Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
    • پاکستان نے آئی ٹی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا
    • آلودگی سے پاک بندرگاہیں محفوظ نیویگیشن کیلئے ناگزیر، وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 2610 پوائنٹس بڑھ گیا
    • ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی
    • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو، خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال
    • گنڈا سنگھ بارڈر قصور، معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار تقریب
    • اعتماد سازی اقدام کے تحت ایرانی جہاز کے عملے کے 22 ارکان کو پاکستان منتقل کردیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جب میں مر رہا تھا!
    بلاگ

    جب میں مر رہا تھا!

    مئی 4, 2025Updated:مئی 4, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    When I was dying
    اُنہوں نے اپنے ہی گھر میں، اپنی اولاد کے درمیان، سکون سے آخری سانس لی اور میں… جیسے اس دن مر گیا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    آفاقیات

    پشاور سے رشید آفاق کی خصوصی تحریر: ۔

    یہ ایک سال، چار مہینے اور تین دن پہلے کی بات ہے۔ اُس دن میں صبح معمول سے بھی پہلے جاگ گیا۔ اگرچہ میں ہمیشہ خود ہی جاگتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ زندگی میں کبھی کسی نے مجھے جگایا ہو، مگر اُس دن کی صبح کچھ الگ تھی۔ دل گواہی دے رہا تھا کہ کچھ غیرمعمولی ہونے والا ہے، جیسے قیامت آ جائے یا قبر میں اُترنے کا وقت ہو۔

    حسبِ معمول میں نے چرند و پرند کے لیے خوراک اور پانی رکھا، مگر دل بےحد بوجھل تھا۔ سوچا دفتر جاؤں یا نہیں؟ بالآخر دفتر فون کر کے چھٹی لے لی۔ اچانک پورے جسم میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، جو جیسے مختلف زاویوں سے آ کر دل میں اُترتی رہی۔ سمجھ نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ سوچے بغیر ہلکا سا ناشتہ کیا اور سیدھا ہسپتال چلا گیا،جہاں امی جی پچھلے تیرہ دنوں سے داخل تھیں۔

    جب ان سے ملا تو ہمیشہ کی طرح مسکرا کر میرا استقبال کیا۔ کہنے لگیں: “آگئے زامنی؟” میں نے ان کا ماتھا چوما اور کہا: “ہاں، آج سارا دن تمہارے ساتھ ہی رہوں گا۔” انہوں نے کہا: “نہیں، تم دفتر جاؤ۔” مگر میں نے انکار کیا۔

    دو سال پہلے جب ہم نے انہیں ایل آر ایچ میں داخل کیا تھا، تو ڈسچارج کے وقت انہوں نے کہا تھا: “ان دنوں میں میں اپنی موت کی دعا کرتی رہی۔” میں نے حیرت سے پوچھا: “ایسا کیوں؟” بولیں: “جب تم دفتر سے تھکے ہارے میرے لیے آتے، تو میرا دل کرتا کہ مر جاؤں، تاکہ تمہیں یہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔”

    وہ واقعی ایک خوددار عورت تھیں۔ اُس دن ڈاکٹروں نے کہا کہ امی کو شام تک گھر بھیجا جا سکتا ہے۔ ہم سب بہت خوش ہوئے۔ عزیز جان صدقے کے لیے بکرے لے آئے،لیکن پھر اسی ڈاکٹر نے کہا کہ نہیں تین چار دن اسے مزید ہسپتال میں رہنا ہوگا،ہمارے لئے یہ مشکل تھا کہ اب اسے کون بتائیگا کہ مزید کچھ دن یہاں رہینگے،ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر آفریدی کو میں نے صورتحال بتائی تو انہوں نے دس بارہ ڈاکٹروں کو بلایا، وہ خود بھی آگئے پھر ڈاکٹروں کی مشاورت سے ہم اسے گھر لائے،راستے میں میری بیوی نے بتایا کہ دوائی بھی ساتھ کسی میڈیکل سٹور سے لے لو،میں نے کہا کہ وہ بعد میں،میں گھر سے آکر لے لونگا میں نہیں چاہتا کہ وہ ایمبولینس میں انتظار کریں،

