہ کیس کیوں لٹکا رہے ہیں؟ کیا اس کیس کو مکمل کرنے کا ارادہ نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل نے خود کہا تھا میں دس منٹ لوں گا، صرف اپیل کا حق دینا ہے یا نہیں اس پر بات کرنی تھی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleطالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟
    Next Article روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا،تمام پابندیاں بھی معطل
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.