Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اپریل 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری، سلطانز نے کنگزمین کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی
    • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق
    • خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں جاری، مزید 13 دہشتگرد ہلاک
    • آپریشن غضب الحق کے بعد اسلام آباد اور کابل کا پہلا اعلیٰ سطح رابطہ: خطے میں سفارت کاری کا نیا موڑ
    • ایران امریکہ جنگ ہماری جنگ نہیں، برطانیہ کو اس میں گھسیٹنے نہیں دینگے، اسٹارمر
    • ایران فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا، فیفا صدر
    • ارومچی میں پاک۔افغان جونیئر لیول مذاکرات کا آغاز
    • امریکی صدر کا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنےکا اعلان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ٹرائل کورٹ 9 مئی سے متعلق کیسز کا 4 ماہ میں فیصلہ کرے، سپریم کورٹ کا حکم
    اہم خبریں

    ٹرائل کورٹ 9 مئی سے متعلق کیسز کا 4 ماہ میں فیصلہ کرے، سپریم کورٹ کا حکم

    اپریل 8, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Trial court should decide cases related to May 9 within 4 months, Supreme Court orders
    مشال خان قتل کیس کے وقت میں پشاور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تھا، اس کیس کا 3 ماہ میں ٹرائل مکمل ہوا،چیف جسٹس
    Share
    Facebook Twitter Email

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 9 مئی ملزمان کی ضمانت منسوخی کیس کی سماعت کی ۔

    اسلام آباد: عدالت نے 9 مئی کیسز میں ٹرائل کورٹ کو 4 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    اس موقع پر ایک ملزم کے وکیل نے کہا کہ 4 ماہ میں ٹرائل کیسے مکمل ہوگا ؟ ہمارے خلاف 35 مقدمات ہیں اتنے کم عرصے میں ٹرائل مکمل نہیں ہوگا ۔

    چیف جسٹس پاکستان نے خدیجہ شاہ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں پر اعتماد کریں اور کیسز کو چلنے دیں ۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مردان میں مشال خان قتل کا واقعہ ہوا تھا، میں اس وقت پشاور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تھا، مشال خان قتل کیس کا 3 ماہ میں ٹرائل مکمل ہوا، انسداد دہشتگردی کی عدالت پرفارم کر سکتی ہے ۔

    عدالت نے حکم دیا کہ انسداد دہشت گردی عدالتیں ہر 15 روز میں ٹرائل سے متعلق پیش رفت رپورٹس متعلقہ ہائی کورٹس میں جمع کرائیں ۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر پیش ہوئے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا ہائیکورٹس کی فائینڈنگ قانون اور شواہد کے خلاف ہیں، عدالت کو بتایا گیا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں اور ہائی کورٹس نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب واجد گیلانی نے بتایا اب تک 28 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایف سی بلوچستان ساؤتھ کی جانب سے بلوچستان کے دور آفتادہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد
    Next Article شمالی وزیرستان میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق

    اپریل 1, 2026

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں جاری، مزید 13 دہشتگرد ہلاک

    اپریل 1, 2026

    ایران امریکہ جنگ ہماری جنگ نہیں، برطانیہ کو اس میں گھسیٹنے نہیں دینگے، اسٹارمر

    اپریل 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری، سلطانز نے کنگزمین کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی

    اپریل 1, 2026

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق

    اپریل 1, 2026

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں جاری، مزید 13 دہشتگرد ہلاک

    اپریل 1, 2026

    آپریشن غضب الحق کے بعد اسلام آباد اور کابل کا پہلا اعلیٰ سطح رابطہ: خطے میں سفارت کاری کا نیا موڑ

    اپریل 1, 2026

    ایران امریکہ جنگ ہماری جنگ نہیں، برطانیہ کو اس میں گھسیٹنے نہیں دینگے، اسٹارمر

    اپریل 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.