Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کیلئے ویزا اجرا بحال کر دیا، رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواستیں قبول
    • لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، متعدد دہشت گرد ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ
    • ایس ای سی پی نے کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ قائم کر دیا
    • یومِ شہدائے پولیس: وزیراعظم شہباز شریف کا پولیس شہدا کو خراجِ عقیدت، اہلِ خانہ کی مکمل معاونت کا اعادہ
    • پاکستان نے پہلی اننگز دو وکٹوں پر 266 رنز بنا لیے، ویسٹ انڈیز کی 78 رنز کی برتری باقی
    • ایران۔امریکہ مذاکرات کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست
    • ایران کا کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے پاکستان سے تجارتی تعاون بڑھانے کا عزم
    • دوسرا ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان کے خلاف ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں 344 رنز بنا کر آؤٹ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان میں ذیابیطس کا طوفان: ایک میٹھی سازش کی کڑوی حقیقت
    بلاگ

    پاکستان میں ذیابیطس کا طوفان: ایک میٹھی سازش کی کڑوی حقیقت

    اگست 11, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Diabetes Storm in Pakistan: The Bitter Truth of a Sweet Conspiracy
    میٹھے مشروبات کی فروخت پر پابندی اور بچوں کے لیے صرف صحت مند خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانا، پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی خصوصی تحریر: ۔ 

    تقریباً ساٹھ سال پہلے پاکستان میں دکانوں کے باہر ٹھنڈے مشروبات رکھنے کے لیے بڑے بڑے ٹرنک رکھے جانے لگے ۔ پیپسی اور کوکا کولا جیسی کمپنیاں یہ ٹرنک دکانداروں کو مفت دیتی تھیں ۔ ان میں برف ڈالی جاتی، بوتلیں چمکتی ہوئی قطاروں میں سجی ہوتیں، اور یہ مشروب صرف ایک لذت نہیں بلکہ عیاشی اور سماجی رتبے کی علامت سمجھے جاتے ۔ مہمان آتے تو بچے دوڑ کر ٹھنڈی بوتل لاتے، اور یوں یہ کلچر خوشی اور وقار کا حصہ بن گیا ۔ مگر اس چمکدار شروعات کے پیچھے ایک خاموش کاروباری منصوبہ چھپا تھا، جس کا خمیازہ آج کروڑوں پاکستانی بھگت رہے ہیں ۔

    عالمی ادارہ برائے ذیابیطس کے مطابق آج پاکستان میں بالغ آبادی کا تقریباً 31 فیصد حصہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے، یعنی ساڑھے تین کروڑ سے زائد لوگ، اور یہ تعداد ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 7 کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے ۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 2 کروڑ پاکستانی ایسے ہیں جنہیں علم ہی نہیں کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں، جب تک پیچیدگیاں سامنے نہ آ جائیں ۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کو دنیا میں ذیابیطس کی شرح کے اعتبار سے پہلے نمبر پر لے آئے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں ذیابیطس پر براہِ راست اور بالواسطہ معاشی بوجھ کا تخمینہ 7 ارب امریکی ڈالر سالانہ لگایا جا رہا ہے، جو ہمارے قومی ہیلتھ بجٹ کا بڑا حصہ کھا رہا ہے ۔

    یہ سب محض اتفاق نہیں ۔ پچھلی نصف صدی میں خوراک کی عادات بدلنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی اپنائی گئی ۔ زیادہ شکر والے مشروبات، پراسیسڈ کھانے، اور چکنائی سے بھرے سنیکس عام کیے گئے ۔ مارکیٹنگ نے انہیں خوشی، جوانی اور کامیابی کی علامت بنا دیا ۔ جب لوگ آہستہ آہستہ بیمار ہونے لگے تو وہی ملٹی نیشنل کمپنیاں، جو مٹھاس بیچ کر مرض پھیلاتی تھیں، دوا ساز اداروں کے ساتھ مل کر انسولین، دوائیں اور علاج بیچنے لگیں ۔ یہ ایک ایسا بندوبست ہے جس میں بیماری ایک مستقل کاروبار بن جاتی ہے، پہلے مرض پیدا کرو، پھر علاج بیچو ۔

