Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, مارچ 26, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ایس ایل 11 کے افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز نے حیدرآباد کنگزمین کو 69 رنز سےشکست دیدی
    • سول و عسکری قیادت کا ملکی معیشت، توانائی اور سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق
    • ووٹرز کا سیاسی وژن: گلگت بلتستان کے مستقبل کی تشکیل
    • حکومت پاکستان کے کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس
    • کوئی سیاسی جماعت یا شخصیت ملک سے مقدم نہیں ہو سکتی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
    • کم عمری کی شادی پر سزا ہوسکتی ہے، نکاح ختم نہیں ہوسکتا، آئینی عدالت کا فیصلہ
    • اپنا گھر ہر شہری کا حق ، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیرِ اعظم شہبازشریف
    • امریکی تجاویز مسترد، ایران نے جنگ بندی کیلئے اپنی 5 شرائط پیش کردیں
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نیٹو کے ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں میں، دہشت گردی میں اضافہ،ماہرین
    اہم خبریں

    نیٹو کے ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں میں، دہشت گردی میں اضافہ،ماہرین

    جنوری 14, 2025Updated:جنوری 14, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism and NATO Weapons
    دہشت گردی اور نیٹو ہتھیار
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ رپورٹ "پاکستان کا جامع قومی سلامتی پروفائل 2024” انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش کی گئی۔ اس تقریب میں سفارتکاروں، تھنک ٹینکس کے نمائندوں، پالیسی ماہرین، اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ رپورٹ میں پاکستان کے سلامتی کے حالات، دہشت گردوں کی بدلتی ہوئی حکمت عملیوں، اور انسداد دہشت گردی کی تدابیر کا جائز

    سابق نگران وزیرِاعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ نیٹو کے چھوڑے گئے ہتھیار اور آلات ہیں جو اب دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کہا، "پاکستان اس خطے کو ایسے حالات میں نہیں چھوڑ سکتا جیسے امریکہ نے افغانستان کو چھوڑا تھا۔ اگر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک صدی تک بھی لڑنا پڑے تو ہم لڑیں گے۔ یہ صرف دہشت گردوں کے خلاف جنگ نہیں بلکہ استحکام کی جدوجہد ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا، "2014 میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوا تھا بلکہ دہشت گرد افغانستان منتقل ہو گئے تھے۔ جیسے ہی انہیں موزوں ماحول ملا، وہ دوبارہ حملہ آور ہو گئے۔ ہمیں دہشت گردوں کے لیے جواز پیدا کرنے کی روش کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔”

    انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر، سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے اور پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کے دل اور دماغ جیتنا ضروری ہے۔”

    پی آئی سی ایس ایس کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے دہشت گرد گروہوں کی حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "اگرچہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے نظریات اور مقاصد مختلف ہیں، لیکن وہ ایک جیسی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، مثلاً عوامی مقامات پر اپنی موجودگی کا مظاہرہ کرنا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید ان گروہوں کا کوئی مشترکہ منصوبہ ساز یا ہینڈلر موجود ہے۔ مزید یہ کہ ان کے میڈیا ونگز روز بروز زیادہ جدید ہو رہے ہیں، جو ان کے پروپیگنڈے کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔”

    پی آئی سی ایس ایس کے ریسرچ ڈائریکٹر گل داد نے مغربی سرحد پر بڑھتے ہوئے سلامتی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کی پوری مغربی سرحد مختلف دہشت گرد گروہوں کی زد میں ہے۔ یہ دہشت گرد پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں دوبارہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔”

    اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر، ناصر قریشی نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی رپورٹس جیسے کہ "پاکستان کا جامع قومی سلامتی پروفائل 2024” کاروباری برادری کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ رپورٹس ہمیں موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اپنی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کرنے میں مدد دیتی ہیں۔”

    تقریب کا اختتام پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملیوں اور عالمی تعاون کی اہمیت پر مباحثے کے ساتھ ہوا۔ "پاکستان کا جامع قومی سلامتی پروفائل 2024” پالیسی سازوں، سلامتی کے ماہرین، اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے جو پاکستان کے بدلتے ہوئے سلامتی چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleآرمی چیف کا ملک میں امن خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان
    Next Article فلمساز سروربھٹی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    سول و عسکری قیادت کا ملکی معیشت، توانائی اور سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

    مارچ 26, 2026

    حکومت پاکستان کے کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس

    مارچ 26, 2026

    کوئی سیاسی جماعت یا شخصیت ملک سے مقدم نہیں ہو سکتی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    مارچ 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ایس ایل 11 کے افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز نے حیدرآباد کنگزمین کو 69 رنز سےشکست دیدی

    مارچ 26, 2026

    سول و عسکری قیادت کا ملکی معیشت، توانائی اور سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

    مارچ 26, 2026

    ووٹرز کا سیاسی وژن: گلگت بلتستان کے مستقبل کی تشکیل

    مارچ 26, 2026

    حکومت پاکستان کے کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس

    مارچ 26, 2026

    کوئی سیاسی جماعت یا شخصیت ملک سے مقدم نہیں ہو سکتی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    مارچ 26, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.