Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف
    • وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
    • حکومت معاشی شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 817 پوائنٹس گر گیا
    • پشاور میں سرکاری رہائشگاہوں پر ریٹائرڈ افسران کے قبضے، قوانین کی خلاف ورزی کے انکشافات
    • خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل برقرار، قیادت کی کارکردگی پر سوالات
    • لکی مروت میں پولیس اہلکار کا اغوا، سیکیورٹی صورتحال پر تشویش
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی
    Uncategorized

    ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی

    مارچ 11, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    "Father Ends Life After Daughter Forced into Vani"
    "ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی: پنچایت کے ظالمانہ فیصلے نے خاندان کو تباہ کر دیا"
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا: ایک باپ نے پنچایت کے ظالمانہ فیصلے کے بعد اپنی 13 سالہ بیٹی کو ’ونی‘ کرنے کے فیصلے کو برداشت نہ کر سکا اور زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ واقعہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں بگوانی میں پیش آیا، جہاں پنچایت کے نام پر انصاف کے بجائے ظلم کی داستان رقم ہوئی۔

    پولیس کے مطابق، یہ واقعہ ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا جب عادل نامی شخص کے بھانجے کو ملزم کی بیٹی کے ساتھ ’نازیبا حرکات‘ کرتے ہوئے پایا گیا۔ معاملہ جرگے کے سامنے آیا تو عادل کے بھانجے پر چھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم، ملزم نے عادل پر دباؤ ڈالا کہ ’میری بیٹی کی عزت آپ کے گھر میں خراب ہوئی ہے‘۔ اس کے بعد مقامی پنچایت نے عادل کو بُلا کر زبردستی اس کی 13 سالہ بیٹی کو ونی کرنے کا بیان تحریر کروایا۔

    پنچایت کے فیصلے کے مطابق، عادل کی بیٹی کی ملزم کے بیٹے سے منگنی کر دی گئی اور جلد نکاح اور رخصتی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ عادل نے پنچایت کے اس فیصلے کو دل برداشتہ ہو کر قبول کیا اور آخرکار زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔

    سوشل میڈیا پر عادل کا ایک آڈیو پیغام بھی وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ اپنی بیٹی کے ونی کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا، ’ہمارا کوئی قصور نہیں تھا، میں نے انھیں نہیں بخشا، آپ بھی انھیں چھوڑنا نہیں۔‘ عادل نے الزام لگایا کہ انھیں زبردستی اٹھا کر لے جایا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ انھوں نے کہا، ’میری بیٹی پر کوئی آنچ نہ آئے، میں قربان ہو جاؤں۔‘

    خیبر پختونخوا پولیس نے اس واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو ہدایات جاری کیں۔ پولیس کے مطابق، کمسن بچی کو بازیاب کر کے اس کے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عادل سے جو سات لاکھ روپے لیے گئے تھے، وہ بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    ونی یا سوارہ ایک ایسی ظالمانہ رسم ہے جو صدیوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رائج ہے۔ اس رسم کے تحت دو خاندانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے ایک لڑکی کو بطور جرمانہ دوسرے خاندان کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ یہ رسم نہ صرف لڑکی کی مرضی کے خلاف ہوتی ہے بلکہ اسے ایک ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

    پاکستان میں ونی کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن دور دراز علاقوں میں یہ رسم اب بھی جاری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے 27 اکتوبر 2021 کو سوارہ کی رسم کو اسلامی شریعت کے منافی قرار دے دیا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ رسم جاری ہے۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کب تک معصوم لڑکیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے گا؟ کب تک پنچایت کے نام پر انصاف کے بجائے ظلم کی داستانیں رقم ہوتی رہیں گی؟ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی ظالمانہ رسومات کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں اور معصوم بچیوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے کام کریں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر مسلح افراد کی فائرنگ،ڈرائیور زخمی
    Next Article کوئٹہ میں جعفرایکسپریس پر نامعلوم افراد کا حملہ
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز

    اپریل 28, 2026

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب

    اپریل 28, 2026

    اسلام آباد ہائیکورٹ، پی ٹی اے ٹربیونل ممبر کی عدم تعیناتی کے کيس میں وزیراعظم شہبازشریف ذاتی حیثیت میں طلب

    اپریل 28, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف

    اپریل 28, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

    اپریل 28, 2026

    حکومت معاشی شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    اپریل 28, 2026

    مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز

    اپریل 28, 2026

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 817 پوائنٹس گر گیا

    اپریل 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.