Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت
    • خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سپریم کورٹ کا انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم
    اہم خبریں مارچ 1, 2023

    سپریم کورٹ کا انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پنجاب، خیبرپختونخوا (کے پی) الیکشن ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے دونوں صوبوں میں انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےگزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا،  سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا ہے، فیصلہ 13 صفحات پر مشتمل ہے  اور  جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس منصورعلی شاہ کے اختلافی نوٹ 2 صفحات پر مشتمل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم دیا ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دو کے مقابلے میں تین کی اکثریت سے دیا ہے، بینچ کی اکثریت نے درخواست گزاروں کو ریلیف دیا ہے۔

    فیصلے میں دو ججز کا درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض

    فیصلے میں5 رکنی بینچ کے دو ممبران نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہےکہ  جنرل اتنخابات کا طریقہ کار  مختلف ہوتا ہے، آئین میں انتخابات کے لیے 60  اور  90  دن کا وقت دیا گیا ہے، اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات ہونا لازم ہیں، پنجاب اسمبلی گورنرکے دستخط نہ ہونے پر 48 گھنٹے میں خود تحلیل ہوئی جب کہ کے پی اسمبلی گورنر کی منظوری پر تحلیل ہوئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ گورنرکو آئین کے تحت تین صورتوں میں اختیارات دیےگئے، گورنر آرٹیکل 112 کے تحت، دوسرا وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرتے ہیں، آئین کا آرٹیکل 222 کہتا ہےکہ انتخابات وفاق کا سبجیکٹ ہے، الیکشن ایکٹ گورنر اور صدر کو انتخابات کی تاریخ کی اعلان کا اختیار دیتا ہے، اگر اسمبلی گورنر نے تحلیل کی تو تاریخ کا اعلان بھی گورنرکرےگا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو صدر مملکت سیکشن 57 کے تحت اسمبلی تحلیل کریں گے۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار حاصل ہے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی آئینی ذمہ داری گورنر کی ہے،گورنر کے پی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرکے آئینی ذمہ داری سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ تجویز کرے، الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صدر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، گورنر کے پی صوبائی اسمبلی میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، ہر صوبے میں انتخابات آئینی مدت کے اندر ہونے چاہئیں۔

    عدالت عظمیٰ کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن صدر اورگورنر سے مشاورت کا پابند ہے، 9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہےکہ تمام وفاقی اور صوبائی ادارے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں، وفاق الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے تمام سہولیات فراہم کرے، عدالت انتخابات سے متعلق یہ درخواستیں قابل سماعت قرار دے کر نمٹاتی ہے۔ چیف جسٹس نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ بھی پڑھ کر سنائے۔

    اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ  ہائی کورٹس میں جاری ان معاملات کی کارروائی میں کوئی تاخیر نہیں ہے، سپریم کورٹ کی حالیہ کارروائی ہائی کورٹس میں جاری کارروائی میں رکاوٹ کا سبب بنی ہے، ہائی کورٹس کو ان آئینی معاملات پر تین دنوں میں فیصلےکا حکم دیتے ہیں، ایسے تمام معاملات کو حل کرنا پارلیمان کا اختیار ہے۔

     سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگرکیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

    حکمران اتحاد نے 9 رکنی لارجر بینچ میں شامل 2 ججز پر اعتراض اٹھایا جس کے بعد جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے خودکو بینچ سے الگ کرلیا اور جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی9 رکنی بینچ سے علیحدہ ہوگئے۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleالیکشن کی تاریخ پرگورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں: چیف جسٹس
    Next Article عمران خان نے جیل بھرو تحریک معطل کرنے اور انتخابی مہم کے آغاز کا اعلان کردیا
    Web Desk

    Related Posts

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.