واشنگٹن میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس بات کا بے حد احترام ہے کہ ایران کی قیادت نے وہ تمام پھانسیاں منسوخ کر دی ہیں جو گزشتہ روز طے تھیں، جن کی تعداد 800 سے زائد بتائی جا رہی تھی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں ایران کا شکریہ ادا کیا۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی بارہا دھمکیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ وہ مظاہرین کی مدد کے لیے یہ قدم اٹھا سکتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے بدھ کے روز یہ کہتے ہوئے ممکنہ فوجی مداخلت مؤخر کر دی کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ قتل و غارت کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو خلیجی ممالک کے حکام کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے انہیں حملے سے باز رہنے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ انہوں نے خود کیا اور ایران کے اقدامات نے انہیں متاثر کیا۔
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے انہیں قائل نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود یہ فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے پھانسیوں کی منسوخی نے ان کے فیصلے پر گہرا اثر ڈالا۔

