Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا
    • پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
    • پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی
    • علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا
    • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات
    • کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » معدنی دوڑ، ایک موقع یا ایک اور کھویا ہوا امکان؟
    بلاگ

    معدنی دوڑ، ایک موقع یا ایک اور کھویا ہوا امکان؟

    ستمبر 16, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Pakistan’s Critical Minerals Could Redefine Its Global Relevance
    In the Global Resource Race Pakistan Stands at a Strategic Crossroads
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے منتقلی اور صنعتی ترقی کے نئے تقاضے اب معدنی وسائل کو محض معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اثاثہ بنا چکے ہیں۔ خاص طور پر لیتھیئم، کوبالٹ، نکل، اور تانبا – آج کی عالمی معیشت، دفاعی صنعت، اور ماحولیاتی پالیسیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ ایسی صورت میں، امریکہ کی جانب سے پاکستان کی طرف بڑھایا جانے والا حالیہ سفارتی ہاتھ، اور جولائی کے آخر میں دو طرفہ تجارتی معاہدے کے تحت پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنا، محض ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹیجک چال کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔ جس وقت دنیا چین کے معدنیاتی غلبے سے چھٹکارا پانے کے لیے نئے شراکت دار تلاش کر رہی ہے، پاکستان اپنی ارضیاتی دولت کے بل بوتے پر ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس تانبے، لیتھیئم، کوبالٹ، نکل، اور دیگر قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، جن کی مالیت کا اندازہ 6 ٹریلین امریکی ڈالر تک لگایا جا چکا ہے۔ بلوچستان کا ریکوڈک منصوبہ، چترال اور گلگت بلتستان کے لیتھیئم اور نایاب زمینی دھاتوں کے ذخائر، پاکستان کو اس عالمی دوڑ میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہیں — اگر ملک خود کو تیار کرے۔

    امریکہ کی دلچسپی محض تجارتی منافع تک محدود نہیں۔ چین کی عالمی معدنیات کی سپلائی چین میں برتری — خاص طور پر ریفائننگ اور ریئر ارتھ میٹلز میں — نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ نئی راہیں تلاش کرے۔ چاہے وہ افغانستان میں چینی سرمایہ کاری ہو، یا افریقی ممالک میں چین کی موجودگی، امریکہ کو اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ اس کے جواب میں، امریکہ نے نہ صرف مقامی سطح پر نایاب دھاتوں کی پیداوار کو فروغ دیا بلکہ Quad جیسے فورمز میں شامل ہو کر نئے اتحادیوں کی تلاش بھی شروع کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ تجارتی رعایت اور معدنی تعاون کی بات چیت اسی بڑی اسٹریٹیجی کا حصہ ہے۔

    پاکستان کو سب سے پہلے اپنے اندرونی مسائل سے نمٹنا ہوگا،  جن میں سیاسی عدم استحکام، کرپشن، ادارہ جاتی کمزوری، اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ اگرچہ قدرتی دولت بے شمار ہے، لیکن اُس کو نکالنا، پراسیس کرنا، اور عالمی معیار کے مطابق مارکیٹ میں لانا ایک مکمل نظام اور طویل مدتی ویژن کا تقاضا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہم نے اکثر ایسی قدرتی دولت کو ضائع کیا یا بیچ راہ میں چھوڑ دیا۔ ریکوڈک کیس اس کی ایک واضح مثال ہے، جس نے ایک دہائی سے زائد پاکستان کو قانونی اور معاشی مشکلات میں الجھا رکھا۔

    اس موقع پر ایک قومی معدنی پالیسی اور اسٹریٹیجی کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں کو اعتماد دے، بلکہ غیر ملکی شراکت داروں کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرے۔ امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ چین بھی، ایسے مواقع کے متلاشی ہیں جہاں وہ نئی سرمایہ کاری کر سکیں۔ اگر پاکستان نے اپنے معدنی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی، تو وہ نہ صرف اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ خود کو عالمی اسٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی ریاستوں میں شمار کروا سکتا ہے۔

    بالآخر، یہ وقت صرف قدرتی دولت رکھنے کا نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمتِ عملی، پالیسی تسلسل، اور علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کا ہے۔ امریکہ کے ساتھ حالیہ قربت اور معدنی تعاون کی باتیں، پاکستان کو دنیا کے اس نئے وسائل کے کھیل میں ایک اہم کھلاڑی بنا سکتی ہیں — بشرطیکہ ہم سنجیدگی سے کھیلنے کو تیار ہوں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسلامی ٹاسک فورس کا قیام، پاکستان کی جراتمندانہ تجویز
    Next Article عشرت عباس کی فنی خدمات کے اعتراف میں 22 ستمبر کو خصوصی تقریب
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا

    فروری 25, 2026

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    فروری 25, 2026

    پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی

    فروری 25, 2026

    علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی

    فروری 25, 2026

    وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال

    فروری 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.