    یہ حکمت عملی صرف پاکستان میں نہیں اپنائی گئی ۔ میکسیکو میں 1980 کی دہائی میں سافٹ ڈرنکس کے فروغ کے بعد ذیابیطس کی شرح دوگنی ہو گئی ۔ امریکا میں 1960 سے 2020 کے درمیان فی کس چینی کی کھپت میں 300 فیصد اضافہ ہوا اور آج وہاں ذیابیطس پر سالانہ 327 ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں ۔ بھارت میں فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات کی یلغار نے گزشتہ 25 برسوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد چار گنا بڑھا دی ۔

    ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوڈ اینڈ ڈرگ مافیا کی یہ حکمت عملی ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے تحت چلتی ہے، جہاں فوڈ کمپنیاں صحت مند خوراک کے بجائے زیادہ منافع والی خوراک بیچتی ہیں، اور فارما انڈسٹری انہی بیماریوں کو ساری زندگی کا مستقل گاہک بنا لیتی ہے ۔

    ہماری موجودہ نسل اس جال میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔ ہر سال ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کے باعث پاکستان میں دو لاکھ سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ یہ صرف ایک صحت کا بحران نہیں بلکہ معاشی اور سماجی المیہ ہے ۔ علاج کا خرچ، روزگار کا نقصان، اور خاندان پر پڑنے والا نفسیاتی دباؤ، یہ سب ہمارے اجتماعی مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں فی کس شکر کی کھپت تقریباً 24 کلوگرام سالانہ ہے، جو عالمی صحت تنظیم کے تجویز کردہ معیار سے دو گنا زیادہ ہے ۔

    لیکن ابھی بھی وقت ہے کہ ہم راستہ بدل سکیں ۔ ہمیں اپنی غذا میں شکر کی مقدار کم کرنی ہوگی، قدرتی اور مقامی خوراک کو اپنانا ہوگا، اور جسمانی سرگرمی کو زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا ۔ یہ تبدیلی صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحفہ ہوگی ۔ کیونکہ اگر آج ہم نے کچھ نہ کیا تو کل ہمارے بچے بھی انہی بوتلوں کی چمک اور انہی بیماریوں کے اندھیرے میں پلیں گے ۔

    پاکستان میں ہیلتھ پالیسی کی ناکامی اور شوگر ٹیکس کی ضرورت: ۔
    پاکستان کی موجودہ ہیلتھ پالیسی ذیابیطس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ۔ ملک میں نہ تو شکر والے مشروبات پر بھرپور آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کی فروخت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں ۔ دنیا کے کئی ممالک ، جیسے میکسیکو، سعودی عرب، اور برطانیہ، نے شوگر ٹیکس نافذ کر کے شکر والے مشروبات کی کھپت میں نمایاں کمی کی ہے ۔ میکسیکو میں اس ٹیکس کے بعد پہلے ہی سال میں فروخت 12 فیصد کم ہو گئی ۔

    پاکستان میں بھی اگر فی لیٹر کم از کم 20 سے 25 روپے کا شوگر ٹیکس لگایا جائے، اور اس آمدنی کو صحت عامہ کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے، تو اس کے نتیجے میں نہ صرف کھپت کم ہوگی بلکہ حکومت کو اضافی آمدنی بھی حاصل ہوگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں اور عوامی مقامات پر میٹھے مشروبات کی فروخت پر پابندی، اور بچوں کے لیے صرف صحت مند خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانا، پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ۔

    یہ اقدامات وقتی طور پر سخت یا غیر مقبول لگ سکتے ہیں، مگر ان کے بغیر پاکستان آنے والے برسوں میں ذیابیطس کے عالمی دارالحکومت کے طور پر بدنام ہو سکتا ہے ۔ یہ صرف عوامی صحت نہیں بلکہ قومی معیشت اور بقا کا سوال ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے،صدر مملکت آصف علی زرداری
    Next Article ژوب میں آپریشن، مزید 3 دہشتگرد ہلاک، 4 روز میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 50 ہو گئی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کیلئے ویزا اجرا بحال کر دیا، رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواستیں قبول

    اگست 4, 2026

    لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، متعدد دہشت گرد ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ

    اگست 4, 2026

    ایس ای سی پی نے کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ قائم کر دیا

    اگست 4, 2026

    یومِ شہدائے پولیس: وزیراعظم شہباز شریف کا پولیس شہدا کو خراجِ عقیدت، اہلِ خانہ کی مکمل معاونت کا اعادہ

    اگست 4, 2026

    پاکستان نے پہلی اننگز دو وکٹوں پر 266 رنز بنا لیے، ویسٹ انڈیز کی 78 رنز کی برتری باقی

    اگست 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.