اسلام آباد(ویب ڈیسک)پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کی کاپی نہیں تو فیصلہ کیسے سنایا گیا۔ اراکین نے دستخط کہاں کیے؟
پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اب بند کمروں کے فیصلوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔ پاکستان کے لوگ فیصلے اپنے سامنے ہونا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی واحد وفاقی جماعت کے سربراہ کو نااہل کیا گیا۔ عمران خان نے کوئی اپیل نہیں کی۔ لیکن پھر بھی پورے پاکستان میں لوگ نکلے۔
انہوں نے کہا کہ قومی لیڈر کو نااہل کرنے کا مطلب ملک کو کمزور کرنا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے وفاقی کابینہ اراکین کے ساتھ مل کر کھیل کھیلا۔ مخصوص نشستوں پر استعفے منظور کیے۔ لیکن عوام نے وہاں بھی عمران خان کو منتخب کیا۔ ملک میں سازشیں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو 24 گھنٹے ہونے والے ہیں تاحال ہمیں کوئی کاپی نہیں ملی۔
فواد چودھری نے کہا کہ 24 گھنٹے ہو گئے الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری نہیں کیا۔ اگر فیصلے کی کاپی نہیں تو پھر الیکشن کمیشن نے سنایا کیا؟۔ اراکین کے دستخط کے بغیر کیسے فیصلہ دیا؟۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں تبدیلی کا امکان ہے جس طرح فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ تبدیل کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف فیصلے میں حکومت کی پسندیدہ چیزیں شامل کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز کا فیصلہ 22 کروڑ لوگوں کے منہ پر طمانچہ تھا۔ آصف زرداری اور نواز شریف کا توشہ خانہ کیس 10 سال سے زیر التوا ہے۔ 11 سو ارب روپے کی کیسز ختم ہو رہے ہیں۔ اس لیے لانگ مارچ اور انقلاب کی طرف جانا پڑے گا۔
منگل, مئی 5, 2026
بریکنگ نیوز
- خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر پھٹ پڑے
- کراچی میں شدید گرمی کے باعث 8 افراد جاں بحق ،شانگلہ میں بارش اور ژالہ باری ، موسم سرد ہو گیا
- سوات:سیلاب متاثرین کو معاوضہ نہ مل سکا، تاجروں کا حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت، احتجاج کی دھمکی
- بحیرۂ عرب: پاک بحریہ کا ریسکیو آپریشن، بھارتی عملے کو ہنگامی امداد کی فراہمی جاری
- راولپنڈی: پولیس کی بڑی کارروائی، بھارتی شہری گرفتار
- دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی، پاکستان کی بھارت سے وضاحت طلب
- ایران کا امریکی جنگ بندی تجویز پر غور جاری، پاکستان کے ذریعے پیغام موصول ہونے کی تصدیق
- نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

