پشاور (خصوصی رپورٹر) خیبرنیوز کے مقبول ٹاک شو میں رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی، سینئر صحافی سیف الاسلام سیفی اور نمائندہ متاثرینِ تیراہ منہاج لالہ کے درمیان تفصیلی گفتگو میں اہم انکشافات سامنے آئے۔
اقبال آفریدی نے کہا کہ متاثرینِ تیراہ کے مسائل کے حل کے لیے بنائی گئی 24 رکنی کمیٹی میں شامل مشران کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور دیگر منتخب نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے پریس کلب پشاور کے باہر لگائے گئے احتجاجی کیمپ کو بھی محض "ٹوپی ڈرامہ” قرار دیا۔
پروگرام کے میزبان رفعت اللہ اورکزئی کے سوال پر کہ کیا وہ تیراہ میں جنگلات کی کٹائی سے آگاہ ہیں اور وہاں کب گئے تھے، اقبال آفریدی نے جواب دیا کہ وہ جلد ہی علاقے کا دورہ کریں گے اور خود جائزہ لے کر صورتحال واضح کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن سے قبل انہوں نے متعلقہ حکام کو تجویز دی تھی کہ آپریشن کے بجائے مقامی سطح پر مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، اور اگر مسئلہ حل نہ ہو تو مشران کو اعتماد میں لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے، تاہم ان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔
نمائندہ متاثرینِ تیراہ منہاج لالہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے تمام مطالبات وزیر اعلیٰ سمیت حکومتی ذمہ داران کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔
سینئر صحافی سیف الاسلام سیفی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبے کے اہم مسائل سے چشم پوشی کر رہے ہیں، جبکہ جنوبی پختونخوا میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون سے گریز کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

