Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پی ٹی آئی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی، امیر حیدر خان ہوتی
    • میں جو ھوں اس پہ پشیماں نہیں ھوں لوگوں کی باتوں کی پرواہ کبھی نہیں کی نہ ھے۔۔۔ ڈولفن آیان
    • شوبز میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا خودداری کو ھمیشہ ترجیح دی۔۔۔۔ شازمہ حلیم۔۔
    • تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل ھمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔ اقبال آفریدی۔۔۔
    •  کسی بھی غیر مہذب اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں میں کام نہ کرنیکا عہد کررکھا ھے شینوماما۔
    • معروف چترالی فنکار اقبال الدین دارفانی سے کوچ کرگئے۔۔۔
    • مادری زبان میں تعلیم کیلئے اے این پی کا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس
    • وزیراعظم کی زیر صدارت دور دراز علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے سولرائزیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » معدنی دوڑ، ایک موقع یا ایک اور کھویا ہوا امکان؟
    بلاگ

    معدنی دوڑ، ایک موقع یا ایک اور کھویا ہوا امکان؟

    ستمبر 16, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Pakistan’s Critical Minerals Could Redefine Its Global Relevance
    In the Global Resource Race Pakistan Stands at a Strategic Crossroads
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے منتقلی اور صنعتی ترقی کے نئے تقاضے اب معدنی وسائل کو محض معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اثاثہ بنا چکے ہیں۔ خاص طور پر لیتھیئم، کوبالٹ، نکل، اور تانبا – آج کی عالمی معیشت، دفاعی صنعت، اور ماحولیاتی پالیسیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ ایسی صورت میں، امریکہ کی جانب سے پاکستان کی طرف بڑھایا جانے والا حالیہ سفارتی ہاتھ، اور جولائی کے آخر میں دو طرفہ تجارتی معاہدے کے تحت پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنا، محض ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹیجک چال کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔ جس وقت دنیا چین کے معدنیاتی غلبے سے چھٹکارا پانے کے لیے نئے شراکت دار تلاش کر رہی ہے، پاکستان اپنی ارضیاتی دولت کے بل بوتے پر ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس تانبے، لیتھیئم، کوبالٹ، نکل، اور دیگر قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، جن کی مالیت کا اندازہ 6 ٹریلین امریکی ڈالر تک لگایا جا چکا ہے۔ بلوچستان کا ریکوڈک منصوبہ، چترال اور گلگت بلتستان کے لیتھیئم اور نایاب زمینی دھاتوں کے ذخائر، پاکستان کو اس عالمی دوڑ میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہیں — اگر ملک خود کو تیار کرے۔

    امریکہ کی دلچسپی محض تجارتی منافع تک محدود نہیں۔ چین کی عالمی معدنیات کی سپلائی چین میں برتری — خاص طور پر ریفائننگ اور ریئر ارتھ میٹلز میں — نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ نئی راہیں تلاش کرے۔ چاہے وہ افغانستان میں چینی سرمایہ کاری ہو، یا افریقی ممالک میں چین کی موجودگی، امریکہ کو اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ اس کے جواب میں، امریکہ نے نہ صرف مقامی سطح پر نایاب دھاتوں کی پیداوار کو فروغ دیا بلکہ Quad جیسے فورمز میں شامل ہو کر نئے اتحادیوں کی تلاش بھی شروع کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ تجارتی رعایت اور معدنی تعاون کی بات چیت اسی بڑی اسٹریٹیجی کا حصہ ہے۔

    پاکستان کو سب سے پہلے اپنے اندرونی مسائل سے نمٹنا ہوگا،  جن میں سیاسی عدم استحکام، کرپشن، ادارہ جاتی کمزوری، اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ اگرچہ قدرتی دولت بے شمار ہے، لیکن اُس کو نکالنا، پراسیس کرنا، اور عالمی معیار کے مطابق مارکیٹ میں لانا ایک مکمل نظام اور طویل مدتی ویژن کا تقاضا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہم نے اکثر ایسی قدرتی دولت کو ضائع کیا یا بیچ راہ میں چھوڑ دیا۔ ریکوڈک کیس اس کی ایک واضح مثال ہے، جس نے ایک دہائی سے زائد پاکستان کو قانونی اور معاشی مشکلات میں الجھا رکھا۔

    اس موقع پر ایک قومی معدنی پالیسی اور اسٹریٹیجی کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں کو اعتماد دے، بلکہ غیر ملکی شراکت داروں کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرے۔ امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ چین بھی، ایسے مواقع کے متلاشی ہیں جہاں وہ نئی سرمایہ کاری کر سکیں۔ اگر پاکستان نے اپنے معدنی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی، تو وہ نہ صرف اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ خود کو عالمی اسٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی ریاستوں میں شمار کروا سکتا ہے۔

    بالآخر، یہ وقت صرف قدرتی دولت رکھنے کا نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمتِ عملی، پالیسی تسلسل، اور علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کا ہے۔ امریکہ کے ساتھ حالیہ قربت اور معدنی تعاون کی باتیں، پاکستان کو دنیا کے اس نئے وسائل کے کھیل میں ایک اہم کھلاڑی بنا سکتی ہیں — بشرطیکہ ہم سنجیدگی سے کھیلنے کو تیار ہوں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسلامی ٹاسک فورس کا قیام، پاکستان کی جراتمندانہ تجویز
    Next Article عشرت عباس کی فنی خدمات کے اعتراف میں 22 ستمبر کو خصوصی تقریب
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026

    این ایف سی اور گلگت بلتستان کا سوال

    جنوری 4, 2026

    بانی پی ٹی آئی کے رہا نہ ہونے کے پیچھے وجوہات کیا ہیں ؟

    دسمبر 30, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پی ٹی آئی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی، امیر حیدر خان ہوتی

    جنوری 9, 2026

    میں جو ھوں اس پہ پشیماں نہیں ھوں لوگوں کی باتوں کی پرواہ کبھی نہیں کی نہ ھے۔۔۔ ڈولفن آیان

    جنوری 9, 2026

    شوبز میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا خودداری کو ھمیشہ ترجیح دی۔۔۔۔ شازمہ حلیم۔۔

    جنوری 9, 2026

    تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل ھمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔ اقبال آفریدی۔۔۔

    جنوری 9, 2026

     کسی بھی غیر مہذب اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں میں کام نہ کرنیکا عہد کررکھا ھے شینوماما۔

    جنوری 9, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.