Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, جولائی 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سی ٹی ڈی ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، مطلوب خارجی کمانڈر ہلاک
    • دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، سکیورٹی فورسز کی وانا میں انٹیلیجنس بیسڈ کامیاب کارروائی
    • بلوچستان حکومت اور کوئٹہ دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب، معاہدہ طے پا گیا
    • ویسٹ انڈیز کے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
    • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا
    • بنوں کے بکاخیل میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری، کرفیو نافذ
    • پاکستان میں پہلی بار رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ درآمد
    • بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کارروائیاں: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
    اہم خبریں

    سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

    اپریل 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The question is whether military courts can be called courts or not? Justice Jamal Mandokhel
    فوجی عدالتیں، عدالتیں ہی ہیں جو خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے فوجداری ٹرائل کرتی ہیں،وکیل وزارت دفاع
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم  7 رکنی آئینی بنچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

    سماعت کے دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل جاری رکھتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مجھ سے جو سوالات ہوئے میں نے تحریری معروضات کی شکل میں عدالت کے سامنے رکھے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فوجی عدالتوں میں منصفانہ ٹرائل ہوتا ہے، فوجی عدالتیں قانون کے تحت وجود میں آئی ہیں ۔

    انہوں نے استدلال کیا کہ لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں مروجہ طریقہ کار اور فئیر ٹرائل دونوں میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں مکمل انصاف کیلئے آفیسر باقاعدہ حلف لیتے ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ آرٹیکل 175 پڑھیں، واحد آرٹیکل ہے جو عدالتوں کو جواز فراہم کرتا ہے ۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ محرم علی اور لیاقت حسین کیس میں کہا گیا کہ کورٹ مارشل 175 میں نہیں آتا، یہاں تک کہ جس فیصلے کیخلاف اپیل دائر ہوئی اس میں بھی کہا گیا کہ فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 میں نہیں آتیں، آرٹیکل 142 کے تحت وفاقی حکومت کو فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت قانون بنانے کا اختیار ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں سے متعلق قانون بھی اسی اختیار کے تحت بنایا، یہ اختیار اور قانون تو 1956 اور 1962 کے آئین میں بھی تھا، تب آرٹیکل 175 اور 1973 کا آئین موجود نہیں تھا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں، اگر عدالت کہا جا سکتا ہے تو دوبارہ آرٹیکل 175 پڑھیں، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فوجی عدالتیں عدالتیں ہی ہیں جو خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے فوجداری ٹرائل کرتی ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا اٹارنی جنرل کی کیا پوزیشن ہے وہ کہاں ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو دو سے تین دن کا وقت درکار ہے ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیا مذاق ہے بلاوجہ کیس کیوں لٹکا رہے ہیں؟ کیا اس کیس کو مکمل کرنے کا ارادہ نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل نے خود کہا تھا میں دس منٹ لوں گا، صرف اپیل کا حق دینا ہے یا نہیں اس پر بات کرنی تھی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleطالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟
    Next Article روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا،تمام پابندیاں بھی معطل
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    سی ٹی ڈی ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، مطلوب خارجی کمانڈر ہلاک

    جولائی 18, 2026

    دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، سکیورٹی فورسز کی وانا میں انٹیلیجنس بیسڈ کامیاب کارروائی

    جولائی 18, 2026

    بلوچستان حکومت اور کوئٹہ دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب، معاہدہ طے پا گیا

    جولائی 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سی ٹی ڈی ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، مطلوب خارجی کمانڈر ہلاک

    جولائی 18, 2026

    دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، سکیورٹی فورسز کی وانا میں انٹیلیجنس بیسڈ کامیاب کارروائی

    جولائی 18, 2026

    بلوچستان حکومت اور کوئٹہ دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب، معاہدہ طے پا گیا

    جولائی 18, 2026

    ویسٹ انڈیز کے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    جولائی 18, 2026

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا

    جولائی 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.