    جب شام کو انہیں گھر لایا گیا تو گھر کا ہر فرد خوشی سے جھوم اٹھا۔ پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں، سب سے ملیں۔ میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے دوا اور کھانا دیا۔ وہ بولیں: “تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو، سارا دن تھکے ہوئے ہو۔”

    رات دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ساڑھے چار بجے انہوں نے میرے تیسرے بھائی گوہر جان کو کہا کہ جا کر سو جاؤ۔ جب وہ نہ مانے، تو انہیں غصے سے کہا: “باہر جاؤ اور سو جاؤ۔” گویا انہیں معلوم تھا کہ وہ آخری لمحے میں ہیں، اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ گوہر جان اُن کے سامنے یہ منظر دیکھے۔

    گوہر جان بعد میں کہتا تھا کہ وہ کمرے کے دروازے کے قریب ہی بیٹھا رہا۔ چند منٹ تک وہ کلمہ دہراتی رہیں اور پھر خاموش ہو گئیں۔

    جب میں دوڑ کر اُن کے کمرے میں گیا، تو ان کی روح پرواز کر چکی تھی،
    پھر اگلا مرحلہ مجھے بتانے کا تھا،ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اگر ان کی منہ یا ناک سے خون بہنا شروع ہوجائے تو پھر ہسپتال لانا ورنہ ایک ہفتے کے بعد ہی لانا،
    میری ایک سسٹر نے آکر مجھے بتایا کہ عزیز جان تمہیں ایک منٹ میں نیچے بلارہاہے اور میں آدھے منٹ میں امی جان کے کمرے میں پہنچا،مجھے لگا کہ وہ تکلیف میں ہیں لیکن پھر اچانک ان کا رنگ مجھے بہت پیلا لگا ان کی جسم کو ہاتھ لگایا تو وہ بہت ٹھنڈا تھا اور مجھے ایسا لگا جیسے جنوری کے اس مہینے میں کسی نے مجھے ہمالیہ میں گرایا ہے،میرا وجود سن ہوگیا،
    مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے مجھے جہنم میں دھکیل دیا ہو، یا جیسے میرے جسم میں آگ بھر دی ہو۔ میں ان کی چارپائی کے ساتھ گر گیا۔ تب جانا کہ وقت سے پہلے قیامت کیسے آتی ہے۔

    میں یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ ہستی، جس نے مجھے زندگی دی، جینا سکھایا،اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    وہ خوش نصیب تھیں کہ اُن کے تمام بچے اور عزیز اُن کے ساتھ تھے۔ اُنہوں نے اپنے ہی گھر میں، اپنی اولاد کے درمیان، سکون سے آخری سانس لی۔ اور میں… جیسے اس دن مر گیا۔

    لوگ تعزیت کے لیے آتے رہے، دعائیں دیتے رہے، مگر میرے اندر کا انسان شاید اسی دن دفن ہو چکا تھا۔ اب کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں سانس تو لے رہا ہوں،لیکن صرف سانس لینا ہی تو زندگی نہیں ہے،سانس تو درخت بھی لیتے ہیں، اپنی اپنی جگہ منجمد کھڑے۔ میں بھی ویسا ہی ہوں۔

    زندگی اور اس سے جڑی ساری رعنائیاں ہم سے رخصت ہو چکی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ امین

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleترک بحریہ کا جہاز خیر سگالی دورے پر کراچی بندرگاہ پہنچ گیا
    Next Article بھارتی جارحیت،پاکستان کا اقوام متحدہ سےباضابطہ رجوع کرنے کا فیصلہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا: وسائل سے مالا مال مگر معاشی حقوق پامال, تحریر: قریش خٹک

    مئی 4, 2026

    جدیدیت اور بے ساختہ خواہشات کا بوجھ !

    مئی 3, 2026

    آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ

    مئی 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

    مئی 4, 2026

    پاکستان نے آئی ٹی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا

    مئی 4, 2026

    آلودگی سے پاک بندرگاہیں محفوظ نیویگیشن کیلئے ناگزیر، وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری

    مئی 4, 2026

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 2610 پوائنٹس بڑھ گیا

    مئی 4, 2026

    ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    مئی 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.