Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, فروری 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خودمختار ساوی کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیر ون نمبر پلیٹ کے مالک ہلال وزیر کا خیبر نیٹ ورک پشاور سینٹر کا دورہ
    • لیبین افواج کے کمانڈر کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سيد عاصم منير سے ملاقات
    • بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
    • وزیراعظم پاکستان سے عالمی بینک کے صدر کی ملاقات، مختلف پروجیکٹس میں تعاون پر سراہا
    • وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری
    • وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات
    • بلوچستان مزید 22 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہوگئی
    • ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
    اہم خبریں

    سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

    اپریل 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The question is whether military courts can be called courts or not? Justice Jamal Mandokhel
    فوجی عدالتیں، عدالتیں ہی ہیں جو خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے فوجداری ٹرائل کرتی ہیں،وکیل وزارت دفاع
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم  7 رکنی آئینی بنچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

    سماعت کے دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل جاری رکھتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مجھ سے جو سوالات ہوئے میں نے تحریری معروضات کی شکل میں عدالت کے سامنے رکھے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فوجی عدالتوں میں منصفانہ ٹرائل ہوتا ہے، فوجی عدالتیں قانون کے تحت وجود میں آئی ہیں ۔

    انہوں نے استدلال کیا کہ لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں مروجہ طریقہ کار اور فئیر ٹرائل دونوں میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں مکمل انصاف کیلئے آفیسر باقاعدہ حلف لیتے ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ آرٹیکل 175 پڑھیں، واحد آرٹیکل ہے جو عدالتوں کو جواز فراہم کرتا ہے ۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ محرم علی اور لیاقت حسین کیس میں کہا گیا کہ کورٹ مارشل 175 میں نہیں آتا، یہاں تک کہ جس فیصلے کیخلاف اپیل دائر ہوئی اس میں بھی کہا گیا کہ فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 میں نہیں آتیں، آرٹیکل 142 کے تحت وفاقی حکومت کو فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت قانون بنانے کا اختیار ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں سے متعلق قانون بھی اسی اختیار کے تحت بنایا، یہ اختیار اور قانون تو 1956 اور 1962 کے آئین میں بھی تھا، تب آرٹیکل 175 اور 1973 کا آئین موجود نہیں تھا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں، اگر عدالت کہا جا سکتا ہے تو دوبارہ آرٹیکل 175 پڑھیں، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فوجی عدالتیں عدالتیں ہی ہیں جو خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے فوجداری ٹرائل کرتی ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا اٹارنی جنرل کی کیا پوزیشن ہے وہ کہاں ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو دو سے تین دن کا وقت درکار ہے ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیا مذاق ہے بلاوجہ کیس کیوں لٹکا رہے ہیں؟ کیا اس کیس کو مکمل کرنے کا ارادہ نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل نے خود کہا تھا میں دس منٹ لوں گا، صرف اپیل کا حق دینا ہے یا نہیں اس پر بات کرنی تھی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleطالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟
    Next Article روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا،تمام پابندیاں بھی معطل
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خودمختار ساوی کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیر ون نمبر پلیٹ کے مالک ہلال وزیر کا خیبر نیٹ ورک پشاور سینٹر کا دورہ

    فروری 2, 2026

    لیبین افواج کے کمانڈر کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سيد عاصم منير سے ملاقات

    فروری 2, 2026

    بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

    فروری 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خودمختار ساوی کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیر ون نمبر پلیٹ کے مالک ہلال وزیر کا خیبر نیٹ ورک پشاور سینٹر کا دورہ

    فروری 2, 2026

    لیبین افواج کے کمانڈر کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سيد عاصم منير سے ملاقات

    فروری 2, 2026

    بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

    فروری 2, 2026

    وزیراعظم پاکستان سے عالمی بینک کے صدر کی ملاقات، مختلف پروجیکٹس میں تعاون پر سراہا

    فروری 2, 2026

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری

    فروری 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.