Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » عمران خان کا سب سے بڑا المیہ سیاست میں غیر سیاسی ہونا ہے!
    بلاگ اپریل 15, 2025

    عمران خان کا سب سے بڑا المیہ سیاست میں غیر سیاسی ہونا ہے!

    Facebook Twitter Email
    Imran Khan's biggest tragedy is being non political in politics
    سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا, پاکستان کے نوجوانوں کو بجائے نظام کے انہیں ریاست کے خلاف کھڑا کردیا گیا۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی خصوصی تحریر:۔

    سیاست وہ واحد مضمون ہے جو بیک وقت آرٹ اور سائنس ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان نے اسے بھی کھیل سمجھ لیا تھا اور اپنے زورِ بازو پر آخری بال تک لڑنے کا تہیہ کیے ہوئے تھا۔ اگر سیاست کھیل ہے تو خان صاحب سے بھی اس کھیل کے بڑے مہا کھلاڑی موجود ہیں۔ خان صاحب بال رگڑتے رہے اور اگلے وکٹیں اُکھاڑ کر نکل گئے۔ بلاشبہ خان صاحب بقول ان کے ایک گیند پر دو وکٹیں لیں گے اور وہ مسلسل ویسے ہی گیندیں بھی پھینک رہے ہیں مگر میدان خالی ہے۔ کیچ کرنے کے لیئے کوئی رہا نہیں ہے۔ گیارہ کے گیارہ کھلاڑی بلکہ بارہواں کھلاڑی بھی غائب ہے۔

    بیچاری علیمہ خان بارہویں کھلاڑی کی جگہ پانی دیتے دیتے اور پسینہ پونچھتے پونچھتے تھک گئی ہے۔ آج بے سروسامانی کے عالم میں انہیں تن تنہا ایک فٹ پاتھ پر فقیرنی کی طرح بیٹھا ہوا دیکھا، تو بخدا بہت دکھ ہوا۔ اس دکھ سے بھی زیادہ جب عمران خان نے تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین پر حملے کیے تھے۔ جب انہوں نے سب کو چور، ڈاکو اور لٹیرے ثابت کیا تھا۔ اس دکھ سے بھی زیادہ دُکھی ہوا تھا جب عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کی داڑھی اور محمود خان اچکزئی کی چادر کا مذاق اُڑایا تھا۔ سچ کہوں تو پختونخوا کے گیارہ سالہ تباہی اور بربادی کا اتنا دکھ نہیں ہوا تھا جتنا علیمہ خان کا ہوا۔ پشتون سماج کی روایات، اخلاق اور سماجی ڈھانچے کا مذاق اُڑایا گیا۔ سیاسی نظام کو منہدم کیا گیا۔ اکابرین کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ادارے ختم کر دیے گئے۔ حجرہ و مسجد سے لوگوں کو منحرف کروایا گیا۔ سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا۔ پاکستان کے نوجوانوں کو بجائے نظام کے ریاست کے خلاف کر دیا گیا۔

    آرمی چیف کو عوام کا باپ بنا دیا گیا اور پھر اسی باپ کو بچوں سے گالیاں دلوا کر اولادوں کو حرامی قرار دے دیا گیا۔ سیاسی نظام کے انہدام کے بعد جو خلا پیدا ہوا، اس خلا کو بھرنے کے لیے ایک مادر پدر آزاد نئے سیاسی ایلیٹ کلاس کو تخلیق کرتے ہوئے اس خلا کو گوبر اور بھوسے سے بھر دیا گیا۔ ان لوگوں نے عمران خان کی بھرپور مدد کی جو لوگ آج اس کا ہر نقش مٹانے کی ہر کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان یوں ہی راتوں رات مہاتما نہیں بنا تھا۔ ریاست کے اعلیٰ دماغوں نے بےشمار قومی دولت خرچ کرکے عمران خان میں ہوا بھری تھی۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کے پیچھے پورا پاکستان، خصوصاً نوجوان طبقہ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ایلیٹ کلاس اور پنجاب کو سیاست میں متحرک کر چکا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے گھروں میں ہاؤس ہولڈ نام ہے۔ بلاشبہ عمران خان نے اپنے ساتھ ساتھ ریاست، سیاست اور ریاستی اداروں کو بھی ننگا کیا۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے نوجوانوں کو طاقتوروں کے سامنے سوال اُٹھانا، گالی بکنا اور گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ دیا مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی آج وہ تنہا ہے۔

    خان صاحب کی تنہائی کی وجہ اُس کا غیر سیاسی، غیر سائنسی، غیر نظریاتی اور غیر تنظیمی ہونا ہے۔ اُس کی تنہائی اُس کا غرور و تکبر، نرگسیت، نامردم شناسی اور خود کو عقلِ کُل سمجھنا اور اپنے عشق میں مبتلا ہونا ہے۔ عمران خان نے کبھی بھی پارٹی تنظیموں پر توجہ نہیں دی، اُس نے طاقت کے مرکز کو صرف اپنی ذات میں مرتکز کیے رکھا۔ تنظیم سازی نہ جمہوری تھی اور نہ خود انتخابی، موزوں لوگوں کی ہوئی تھی۔ نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی تربیت کارکنان و لیڈران کے سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی۔ سٹیٹس کو کے خلاف انقلاب کے طوفانی نعروں میں سٹیٹس کو کے نمائندوں کو انتخابی ٹکٹ، وزارتیں اور پارلیمانی عہدے حوالے کیے۔ پارٹی اور ملک کو انقلابی بنائے بغیر، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی۔ بغاوت ناکام ہو گئی اور خان صاحب بجائے انقلابی کے باغی قرار دیے گئے۔ انقلابی واپس مڑ کر آ سکتے ہیں مگر باغی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔

    دنیا بھر کے انسان "ہیرو ورشپ” کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستانی کوئی الگ مخلوق نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، باچا خان اور دیگر کئی راہنماؤں کو آج کی نسل کے نوجوانوں نے نہیں دیکھا تھا مگر آج بھی ان کے نام پر دار پر چڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کی تو کہانی ہی الگ ہے۔ وہ تو لیونگ لیجنڈ ہے۔ وہ تو کم از کم ایک صدی پاکستانیوں کے دل و دماغ میں رہے گا۔ تو کیا اُس کے نام پر وہ لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں گے جو اُسے تنہا چھوڑ چکے ہیں؟ نہ تو امریکہ خان صاحب کو چھڑانے آئے گا اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کوئی سمجھوتہ کرے گی۔ رہ گئے سیاسی خانوادے تو وہ تو خان صاحب کے قل کے انتظار میں دبلے ہوتے جا رہے ہیں۔ اب بھی بچت کی صورت نکل سکتی ہے مگر خان صاحب کا المیہ یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے غلطیوں کے گردان پر یقین رکھتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ایس ایل 10، لاہور قلندرز نے کراچی کنگز 65 رنز سے شکست دیدی
    Next Article خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب آنے کا خدشہ ہے، پی ڈی ایم اے کا انتباہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.