Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مئی 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف
    • سلہٹ ٹیسٹ میں کامیابی کی تمام امیدیں محمد رضوان سے وابستہ ہو گئیں
    • شمالی وزیرستان: شیوہ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک
    • وزیراعظم کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات، طویل المدتی شراکت داری کا عزم
    • پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
    • پاکستان اور جاپان کے درمیان پیٹرولیم، جیوسائنسز اور معدنی تحقیق میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
    • روس اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک استحکام پر مشاورتی اجلاس کا انعقاد
    • اعلان کے باوجود ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سپریم کورٹ کا انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم
    اہم خبریں

    سپریم کورٹ کا انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم

    مارچ 1, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پنجاب، خیبرپختونخوا (کے پی) الیکشن ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے دونوں صوبوں میں انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےگزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا،  سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا ہے، فیصلہ 13 صفحات پر مشتمل ہے  اور  جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس منصورعلی شاہ کے اختلافی نوٹ 2 صفحات پر مشتمل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم دیا ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دو کے مقابلے میں تین کی اکثریت سے دیا ہے، بینچ کی اکثریت نے درخواست گزاروں کو ریلیف دیا ہے۔

    فیصلے میں دو ججز کا درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض

    فیصلے میں5 رکنی بینچ کے دو ممبران نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہےکہ  جنرل اتنخابات کا طریقہ کار  مختلف ہوتا ہے، آئین میں انتخابات کے لیے 60  اور  90  دن کا وقت دیا گیا ہے، اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات ہونا لازم ہیں، پنجاب اسمبلی گورنرکے دستخط نہ ہونے پر 48 گھنٹے میں خود تحلیل ہوئی جب کہ کے پی اسمبلی گورنر کی منظوری پر تحلیل ہوئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ گورنرکو آئین کے تحت تین صورتوں میں اختیارات دیےگئے، گورنر آرٹیکل 112 کے تحت، دوسرا وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرتے ہیں، آئین کا آرٹیکل 222 کہتا ہےکہ انتخابات وفاق کا سبجیکٹ ہے، الیکشن ایکٹ گورنر اور صدر کو انتخابات کی تاریخ کی اعلان کا اختیار دیتا ہے، اگر اسمبلی گورنر نے تحلیل کی تو تاریخ کا اعلان بھی گورنرکرےگا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو صدر مملکت سیکشن 57 کے تحت اسمبلی تحلیل کریں گے۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار حاصل ہے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی آئینی ذمہ داری گورنر کی ہے،گورنر کے پی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرکے آئینی ذمہ داری سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ تجویز کرے، الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صدر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، گورنر کے پی صوبائی اسمبلی میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، ہر صوبے میں انتخابات آئینی مدت کے اندر ہونے چاہئیں۔

    عدالت عظمیٰ کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن صدر اورگورنر سے مشاورت کا پابند ہے، 9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہےکہ تمام وفاقی اور صوبائی ادارے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں، وفاق الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے تمام سہولیات فراہم کرے، عدالت انتخابات سے متعلق یہ درخواستیں قابل سماعت قرار دے کر نمٹاتی ہے۔ چیف جسٹس نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ بھی پڑھ کر سنائے۔

    اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ  ہائی کورٹس میں جاری ان معاملات کی کارروائی میں کوئی تاخیر نہیں ہے، سپریم کورٹ کی حالیہ کارروائی ہائی کورٹس میں جاری کارروائی میں رکاوٹ کا سبب بنی ہے، ہائی کورٹس کو ان آئینی معاملات پر تین دنوں میں فیصلےکا حکم دیتے ہیں، ایسے تمام معاملات کو حل کرنا پارلیمان کا اختیار ہے۔

     سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگرکیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

    حکمران اتحاد نے 9 رکنی لارجر بینچ میں شامل 2 ججز پر اعتراض اٹھایا جس کے بعد جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے خودکو بینچ سے الگ کرلیا اور جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی9 رکنی بینچ سے علیحدہ ہوگئے۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleالیکشن کی تاریخ پرگورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں: چیف جسٹس
    Next Article عمران خان نے جیل بھرو تحریک معطل کرنے اور انتخابی مہم کے آغاز کا اعلان کردیا
    Web Desk

    Related Posts

    آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    مئی 19, 2026

    شمالی وزیرستان: شیوہ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک

    مئی 19, 2026

    وزیراعظم کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات، طویل المدتی شراکت داری کا عزم

    مئی 19, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    مئی 19, 2026

    سلہٹ ٹیسٹ میں کامیابی کی تمام امیدیں محمد رضوان سے وابستہ ہو گئیں

    مئی 19, 2026

    شمالی وزیرستان: شیوہ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک

    مئی 19, 2026

    وزیراعظم کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات، طویل المدتی شراکت داری کا عزم

    مئی 19, 2026

    پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور

    مئی 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.