Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!
    • وزیرِاعظم شہبازشریف کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو ٹیلیفون ، کامیابی پر مبارکباد
    • ویزا پالیسیوں میں سختی، جعلی ڈگریوں کے سکینڈلز، بیرون ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں بڑی کمی
    • افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان
    • اس سال بھی عازمین حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اقدام کررہی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف
    • خودمختار ساوی کی دکھی انسانیت کے لیے خدمات قابلِ تحسین اور مثالی ہیں، مولانا ارشد قریشی
    • پی ٹی آئی کا پشاور موٹروے ٹول پلازہ پر احتجاج، ہر قسم کی ٹریفک معطل
    • بنوں میں مسلح افراد کا حملہ، پولیس اہلکار اغوا، گھر کو آگ لگا دی گئی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی
    Uncategorized

    ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی

    مارچ 11, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    "Father Ends Life After Daughter Forced into Vani"
    "ونی کی بھینٹ چڑھی معصوم بچی اور باپ کی خودکشی: پنچایت کے ظالمانہ فیصلے نے خاندان کو تباہ کر دیا"
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا: ایک باپ نے پنچایت کے ظالمانہ فیصلے کے بعد اپنی 13 سالہ بیٹی کو ’ونی‘ کرنے کے فیصلے کو برداشت نہ کر سکا اور زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ واقعہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں بگوانی میں پیش آیا، جہاں پنچایت کے نام پر انصاف کے بجائے ظلم کی داستان رقم ہوئی۔

    پولیس کے مطابق، یہ واقعہ ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا جب عادل نامی شخص کے بھانجے کو ملزم کی بیٹی کے ساتھ ’نازیبا حرکات‘ کرتے ہوئے پایا گیا۔ معاملہ جرگے کے سامنے آیا تو عادل کے بھانجے پر چھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم، ملزم نے عادل پر دباؤ ڈالا کہ ’میری بیٹی کی عزت آپ کے گھر میں خراب ہوئی ہے‘۔ اس کے بعد مقامی پنچایت نے عادل کو بُلا کر زبردستی اس کی 13 سالہ بیٹی کو ونی کرنے کا بیان تحریر کروایا۔

    پنچایت کے فیصلے کے مطابق، عادل کی بیٹی کی ملزم کے بیٹے سے منگنی کر دی گئی اور جلد نکاح اور رخصتی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ عادل نے پنچایت کے اس فیصلے کو دل برداشتہ ہو کر قبول کیا اور آخرکار زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔

    سوشل میڈیا پر عادل کا ایک آڈیو پیغام بھی وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ اپنی بیٹی کے ونی کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا، ’ہمارا کوئی قصور نہیں تھا، میں نے انھیں نہیں بخشا، آپ بھی انھیں چھوڑنا نہیں۔‘ عادل نے الزام لگایا کہ انھیں زبردستی اٹھا کر لے جایا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ انھوں نے کہا، ’میری بیٹی پر کوئی آنچ نہ آئے، میں قربان ہو جاؤں۔‘

    خیبر پختونخوا پولیس نے اس واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو ہدایات جاری کیں۔ پولیس کے مطابق، کمسن بچی کو بازیاب کر کے اس کے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عادل سے جو سات لاکھ روپے لیے گئے تھے، وہ بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    ونی یا سوارہ ایک ایسی ظالمانہ رسم ہے جو صدیوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رائج ہے۔ اس رسم کے تحت دو خاندانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے ایک لڑکی کو بطور جرمانہ دوسرے خاندان کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ یہ رسم نہ صرف لڑکی کی مرضی کے خلاف ہوتی ہے بلکہ اسے ایک ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

    پاکستان میں ونی کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن دور دراز علاقوں میں یہ رسم اب بھی جاری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے 27 اکتوبر 2021 کو سوارہ کی رسم کو اسلامی شریعت کے منافی قرار دے دیا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ رسم جاری ہے۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کب تک معصوم لڑکیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے گا؟ کب تک پنچایت کے نام پر انصاف کے بجائے ظلم کی داستانیں رقم ہوتی رہیں گی؟ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی ظالمانہ رسومات کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں اور معصوم بچیوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے کام کریں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر مسلح افراد کی فائرنگ،ڈرائیور زخمی
    Next Article کوئٹہ میں جعفرایکسپریس پر نامعلوم افراد کا حملہ
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!

    فروری 13, 2026

    وزیرِاعظم شہبازشریف کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو ٹیلیفون ، کامیابی پر مبارکباد

    فروری 13, 2026

    متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع کردی

    فروری 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!

    فروری 13, 2026

    وزیرِاعظم شہبازشریف کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو ٹیلیفون ، کامیابی پر مبارکباد

    فروری 13, 2026

    ویزا پالیسیوں میں سختی، جعلی ڈگریوں کے سکینڈلز، بیرون ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں بڑی کمی

    فروری 13, 2026

    افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان

    فروری 13, 2026

    اس سال بھی عازمین حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اقدام کررہی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف

    فروری 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.