Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جنوری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    • افغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    • پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی
    • پاکستان کا آئی سی سی کو خط، بنگلہ دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی حمایت
    • مہمند میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، درجن بھر دکانیں سیل، متعدد افراد گرفتار
    • ٹرمپ کا افغانستان سے انخلا پر سخت تنقید، بگرام ایئر بیس چھوڑنا بڑی غلطی قرار
    • اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب
    • پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر کے 3 معاہدوں پر دستخط ہو گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سی پی ڈی آئی نے ”پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال“ پر مبنی تیسری سالانہ رپورٹ جاری کر دی
    اہم خبریں

    سی پی ڈی آئی نے ”پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال“ پر مبنی تیسری سالانہ رپورٹ جاری کر دی

    جنوری 21, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:سی پی ڈی آئی کی جانب سے پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال پر مبنی تیسری سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی۔ رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطح پربجٹ سازی کے عمل میں پائی جانیوالی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجٹ تجاویز کو وسیع پیمانے پر شہری گروپوں، سرکاری اداروں اور اہم شراکت داروں کیساتھ زیربحث لایا جائے۔ علاوہ ازیں بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شمولیت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ بجٹ سازی کے مختلف مراحل کے دوران شہریوں سے مشاورت کریں خصوصاً بجٹ سازی اور اس پر عمل درآمد کے دوران ممبران اسمبلی کے کردار کو بڑھایا جائے۔

    اس سلسلہ میں سیٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبیلٹی (سی این بی اے) کی ممبر تنظیم امن ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جناح ہال TMA راولپنڈی میں منعقدہ ہوا۔شراکت داروں کے ساتھ بجٹ شفافیت پر ایک مذاکرہ کے دوران شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے اعجاز شیرازی ، محمد طفیل ، حاجی اختر ، بریگیڈیئر سلطان محمد ستی نے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی سے سی پی ڈی آئی پاکستان میں ضلعی سطح سے وفاقی سطح تک بجٹ سازی کے عمل کو بہتر بنانے اور اس میں شفافیت کے فروغ کیلئے کوشاں رہی ہے۔گذشتہ سال کی طرح رواں سال بھی وفاقی اورصوبائی سطح پر اس عمل کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ”پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال2023“پر مبنی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔اس رپورٹ میں نہ صرف پاکستان میں بجٹ شفافیت کو جانچا گیا ہے بلکہ اس سے یہ اندازہ لگانے میں بھی مد دملی ہے کہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین بجٹ سے متعلق معلومات کے حصول میں کس حد تک موثر ہیں۔

    یہ رپورٹ دو حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ مختلف وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو معلومات کے حصول کے لئے ارسال کردہ درخواستوں سے متعلق ہے جن میں بجٹ سازی کے عمل کے دوران مختلف مراحل کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔اس سلسلہ میں بجٹ سازی کے عمل میں شفافیت کو جانچنے کیلئے منتخب وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو معلومات کے حصول کی 150درخواستیں بھجوائی گئیں جن میں وفاق کو 38،بلوچستان،خیبر پختونخواہ،پنجاب اور سندھ کو112 درخواستیں ارسال کی گئیں۔ ان تمام درخواستوں میں سے کسی ایک کا جواب بھی مقررہ وقت کے دوران موصول نہیں ہوا جو کہ انتہائی مایوس کن ہے۔رپورٹ کے دوسرے حصہ میں بجٹ دستاویزات کی جامعیت اور بجٹ سازی میں شہریوں کی شرکت کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہاں خیبر پختونخوا حکومت کل267 پوائنٹس میں سے 93 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست،پنجاب دوسرے، سندھ تیسرے جبکہ بلوچستان چوتھی اور وفاقی حکومت پانچویں یعنی آخری پوزیشن پر ہے۔بجٹ دستاویزات کی جامعیت کے لحاظ سے تمام حکومتوں نے پہلے سے بہتر اور قابل تعریف کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور یہ بجٹ دستاویزات بین الاقوامی فنکشنل اور معاشی درجہ بندی کی شرائط پر پورا اترتی ہیں۔
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں معلومات تک رسائی کے قوانین پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ بجٹ شفافیت کو فروغ حاصل ہو علاوہ ازیں بجٹ پر بحث اور منظوری کے دورانیہ کو بڑھا یا جائے تاکہ اس پر سیر حاصل بحث کی جاسکے۔اسکے ساتھ ساتھ متعلقہ سٹیک ہولڈرز خصوصاً شہریوں سے مشاورت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ معلومات کی فراہمی پر مبنی ایک شفاف اور اوپن بجٹ پالیسی وضع کی جانی چاہیے۔

     

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleالیکشن کمیشن نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے تقرر کیلئے اجلاس طلب کر لیا
    Next Article کوئی بڑا فالٹ نہیں آیا، اگلے 12 گھنٹوں میں بجلی مکمل بحال ہو جائیگی: وفاقی وزیر توانائی
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی

    جنوری 21, 2026

    پاکستان کا آئی سی سی کو خط، بنگلہ دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی حمایت

    جنوری 21, 2026

    مہمند میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، درجن بھر دکانیں سیل، متعدد افراد گرفتار

    جنوری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    جنوری 21, 2026

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    جنوری 21, 2026

    پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی

    جنوری 21, 2026

    پاکستان کا آئی سی سی کو خط، بنگلہ دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی حمایت

    جنوری 21, 2026

    مہمند میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، درجن بھر دکانیں سیل، متعدد افراد گرفتار

    جنوری 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.