برطانیہ کی ہائی کورٹ نے سابق فوجی افسر عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نصیر کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات ہتک آمیز اور بے بنیاد تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عادل راجہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد تھے اور انہوں نے مدعی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ عدالت اس کیس کا مختصر فیصلہ گزشتہ سال اکتوبر میں سنا چکی تھی، جبکہ دسمبر 2025 میں عادل راجہ کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی۔
عدالت نے عادل راجہ پر پچاس ہزار پاؤنڈ ہرجانہ عائد کیا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً دو کروڑ روپے بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً نو کروڑ روپے قانونی اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
مزید برآں عدالت نے انہیں 28 دن کے اندر سوشل میڈیا پر معافی شائع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
عادل راجہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیس کی آئندہ قانونی پیش رفت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

