Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جون 10, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا
    • شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری
    • فضل الٰہی کون ہیں؟ میں انہیں جانتی تک نہیں، مجھ سے منسوب بیان من گھڑت ہے، علیمہ خان
    • پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
    • معیشت میں بہتری آئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح، وزیراعظم شہباز شریف
    • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
    • مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید
    • پشاور: حسن خیل میں دہشتگردوں سے مقابلے میں 6 ایف سی اہلکار شہید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی
    Uncategorized

    ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی

    مارچ 11, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    "Father Ends Life After Daughter Forced into Vani"
    "ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی: پنچایت کے ظالمانہ فیصلے نے خاندان کو تباہ کر دیا"
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا: ایک باپ نے پنچایت کے ظالمانہ فیصلے کے بعد اپنی 13 سالہ بیٹی کو ’ونی‘ کرنے کے فیصلے کو برداشت نہ کر سکا اور زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ واقعہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں بگوانی میں پیش آیا، جہاں پنچایت کے نام پر انصاف کے بجائے ظلم کی داستان رقم ہوئی۔

    پولیس کے مطابق، یہ واقعہ ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا جب عادل نامی شخص کے بھانجے کو ملزم کی بیٹی کے ساتھ ’نازیبا حرکات‘ کرتے ہوئے پایا گیا۔ معاملہ جرگے کے سامنے آیا تو عادل کے بھانجے پر چھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم، ملزم نے عادل پر دباؤ ڈالا کہ ’میری بیٹی کی عزت آپ کے گھر میں خراب ہوئی ہے‘۔ اس کے بعد مقامی پنچایت نے عادل کو بُلا کر زبردستی اس کی 13 سالہ بیٹی کو ونی کرنے کا بیان تحریر کروایا۔

    پنچایت کے فیصلے کے مطابق، عادل کی بیٹی کی ملزم کے بیٹے سے منگنی کر دی گئی اور جلد نکاح اور رخصتی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ عادل نے پنچایت کے اس فیصلے کو دل برداشتہ ہو کر قبول کیا اور آخرکار زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔

    سوشل میڈیا پر عادل کا ایک آڈیو پیغام بھی وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ اپنی بیٹی کے ونی کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا، ’ہمارا کوئی قصور نہیں تھا، میں نے انھیں نہیں بخشا، آپ بھی انھیں چھوڑنا نہیں۔‘ عادل نے الزام لگایا کہ انھیں زبردستی اٹھا کر لے جایا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ انھوں نے کہا، ’میری بیٹی پر کوئی آنچ نہ آئے، میں قربان ہو جاؤں۔‘

    خیبر پختونخوا پولیس نے اس واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو ہدایات جاری کیں۔ پولیس کے مطابق، کمسن بچی کو بازیاب کر کے اس کے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عادل سے جو سات لاکھ روپے لیے گئے تھے، وہ بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    ونی یا سوارہ ایک ایسی ظالمانہ رسم ہے جو صدیوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رائج ہے۔ اس رسم کے تحت دو خاندانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے ایک لڑکی کو بطور جرمانہ دوسرے خاندان کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ یہ رسم نہ صرف لڑکی کی مرضی کے خلاف ہوتی ہے بلکہ اسے ایک ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

    پاکستان میں ونی کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن دور دراز علاقوں میں یہ رسم اب بھی جاری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے 27 اکتوبر 2021 کو سوارہ کی رسم کو اسلامی شریعت کے منافی قرار دے دیا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ رسم جاری ہے۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کب تک معصوم لڑکیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے گا؟ کب تک پنچایت کے نام پر انصاف کے بجائے ظلم کی داستانیں رقم ہوتی رہیں گی؟ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی ظالمانہ رسومات کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں اور معصوم بچیوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے کام کریں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر مسلح افراد کی فائرنگ،ڈرائیور زخمی
    Next Article کوئٹہ میں جعفرایکسپریس پر نامعلوم افراد کا حملہ
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    معیشت میں بہتری آئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح، وزیراعظم شہباز شریف

    جون 10, 2026

    مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید

    جون 10, 2026

    پشاور: حسن خیل میں دہشتگردوں سے مقابلے میں 6 ایف سی اہلکار شہید

    جون 9, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا

    جون 10, 2026

    شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری

    جون 10, 2026

    فضل الٰہی کون ہیں؟ میں انہیں جانتی تک نہیں، مجھ سے منسوب بیان من گھڑت ہے، علیمہ خان

    جون 10, 2026

    پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    جون 10, 2026

    معیشت میں بہتری آئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح، وزیراعظم شہباز شریف

    جون 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.