Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مقبوضہ کشمیر: بھارت کی طرف سے مزید 16 کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط، حریت کانفرنس کی شدید مذمت
    • محکمہ موسمیات کی پیش گوئی، آئندہ 12 گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان
    • اوگرا میں اصلاحات کا عمل تیز، وزیراعظم شہباز شریف کی ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت
    • ڈی آئی خان میں پولیس وین پر حملہ، اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید، حملہ آور فرار
    • بلوچستان میں امن ہر صورت قائم ہوگا، دہشت گردی کے سامنے ریاست کبھی نہیں جھکے گی: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
    • براڈ پیک کے قریب برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیما لاپتا، چار افراد کی لاشیں نکال لی گئیں
    • ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری، موسم خوشگوار
    • ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » طالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟
    بلاگ

    طالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟

    اپریل 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How US Weapons Left in Afghanistan Ended Up Empowering Terror Groups
    Hijacked Arms: The US Gear Behind Deadly Attacks in Pakistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    2021 میں جب امریکہ نے تقریباً دو دہائیوں بعد افغانستان سے اچانک انخلا کا اعلان کیا، تو اس وقت دنیا بھر کی نظریں کابل پر مرکوز ہو گئیں۔ امریکی فوج کا انخلا نہ صرف سیاسی و عسکری طور پر ایک بڑا واقعہ تھا، بلکہ اس کے اثرات اب بھی پورے خطے کو ہلا کر رکھے ہوئے ہیں۔

    اس انخلا کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان میں بے پناہ عسکری ساز و سامان چھوڑ دیا، جس کی مالیت امریکی محکمہ دفاع کے مطابق تقریباً سات ارب ڈالر تھی۔ اس میں 40,000 سے زائد گاڑیاں، 300,000 سے زیادہ ہتھیار، ڈرونز، نائٹ وژن آلات، ہیلی کاپٹر، اور دیگر جدید ٹیکنالوجی شامل تھی۔

    افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ اتنی بڑی مقدار میں اسلحہ کہاں گیا؟ کیا طالبان نے اسے اپنے پاس رکھا؟ یا یہ اسلحہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگا؟ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سوال کے جوابات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    پاکستانی حکومت اور سیکیورٹی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ یہ امریکی اسلحہ اب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا واضح اور حالیہ ثبوت بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والا حملہ ہے، جس میں 26 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ امریکی ساختہ تھا، جس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    1. افراتفری میں چھوٹا اسلحہ:

    جب طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا، تو افغان فوج نے شدید بد نظمی اور خوف کے عالم میں متعدد عسکری اڈے اور اسلحہ خانے چھوڑ دیے۔ کچھ اہلکار تو فرار ہو گئے اور پیچھے اسلحہ چھوڑ گئے، جب کہ کچھ نے ممکنہ طور پر یہ اسلحہ جان بوجھ کر طالبان یا دیگر گروہوں کو سونپ دیا۔

    2. طالبان اور دہشت گرد گروہوں کا گٹھ جوڑ:

    طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے درمیان نظریاتی اور تنظیمی روابط ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبان قیادت نے امریکی ہتھیار اپنے "برادر تنظیموں” کو تحفے میں دیے تاکہ وہ اپنی کارروائیاں پاکستان میں جاری رکھ سکیں۔ یہ ایک طرح کی "اسٹریٹیجک سرمایہ کاری” ہے جس کا مقصد اپنے اثر و رسوخ کو علاقائی سطح پر بڑھانا ہو سکتا ہے۔

    3. بلیک مارکیٹ میں فروخت:

    کچھ رپورٹس کے مطابق طالبان کے چند دھڑوں نے امریکی اسلحہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا تاکہ پیسہ کمایا جا سکے۔ افغان سرزمین پر اسلحے کی غیر قانونی تجارت ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کا فائدہ دنیا بھر کے شدت پسند گروہوں کو ہو رہا ہے۔

    اب جب دہشت گردوں کے پاس جدید امریکی اسلحہ موجود ہے، ان کے حملوں میں نہ صرف شدت آئی ہے بلکہ مہارت بھی بڑھی ہے۔ رات کے وقت نائٹ وژن آلات کا استعمال، بہتر نشانہ بازی، اور دور سے حملے کی صلاحیت نے پاکستان میں سیکیورٹی اداروں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اسلحہ صرف جنگی نہیں، تکنیکی بھی ہے — جس سے ان کی آپریشنل صلاحیتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔

    یہ صورتحال صرف پاکستان یا افغانستان کا مسئلہ نہیں رہا۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کے اقدامات کے نتائج کس طرح خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ امریکی اسلحے کا دہشت گردوں کے ہاتھ لگنا ایک بین الاقوامی سیکیورٹی مسئلہ ہے جس کے نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا نے نہ صرف طالبان کو طاقتور بنایا بلکہ دہشت گرد گروہوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر دیے۔ اب یہ گروہ، خاص طور پر پاکستان میں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے علاقائی تعاون، سخت نگرانی، اور عالمی سطح پر مؤثر پالیسی سازی کی فوری ضرورت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا حکومت اور مسلح افواج کا وژن ہے،وزیراعظم شہبازشریف
    Next Article سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    اوگرا میں اصلاحات کا عمل تیز، وزیراعظم شہباز شریف کی ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت

    جولائی 31, 2026

    ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    جولائی 31, 2026

    حکومت نےڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    جولائی 30, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مقبوضہ کشمیر: بھارت کی طرف سے مزید 16 کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط، حریت کانفرنس کی شدید مذمت

    جولائی 31, 2026

    محکمہ موسمیات کی پیش گوئی، آئندہ 12 گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    جولائی 31, 2026

    اوگرا میں اصلاحات کا عمل تیز، وزیراعظم شہباز شریف کی ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت

    جولائی 31, 2026

    ڈی آئی خان میں پولیس وین پر حملہ، اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید، حملہ آور فرار

    جولائی 31, 2026

    بلوچستان میں امن ہر صورت قائم ہوگا، دہشت گردی کے سامنے ریاست کبھی نہیں جھکے گی: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

    جولائی 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.