Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اپریل 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم کی جانب سے وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت
    • وزیراعظم نے پی ایس ایل کے پلے آف میچز میں بھی تماشائیوں کو سٹیڈیم آنے کی اجازت دیدی
    • شرح سود میں ایک فیصد اضافہ، 10.5 سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی گئی
    • پاکستان اور چین کے درمیان تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، صدر آصف علی زرداری کی شرکت
    • مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی کارروائیاں عروج پر، پہلگام فالس فلیگ کے مذموم مقاصد بے نقاب
    • پاک فوج اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کی کاوشوں سے پارا چنار ایئرپورٹ دوبارہ فعال، آپریشنل لینڈنگ اور ٹیک آف ٹرائلز کا کامیاب انعقاد
    • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا جنوبی وزیرستان میں خوارجیوں کی دراندازی ناکام بنانے پر پاک فوج کو خراجِ تحسین
    • پی ایس ایل فائنل: ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا حل ضروری ہے، جے شکر
    اہم خبریں

    دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا حل ضروری ہے، جے شکر

    اکتوبر 16, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Addressing issues like terrorism, separatism and extremism is essential, says Jay Shukhar
    دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا حل ضروری ہے، جے شکر
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:بھارتی  وزیر  خارجہ جے شنکر نے   ایس سی او کانفرنس سے خطاب کے دوران  عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور  باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا  ہے  ۔

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس سے بھارتی  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو ایس سی او اجلاس کی میزبانی پر مبارکباد دی۔ جے شنکر نے عالمی چیلنجنگ منظر نامے پر روشنی ڈالی اور تنظیم کے ارکان پر زور دیا کہ وہ ایس سی او کے چارٹر خاص طور پر باہمی اعتماد، علاقائی تعاون اور تنازعات کی روک تھام کے اس کے بنیادی مقاصد پر غور کریں۔

    جے  شنکر  کا  کہنا  تھا  کہ  ہمارا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ دو بڑے تنازع جاری ہیں جن کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کورونا نے وبا نے ترقی پذیرممالک کو بری طرح متاثرکیا۔ ایس سی او کے رکن ممالک کو قرضوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

    بھارتی خارجہ وزیر نے  خطے میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کے حل پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایس سی او کے چارٹر کو موجودہ صورتحال میں دیکھا جائے تو ان تینوں سے نمٹنے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان چیلنجز کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دیانت داری سے بات چیت ضروری ہے۔ باہمی اعتماد کی کمی یا ناکافی تعاون کے باعث اگر ہمسایوں کے تعلقات اور دوستی اچھی نہیں تو اس کی وجوہات کا پتا لگانا اور ان وجوہات کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔

    جے شنکر نے اپنے خطاب کے دوران علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والے یکطرفہ ایجنڈوں کے خلاف بھی خبردار کیا اور کہا کہ جو ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، اس سے خطے کو  بہت فائدہ پہنچے گا۔

    جے شنکر کی تقریر نے عالمی نظم و نسق میں زیادہ سے زیادہ کردار کے لیے ہندوستان کی خواہشات کا  ذکر  بھی  کیا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل ہے، جس کی پاکستان نے مخالفت کی۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر حقیقی پیشرفت اس کے بانی اصولوں کے ساتھ پختہ عزم اور دو طرفہ تناؤ کو تعمیری انداز میں حل کرنے پر منحصر ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی تجزیہ کاروں نے شنگھائی تعاون تنظیم  کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی حالیہ تقریر کو سفارتی انداز اور انتخابی بیانیے کا مرکب قرار دیا ۔ جبکہ جے شنکر نے ایس سی او کی پاکستان کی صدارت کو تسلیم کیا، ان کے ریمارکس میں دہشت گردی کے بارے میں جانی پہچانی تنقیدیں ضرور شامل تھیں۔

    تجزیہ کار کہتے ہیں کہ "تین برائیوں” کے بار بار حوالہ جات یعنی دہشت گردی، علیحدگی پسندی، اور انتہا پسندی کو بھارت کے اپنے اندرونی چیلنجز جیسے کشمیر اور منی پور جیسے مسائل کو حل کیے بغیر سرحد پار کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    مزید برآں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر جے شنکر کے زور کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کی درپردہ مخالفت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو پاکستان میں شامل علاقائی منصوبوں کے خلاف ہندوستان کی دیرینہ مزاحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ناقدین نوٹ کرتے ہیں کہ علاقائی تعاون کے لیے ہندوستان کی وکالت جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کی مخالفت اور پاکستان کے ساتھ تجارت پر اس کی پابندیوں سے سخت تضاد رکھتی ہے، جس سے منتخب علاقائیت کا نمونہ ظاہر ہوتا ہے۔

    تجزیہ کار وں کے مطابق جے شنکر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ عالمی سطح پر ہندوستان کے وسیع تر عزائم کے مطابق ہے، لیکن پاکستان اسے بین الاقوامی گورننس ڈھانچے میں غیر متناسب اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔

    تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر حقیقی تعاون کے لیے ہندوستان کو صرف کثیرالجہتی فورمز پر انحصار کرنے کے بجائے دیرینہ دوطرفہ تناؤ کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مخلصانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشنگھائی تعاون تنظیم اجلاس،رکن ممالک کا تنازعات حل کرنے کا عزم ،نئے اقتصادی ڈا ئیلاگ پر اتفاق ،مشترکہ اعلامیہ جاری
    Next Article دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کا کھیل ختم، انگلینڈ نے 6 وکٹ پر239 رنز بنالیے
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    وزیراعظم کی جانب سے وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت

    اپریل 27, 2026

    شرح سود میں ایک فیصد اضافہ، 10.5 سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی گئی

    اپریل 27, 2026

    پاک فوج اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کی کاوشوں سے پارا چنار ایئرپورٹ دوبارہ فعال، آپریشنل لینڈنگ اور ٹیک آف ٹرائلز کا کامیاب انعقاد

    اپریل 27, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم کی جانب سے وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت

    اپریل 27, 2026

    وزیراعظم نے پی ایس ایل کے پلے آف میچز میں بھی تماشائیوں کو سٹیڈیم آنے کی اجازت دیدی

    اپریل 27, 2026

    شرح سود میں ایک فیصد اضافہ، 10.5 سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی گئی

    اپریل 27, 2026

    پاکستان اور چین کے درمیان تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، صدر آصف علی زرداری کی شرکت

    اپریل 27, 2026

    مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی کارروائیاں عروج پر، پہلگام فالس فلیگ کے مذموم مقاصد بے نقاب

    اپریل 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.